پوٹن اور سی آئی اے سربراہ نے ‘علاقائی تنازعات’ پر بات چیت کی ہے: کریملن کے ترجمان

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے ساتھ علاقائی تنازعات اور تعلقات کے بحران سے متعلق گفتگو کی ہے۔ یہ بات کریملن نے پیر کے دن بتائی ہے۔

امریکی سفارت خانے نے بتایا ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ، ولیم برنز نے صدر جوبائیڈن کی درخواست پر روس کا دو روزہ دورہ کیا،جس دوران انھوں نے چوٹی کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔

سی این این نے گزشتہ ہفتے رپورٹ دی تھی کہ برنز کو ماسکو روانہ کیا گیا ہے تاکہ وہ یوکرین کی سرحد کے قریب فوج کی مبینہ تعیناتی پر روس کو متنبہ کریں۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ روس میں اپنی ملاقاتوں کے بعدبرنز نےٹیلی فون پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی سے گفتگو کی۔

کریملن کے ترجمان نے پیر کے روز بتایا کہ پوٹن اور برنس نے باہمی تعلقات، ”علاقائی تنازعات” اور تعلقات کو لاحق سفارتی بحران سے متعلق گفت و شنید کی۔ انھوں نے مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

برنس 2005 سے 2008ء تک روس میں امریکہ کے سفیر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ماسکو کا ایسے وقت دورہ کیا ہے جب ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات کو شدید بحرانی صورت حال کا سامنا ہے۔

جنوری میں امریکی صدر بننے کے بعد بائیڈن نے پوٹن پر دباؤ بڑھایا ہے۔ مئی میں روس نے باضابطہ طور پر امریکہ کو ”غیر دوستانہ ملک” قرار دیا تھا۔

پینٹاگان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ یوکرین کی صورت حال پر غور سے نظر رکھے ہوئے ہے، ایسی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ روس یوکرین کی سرحد پر فوج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔

عام بیانات میں یوکرین نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے کہ روس فوجی دستوں کی تعیناتی میں اضافہ کر رہا ہے۔

یوکرین کی فوج کو روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کا سامنا ہے، جو اُس وقت سامنے آیا جب 2014ء میں ماسکو نے کرائمیا کا روس کے ساتھ الحاق کیا۔

اسی سال تشدد کی کارروائیوں میں اضافے کے بعد آنے والے موسم بہار کے دوران روس نے یوکرین کی سرحدوں پر 100،000 فوجی تعینات کردیے تھے، جس کے بعد تنازع میں شدت پیدا ہونے کے خدشات بڑھے۔ بعدازاں، کئیف کے مغربی اتحادیوں کے دباؤ کے نتیجے میں ماسکو نے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

Photo Credit : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/1/17/Vladimir_Putin_%282018-03-01%29_03_%28cropped%29.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.