پاکستان کے کئی شہروں میں تعلیمی ادارے 11 اپریل تک بند، کرونا ویکسین کے نئے آرڈرز

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت کے باعث حکومت نے وائرس سے زیادہ متاثرہ شہروں میں تعلیمی ادارے 11 اپریل تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم نجی اسکول مالکان نے حکومتی فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔

تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔

فیصلے کے تحت لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، سرگودھا اور شیخوپورہ کے تمام سرکاری اور نجی تتعلیمی ادارے 11 اپریل تک بند رہیں گے۔

پاکستان کے وزیر تعلیم شفقت محمود نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ سندھ ،بلوچستان اور گلگت بلتستان میں کرونا کی شدت کم ہے۔

اُن کے بقول لاہور سمیت پنجاب کے چند اضلاع میں کرونا کا پھیلاؤ تشویش ناک ہے، خیبرپختونخوا کے کچھ اضلاع میں بھی کیسز زیادہ ہے۔ لہذٰا صوبائی حکومتیں اپنے صوبوں کے ان اضلاع میں اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کریں گی۔

خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، مردان، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، مالاکنڈ، سوات، لوئر دیر، نوشہرہ اور بونیر میں بھی تعلیمی ادارے 11 اپریل تک بند رہیں گے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اسکول سیل کر دیے جائیں گے۔ امتحانات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نویں تا بارہویں جماعت کے امتحانات شیڈول کے مطابق مئی کے آخر میں ہوں گے۔

پرائیویٹ اسکول مالکان فیصلے سے ناخوش

نجی اسکولوں کی تنظیم آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ اسکولز مزید 11 اپریل تک بند نہیں ہوں گے۔ تعلیمی ادارے کھلے رکھیں گے۔ اگر حکومت کی تادیبی کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو لانگ مارچ ہو گا۔

کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ گزشتہ سوا سال کے دوران بچوں کی تعلیم کا بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے اور اس وقت ملک میں جب باقی سب کاروبار اور ادارے کھلے ہیں تو اسکولز کو بند کیوں کیا جا رہا ہے۔

اُن کے بقول نجی تعلیمی ادارے سب سے زیادہ ایس او پیز کا خیال کر رہے ہیں اور یہاں مثبت کیسز کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن پھر بھی اسکولز بند کرنا بچوں پر ظلم کے مترادف ہے۔

ویکسین کے نئے آرڈرز

دوسری جانب وفاقی حکومت نے چین کی بنی سائنو فارم ویکسین کی 10 لاکھ اور کین سینو کی 60 ہزار ڈوزز یعنی خوراکوں کا آرڈر دے دیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اپریل میں ویکسین کی لاکھوں خوراکیں دستیاب ہوں گی جن کی فراہمی پائپ لائن میں ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب سے رابطہ کرکے مزید ڈوزز فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

دوسری جانب ملک بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3301 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ کرونا کے فعال کیسز کی تعداد 36ہزار 849 ہو گئی ہے۔

نجی کمپنیوں کی جانب سے منگوائی جانے والی ویکسین کی قیمت پر تحفظات

حکومتِ پاکستان نے کرونا سے بچاؤ کے لیے نجی شعبے کو بھی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم اس کی قیمت پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

البتہ، حکومتِ پاکستان نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کو ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دینا عوام تک اس کی جلد رسائی ممکن بنانا ہے۔

پاکستان کے سیکرٹری صحت عامر اشرف خواجہ نے ٹرانسپیرنسی کے خط کے جوابی خط میں کہا ہے کہ حکومت دستیاب وسائل کے ساتھ کرونا کے ساتھ نبرد آزما ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پہلی ترجیح ہیلتھ ورکرز اور زائد عمر کے افراد تھے جنہیں فوری ویکسین فراہم کی جارہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت اس وجہ سے بھی ہے کہ تمام طبقات کو ویکسین کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

یاد رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل پاکستان کی چیئرپرسن جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر نجی شعبے کو کرونا ویکسین کی درآمد کی اجازت دینے کی پالیسی پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو نجی شعبے کو کووڈ-19 ویکسین درآمد اور فروخت کرنے کی اجازت دے گا اور اس سے بدعنوانی کی راہ کھل جائے گی۔ کیوں کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ حکومت کی ویکسین نجی اسپتالوں کو فروخت کی جا سکتی ہے۔

Photo Credit : https://images.hindustantimes.com/img/2021/03/21/550×309/pakistan_school_1616325487071_1616325492470.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: