پاکستان کی سیاست میں ہلچل، وفاق اور صوبوں میں سیاسی جوڑ توڑ

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے استعفے کے بعد جہاں صوبے میں حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں وہیں پنجاب اور وفاق میں بھی حکومت کی تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اس نئی بدلتی سیاسی صورتِ حال میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں جب کہ حکومت کے اتحادی ناراضی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ملک میں مہنگائی کی حالیہ لہر اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں عوام کی ناراضی کو حکومت مخالف تحریک کی صورت میں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں۔

حکومت مخالف جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پیپلز پارٹی نے مہنگائی اور حکومتی مبینہ بدانتظامی کے خلاف جمعے کو الگ الگ ملک گیر احتجاج کے اعلان کر رکھے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جماعتیں جہاں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا آغاز کیے ہوئے ہیں وہیں وہ حکومتی اتحادیوں کو بھی مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ تحریکِ انصاف کی حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک کے علاوہ فوج کے ساتھ تعلقات میں تناؤ حکومت کے لیے سنجیدہ چیلنج ہے جس کے حل میں تاخیر ہر گزرتے دن کے ساتھ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

مہنگائی کے نعرے پر حکومت مخالف تحریک چل سکے گی؟

سیاسی امور کے تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف حکومت کو گرانے کی اپنی گزشتہ سال کی تحریک میں ناکامی کے بعد اب دوبارہ یہ کوشش شروع کر دی ہے۔

صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ مہنگائی کا ‘جن’ حکومت کے قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت مخالف تحریک بن رہی ہے۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے باہمی اتحاد کے بغیر یہ تحریک کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔

سلیم بخاری کے بقول حزبِ اختلاف کی جماعتیں دوبارہ سے متحد ہو رہی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم میں واپس آنا آسان نہیں۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ان مصنوعات کی قیمتیں ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اعتراف کرتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اتحادیوں کے فاصلے بڑھے تو حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی؟

پیٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے، مہنگائی اور اہم حکومتی امور میں مشاورت نہ کرنے کو جواز بنا کر اتحادی جماعتیں بھی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کر رہی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی ہے جس کی وجہ سے حکومتی اتحادی ہونے کی حیثیت سے ان کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینئر وسیم اختر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی کارگردگی کا بوجھ ان کی جماعت پر بھی پڑ رہا ہے۔

وفاق اور پنجاب میں اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) بھی حکومت سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔ اطلاعات کے مذکورہ جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر مونس الہیٰ نے کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں ملک کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری میں تاخیر کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ہمارہ ہند نے اتحادیوں کے تحفظات پر حکومتی موقف پر تبصرہ کرنے کے لیے ترجمانوں سے رابطہ کیا، لیکن اس نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں گرتی ہوئی ساکھ اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے حکومت پر تنقیدی بیانات دے کر خود کو فاصلے پر لے جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام کو چلانے کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے حزبِ اختلاف اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اہم امور پر انہیں اعتماد میں لینے کے عمل کی کمی رہی ہے جو کہ اتحادی جماعتوں کی دوری کی ایک وجہ ہے۔

ان کے بقول مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کے پاس حکومت کو چھوڑ کر دوسری طرف جانا آسان فیصلہ نہیں ہو گا کیوں کہ (ق) لیگ کا پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے لیے سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کی طرف جانا مشکل ہوگا۔

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی سابق اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی پہلے ہی حکومت سے علیحدہ ہو چکی ہے اور پارلیمنٹ میں قلیل اکثریت رکھنے والی پی ٹی آئی حکومت کو ایم کیو ایم آنکھیں دکھا رہی ہے اور (ق) لیگ کے بیانات سے بھی لگتا ہے کہ سب درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اتحادی فاصلہ اختیار کرتے ہیں تو وفاق اور پنجاب میں عمران خان کو اپنی حکومت برقرار رکھ پانا بہت مشکل ہوگا۔

پنجاب میں پھر سے تبدیلی کا شور

مہنگائی اور حکومتی اتحادیوں کے ناراضی کے شور میں پنجاب میں ایک مرتبہ پھر سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گمان کیا جارہا ہے کہ بلوچستان سے آغاز ہونے والا تبدیلی کا اگلا پڑاؤ پنجاب ہوگا جہاں تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے ہی ناراض جہانگیر ترین گروپ یا مسلم لیگ ق سے خطرہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ان کی جماعت پنجاب میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی حامی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ترین گروپ اور مسلم لیگ ق سے معاملات طے کر کے بتائے تو (ن) لیگ ساتھ دے گی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی نمبر گیم مکمل کر کے رابطہ کرنے کی پیش کش کو قبول کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے وزیرِ اعلی عثمان بزدار کی کارگردگی پر اتحادی جماعتیں اور پی ٹی آئی کے اپنے اراکین دبے الفاظ میں عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

سلیم بخاری پنجاب میں بدلتی سیاسی صورتِ حال پر کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکومت گرانا نہیں چاہے گی اور اس حوالے سے مریم نواز کا بیان موجود ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں اپنے پانچ سال مکمل کرے۔

وہ کہتے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ مسلم لیگ ق حزب اختلاف کا ساتھ دے جو کہ ناممکنات میں نہیں البتہ موجودہ حالات میں مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پروفیسر حسن عسکری کے بقول ابھی تک یہ اشارے نہیں مل رہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ البتہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پنجاب میں حکومت کی تبدیلی وفاق میں عمران خان کی حکومت کو گرانے میں راہ ہموار کرے گی تاہم مسلم لیگ ن اس عمل کے نتیجے میں اندرونی خلفشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں اس وقت شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان پارٹی سربراہ کے جانشین کی جنگ چل رہی ہے اور اگر پنجاب میں عدم اعتماد ہوگا تو اصولی طور پر صوبائی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف حمزہ شہباز وزیرِ اعلی بنیں گے جو مریم نواز کو قبول نہیں۔

پنجاب کے گورنر چوہدری سرور کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کے لیے حزبِ اختلاف کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ بہتر حکومت سازی ان کے لیے چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے اور وہ حکومت کے خلاف کوئی منظم تحریک چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

کیا حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ سے اپوزیشن فائدہ اٹھانا چاہتی ہے؟

مبصرین کا ماننا ہے کہ فوج سے تعلقات میں تناؤ اور اسے سلجھانے میں تاخیر حکومت کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

حکومتی وزرا مسلسل یہ تاثر دے رہے کہ فوج کے ساتھ معاملات ٹھیک ہیں اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا عمل طے کر لیا گیا ہے جس کا اعلان ہونا باقی ہے۔ تاہم مبصرین سمجھتے ہیں کہ کئی ہفتے گزرنے کے باوجود اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری کا نوٹی فکیشن نہ ہونا اس جانب اشارہ ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔

حسن عسکری کہتے ہیں کہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ حکومت اور فوج کے تعلقات میں جب بھی تناؤ پیدا ہوا تو حزبِ اختلاف نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

سلیم بخاری کے بقول فوج کے ساتھ تعلقات میں تناؤ حکومت کے لیے مہنگائی سے بڑا مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کے معاملے پر عمران خان اور جنرل قمر باجوہ کے درمیان تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوچکا ہے جو کہ تاحال حل نہیں ہوا۔

سلیم بخاری کا مزید کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کی خواہش ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو دباؤ میں لایا جائے۔

Photo Credit : https://images.outlookindia.com/public/uploads/articles/2019/8/18/Imran_Khan.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.