پاکستان کے بعض علاقوں میں افغان طالبان کے لیے عطیات جمع کرنے کی اطلاعات

پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کے لیے جمع کیے جانے والے عطیات میں مبینہ طور پر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

متعدد ذرائع اور عینی شاہدین نے حمارا ہند کو بتایا ہے کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں افغان طالبان کے لئے چندہ جاری ہے۔ یہ ایسے وقت میں آیا ہے جب افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین جھڑپیں بڑھ گئیں ہیں۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا آئندہ مہینوں میں مکمل ہونا طے ہے۔

بلوچستان کے علاقے ڈوکی کے رہائشی کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند کان کنوں کے ساتھ قریبی پہاڑیوں میں رہتے ہیں اور ہر جمعے کو بازاروں میں دکان داروں سے پانچ سے 10 ہزار پاکستانی روپے (50 سے 70 ڈالر) وصول کرنے آتے ہیں۔

رہائشی کا عسکریت پسندوں سے محفوظ رہنے کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں۔ بڑے دکانداروں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسند کہتے ہیں کہ ان کا تعلق تحریک طالبان سے ہے اور وہ خدا کی راہ میں لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ مساجد میں آتے تھے۔ تاہم حال ہی میں انہوں نے عطیات کے حصول کے لیے دکانوں پر آنا شروع کر دیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے رکن، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کا کہنا تھا کہ طالبان صوبے کے متعدد علاقوں میں عطیات جمع کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خفیہ نہیں ہے۔ یہ مہم کوئٹہ، کچلاک بائی پاس، پشتون آباد، عشق آباد اور فاروقیہ ٹاؤن میں جاری ہے۔

رکن اسمبلی نے خدشہ ظاہر کیا کہ طالبان کے حامی اس پیسے کو امریکہ کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف جاری جنگ میں عسکریت پسندوں کی مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ایک رہائشی کا دعویٰ تھا کہ وہ مساجد میں طالبان کو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔

رہائشی نے دعویٰ کیا کہ جب وہ جمعے کو نماز ادا کرنے مسجد گئے تو انہوں نے دیکھا کہ لمبے بالوں والے ایک شخص نے کچھ دیر خطاب کیا اور کہا کہ وہ لڑ رہے ہیں اور انہیں مالی طور پر ان کی مدد کی ضرورت ہے۔

رہائشی کے بقول اس شخص کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جہاد پر نہیں جا سکتا تو اسے چاہیے کہ وہ ان کی مالی طور پر مدد کرے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ لوگ مبینہ طور پر طالبان کے لئے چندہ جمع کرتے ہیں۔ تاہم ، حمارا ہند ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کرسکا۔

پاکستان کے حکام کا مؤقف

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے سخت قوانین موجود ہیں۔ حکومت عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کرنے والے افراد اور گروہوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رہی ہے۔

بلوچستان کی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ حکام کے پاس ایسی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں کہ طالبان صوبے میں عطیات جمع کر رہے ہیں۔

لیاقت شاہوانی کا مزید کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے خبردار کیے جانے کے بعد بلوچستان اسمبلی نے ‘سوشل ویلفیئر ایکٹ’ کے نام سے قانون سازی کی ہے تا کہ کوئی بھی عسکری گروہ عطیات جمع نہ کر سکے۔

اسلام آباد نے حالیہ برسوں میں متعدد ہائی پروفائل گرفتاریاں کی ہیں جن میں جماعت الدعوة کے رہنما بھی شامل ہیں۔تاہم مبصرین اسلام آباد کی ان گرفتاریوں کو علامتی قرار دیتے ہیں تا کہ ایف اے ٹی ایف کے سامنے اپنا تشخص بہتر کیا جا سکے۔

طالبان کے لیے پاکستان میں عطیات جمع کرنے میں اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب طالبان افغانستان کے ایک درجن سے زائد اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں۔ کچھ افغان حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال یکم مئی سے، جب امریکہ اور نیٹو افواج نے انخلا شروع کیا، تب سے عسکریت پسند مضبوط ہونا شروع ہوئے۔

Photo Credit : https://www.orissapost.com/wp-content/uploads/2020/04/Taliban-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.