پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے آثار کیا خلیجی ممالک کی وجہ سے ہیں؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد حالیہ دنوں میں بہتری کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنر کے درمیان دو سال کے التوا کے بعد 23 مارچ کو نئی دہلی میں بالمشافہ ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

آبی مسائل پر بات چیت کی بحالی کو دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی ابتدا کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روایتی حریف ممالک کے تعلقات میں یہ بہتری سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پس پردہ کردار کے باعث پیدا ہوئی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کی عسکری قیادت نے 2003 کے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا مشترکہ اعلان کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا پاکستانی ہم منصب عمران خان کی کرونا وائرس سے صحت یابی کا ٹوئٹ اور پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ بیان انہی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری اور مسائل کے حل کے لیے تیسرے فریق کا کردار ادا کرنا مثبت ہے۔ کیوں کہ ماضی میں دونوں ملکوں کی ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

پاکستان کے سابق سفارت کار عبدالباسط کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت میں کوئی ملک ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے اگست 2018 کے بھارتی اقدام کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سفارت کاری میں زیادہ گنجائش نہیں رہی تھی۔ اس لیے ضروری تھا کہ کوئی تیسرا فریق ثالثی کا کردار ادا کرتا۔

ان کے بقول، “میرے لیے یہ حیرت کے ساتھ تشویش کی بات ہے کہ پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ کشمیر کی خودمختار حیثیت کی بحالی تک بھارت سے کسی سطح پر بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اگر خلیجی ممالک نے تنازعۂ کشمیر کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے تو سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے۔”

کونسل فار انڈین فارن پالیسی کے چیئرمین ڈاکٹر وی پی ویدک کہتے ہیں کسی نہ کسی ذریعے سے دونوں ملکوں کے مابین بات چیت کا آغاز ہونا اچھی پیش رفت ہے۔

ڈاکٹر ویدک کا بھی گمان ہے کہ بھارت اور پاکستان کا قریب آنا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول دونوں عرب ملکوں کے بھارت کے ساتھ تاریخ کے بہترین مراسم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت برسوں تک آپس کی دشمنی نہیں رکھ سکتے۔ دونوں ملک برسوں سے ساتھ ہیں اور انہیں ساتھ رہنا ہے۔ اس لیے امن میں ہی دونوں ملکوں کا مفاد ہے۔

‘دیکھنا ہوگا بھارت مسئلۂ کشمیر کے حل میں کتنا سنجیدہ ہے’

سابق پاکستانی سفیر عبدالباسط کہتے ہیں کہ تعلقات میں بحالی کے حالیہ اقدامات سے زیادہ پر امید نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ماضی میں یہ عمل متعدد بار تعطل کا شکار ہوتا رہا ہے۔

ان کے بقول بات چیت کو نتیجہ خیز تب ہی سمجھا جائے گا جب دونوں ملک تنازعۂ کشمیر کے حل کی جانب بڑھتے دکھائی دیں گے۔

عبدالباسط کہتے ہیں کہ بھارت چاہتا ہے کہ جموں کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف کمزور سے کمزور تر ہو اور وہ وقت چاہتا ہے کہ کشمیر میں اٹھائے گئے اپنے متنازعہ اقدامات کو مستحکم کرنے کے لیے وقت چاہتا ہے۔ اس لیے پاکستان کی قیادت کو محتاط انداز اپنانا ہو گا اور دیکھنا ہوگا کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔

‘تنازعۂ کشمیر کے حل کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے’

ڈاکٹر ویدک کے مطابق کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق نہیں نکل سکتا کیوں کہ وہ پرانی ہونے کے سبب لاگو ہونے کے قابل نہیں رہی۔ لہذا عمران خان اور نریندر مودی کو پرویز مشرف اور منموہن سنگھ کے اتفاق کردہ چار نکاتی حل کو آگے لے کر جانا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو درمیانی راستہ اپنانا ہو گا جس کے لے اُن کے بقول راہ ہموار ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر ویدک نے تجویز دی کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کے معاملے پر درمیانی راستہ اپنا لیں اور وسط ایشیائی راستہ کھول دیں تو یہ جنوبی ایشا کی ترقی کا فیصلہ ثابت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری چاہے گا کیوں کہ اسے افغانستان سے افواج کا انخلا چاہیے جس کے لیے وہ ایران اور روس سے بھی بات کر رہا ہے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ بڑے ملکوں کے اپنے مفاد ہوتے ہیں لہذا پاکستان اور بھارت کو اپنے ذاتی تعلقات میں بہتری کے لیے امریکہ یا کسی اور طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

تعلقات کی بحالی کے ماحول میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ افغان مذاکرات کے سلسلے میں رواں ماہ کے آخر میں تاجکستان میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس موقع پر بھارتی وزیرِ خارجہ ایس شنکر پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری چاہے گا کیوں کہ اسے افغانستان سے افواج کا انخلا چاہیے جس کے لیے وہ ایران اور روس سے بھی بات کر رہا ہے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ بڑے ملکوں کے اپنے مفاد ہوتے ہیں لہذا پاکستان اور بھارت کو اپنے ذاتی تعلقات میں بہتری کے لیے امریکہ یا کسی اور طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

تعلقات کی بحالی کے ماحول میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ افغان مذاکرات کے سلسلے میں رواں ماہ کے آخر میں تاجکستان میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس موقع پر بھارتی وزیرِ خارجہ ایس شنکر پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

Photo Credit : https://commons.wikimedia.org/w/index.php?search=File%3AIndia+Pakistan+Border+Wagha+%2815027737723%29.jpg&title=Special%3ASearch&profile=advanced&fulltext=1&advancedSearch-current=%7B%7D&ns0=1&ns6=1&ns12=1&ns14=1&ns100=1&ns106=1#/media/File:India_Pakistan_Border_Wagha_(15027737723).jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: