‘پرویز مشرف کو جانے سے کوئی نہیں روک سکا تو آنے سے کون روک سکتا ہے’

خبریں

پاکستان کے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کی خرابیؐ صحت اور اُن کی ممکنہ وطن واپسی کا معاملہ ان دنوں پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کی مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، لہذٰا اگر وہ پاکستان واپس آتے ہیں تو حکومت اُنہیں سہولت دے۔

حال ہی میں سابق صدر کے انتقال کی قیاس آرائیوں کے بعد اُن کے خاندان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا سابق صدر کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ کئی روز سے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور زندگی کے مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

سابق صدر کے اہلِ خانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جس پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہیں اب وہ قابلِ علاج نہیں رہی۔

پاکستانی فوج نے بھی سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر کے اُن کی وطن واپسی میں ہر ممکن مدد کرنے کی پیش کش کی ہے۔

بعض حلقے پرویز مشرف کی وطن واپسی پر اعتراض اُٹھا رہے تو وہیں کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وطن واپسی کی اجازت ہونی چاہیے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف کیسز موجود ہیں جن میں انہیں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے لیکن پرویز مشرف کی صحت کے پیشِ نظر انہیں کسی کیس میں ضمانت ملنا مشکل نہیں ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود سنگین غداری کیس میں ان کی سزا معطل نہیں ہوئی کیوں کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے۔ جہاں اب بھی یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے۔

سابق فوجی افسران کا کہنا ہے کہ مشرف کے خلاف کیسز بے بنیاد ہیں جس میں انہیں سنے بغیر فیصلے سنائے گئے، لہذا پرویز مشرف کو وطن واپس آنے دیا جائے اور ان کے خلاف کیسز کو ان کی حالت بہتر ہونے پر دیکھا جائے۔

اس معاملہ پر بحث کے دوران پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں بھی ارکان نے متضاد رائے کا اظہار کیا ہے۔ بعض ارکان نے ان کی طبی حالت اور انسانی ہمدردی کے تحت ان کو آنے کی اجازت دینے کا کہا جب کہ بعض ارکان نے انہیں آئین شکنی کا مجرم قرار دیا ہے۔

‘سابق صدر کی وطن واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے’

ماہرِ قانون عمران شفیق ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ ان کے خلاف جو بھی کیسز ہیں وہ ابھی زیرالتوا ہیں، انہیں قانونی طور پر پاکستان آنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف سب سے بڑا کیس سنگین غداری کا تھا جس میں خصوصی عدالت نے اُنہیں سزائے موت سنائی تھی، لیکن لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے قیام کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔

اُن کے بقول بے نظیر بھٹو قتل کیس میں بھی پرویز مشرف اشتہاری قرار دیے جاچکے ہیں۔ ایک شخص کے اشتہاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے پاکستان پہنچنے پر گرفتار کرلیا جائے۔ لیکن ان کی طبی بنیادوں پر تمام کیسز میں ضمانت ممکن ہے۔ لہذا عین ممکن ہے کہ جب وہ پاکستان پہنچیں تو ان کی گرفتاری ظاہر کرکے ان کی رہائش گاہ یا اسپتال کو ہی سب جیل قرار دیا جائے اور عدالتوں میں ان کے وکیل اُن کی نمائندگی کریں۔

‘پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں اُن کے خلاف فیصلے سنائے گئے’

پاکستانی فوج کے سابق لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کہتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کے پاکستان آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

اُن کے بقول سابق صدر کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلہ پر بہت سے سوال ہیں۔ جسٹس وقار سیٹھ پر 200 دہشت گردوں کو رہا کرنے کا الزام تھا، اس کے علاوہ پرویز مشرف کو ان کی عدم موجودگی میں کیس چلا کر سزا سنائی گئی۔

امجد شعیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ کیس میں ان کی بیٹی مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف کیس چل رہا ہے لیکن نواز شریف کو اشتہاری قرار دے کر ان کے خلاف کیس کی سماعت روک دی گئی ہے۔

اُن کے بقول پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا سامنا تھا اور انہیں سنے بغیر ہی کیس مکمل کرکے انہیں سزا سنا دی گئی لہذا یہ کسی طور بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔

‘یہ سیاست نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے’

تجزیہ کار اور صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے میں سیاست کے بجائے اسے انسانی ہمدردری کی بنیاد پر دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پرویز مشرف کے خلاف کوئی کیسز موجود ہیں تو انہیں عدالتوں پر چھوڑدیا جائے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے بیان پر مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ نوازشریف کا بیان انسانی ہمدردی کے تحت دیا گیا بیان ہے جس کی میں تائید کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ نوازشریف نے ماضی کی تمام تلخیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ،اس سے ان کی سیاست کو نقصان نہیں فائدہ ہی پہنچے گا۔

سینیٹ اجلاس میں بحث

سابق صدر کی واپسی کے حوالے سے بدھ کو سینیٹ میں بھی بحث ہوئی جس میں بیشتر ارکان نے پرویز مشرف کی واپسی کی حمایت کی جب کہ بعض ارکان نے انہیں آئین توڑنے کا مجرم قرا ردیا ۔

اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کو وطن واپس لایا جاتا ہے تو بہتر ہے کہ جیلوں کے دروازے کھول دیں اور عدالتوں کو بند کردیں۔ پرویز مشرف 10 برس تک سیاہ و سفید کے مالک بن کر بیٹھے رہے اور آئین شکنی کی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پرویز مشرف زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، ان کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پرویز مشرف کے ملک میں واپس آنے سے متعلق فیصلہ ہم نہیں کریں گے یہ فیصلے کہیں اور ہوں گے، جب وہ باہر گئے تھے تو کیا آپ روک سکے تھے اور جب وہ واپس آئیں گے تو کیا آپ روک سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے ملک واپس آنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن سب کے ساتھ سلوک ایک جیسا ہونا چاہیے۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے نواز شریف کے بیان پر کہا کہ میاں صاحب نے شاید انہیں رعایت دے دی، میاں صاحب نے ذاتی حوالے سے بات کی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

سوشل میڈیا پر نواز شریف کے بیان کے بعد کئی افراد نے نواز شریف پر تنقید کی اور نوازمشرف بھائی بھائی کا ہیش ٹٰیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔

شاہد اقبال نامی صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مقدمات کا سامنا کرتے سیاست دانوں اور عام لوگوں کی طرح مشرف کو بھی عدالتوں اور قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، یہی عین انصاف ہے۔کچھ لو اور کچھ دو کی گندی سیاست اور مفادات کے نام پر قومی وقار کے سودے نامنظور۔

شمع جونیجو نے نوازشریف کے ٹویٹ کے جواب میں کہا کہ ایسا ٹویٹ لکھنے کے لیے نواز شریف جیسا حوصلہ چاہیے۔میاں صاحب۔۔۔ آپ عظیم ہیں لیکن عدالت نے مشرف صاحب کو سزا آئین توڑنے کی دی تھی آپ پر مظالم ڈھانے کی نہیں! قانون اندھا ہوتا ہے اور اُس کا پلڑا رحم سے بھاری نہیں ہو سکتا۔

تصویر کریڈٹ : https://cdn.i-scmp.com/sites/default/files/styles/768×768/public/d8/images/methode/2019/12/17/af0cc9d8-20a4-11ea-acfb-1fd6c5cf20a4_image_hires_164032.jpg?itok=JoA32U4g&v=1576572039