پاکستان نے تمام اہداف مکمل کر لیے: ایف اے ٹی ایف

خبریں


فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے ایکشن پلان پر عملدرآمد کو مکمل قرار دیتے ہوئے اپنے جائزہ مشن کو اسلام آباد بجھوانے کا اعلان کیا ہے۔

برلن میں چار روز تک جاری رہنے والے اجلاس کے احتتام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ابتدائی تعین کے مطابق پاکستان نے خاصی حد تک دونوں ایکشن پلان کے 34 نکات پر عملدرآمد کیا ہے۔ عالمی تنظیم نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل میں اس کے عملدرآمد کی استعداد کار کا جائزہ لینے کے لیے اپنا مشن اسلام آباد بجھوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی تنظیم کا یہ مشن کرونا وبا کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اپنی پہلی دستیابی میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی رپورٹ مرتب کرے گا۔

ماہرین کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے جائزہ وفد کی رپورٹ کی روشنی میں اکتوبر میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے باضابطہ طور پر نکال دیا جائے گا۔

برلن اجلاس میں شریک پاکستان کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو آرڈینیشن کمیٹی کی سربراہ حنا ربانی کھر نے عالمی تنظیم کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے متفقہ طور پر ایکشن پلان کے تمام پوائنٹس پر پاکستان کی کارگردگی کو سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوتا ہے اور اس عمل کے مطابق ایک تکنیکی جائزہ ٹیم اسلام آباد بجھوائی جائے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہو گی یہ تکنیکی جائزہ ٹیم اکتوبر 2022 کے پلینری اجلاس سے قبل اپنا تمام کام مکمل کرے اور پاکستان رواں سال ہی پابندیوں کی فہرست سے نکل جائے۔

حنا ربانی نے پاکستان کو عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مالیاتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت کو عالمی تنظیم نے تسلیم کیا ہے اور پاکستان چاہے گا کہ عالمی مالیاتی نظام کا حصہ بن کر آگے بڑھیں۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے رواں سال مارچ میں پاکستان کے اقدامات کو سراہا تھا اور اپنے اعلامیے میں کہا تھا کہ پاکستان نے 27 نکاتی ایکشن پلان میں سے 26 پر عمل کرلیا ہے۔ تاہم تنظیم نے زور دیا تھا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے آئندہ اجلاس تک پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جون 2022 تک پاکستان کو تمام سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا تھا۔

پاکستان میں ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے والے ادارے فائنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی ڈپٹی ڈائریکٹر ثمینہ چاغانی کہتی ہیں کہ پاکستان کو دو ایکشن پلان دیے گئے تھے جس میں 27 نقاطی پلان دہشت گردوں کی مالی امداد کی ترسیل روکنے اور 7 نقاطی سفارشات انسداد منی لانڈرنگ کے لئے تھیں۔

 انہوں نے ایکشن پلان کے ہر نقطے پر دیے گئے وقت کے مطابق عمل کیا جسے عالمی تنظیم کی جانب سے سراہا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ اجلاس میں صرف ایک نقطہ پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے جسے بالآخر برلن اجلاس میں تسلیم کرلیا گیا ہے۔

ثمینہ چاغانی کہتی ہیں کہ تین سالوں پر محیط یہ عمل اتنا آسان نہیں تھا جس کے تحت تمام متعلقہ اداروں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی اور نہ صرف قانون سازی کی گئی بلکہ اداروں کا ڈھانچہ بہتر بنایا گیا اور ان کی استعداد کار بھی بڑھائی گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ دنیا نے پاکستان کے اقدامات کو تسلیم کیا ہے اور ہم منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی امداد کی روک تھام کے لئے کام کرتے رہیں گے۔

گرے لسٹ سے پاکستان کے نام سے اخراج کی خبریں جمعہ کی دوپہر سے ہی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جس پر اپنے ردعمل میں وزیرِ مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پاکستان سے متعلق فیصلے اور اس حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے۔ اور فیصلے کے اعلان کا انتظار کیا جائے۔

حنا ربانی کھر نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں بتایا کہ جرمنی کے شہر برلن میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری ہے جس کے اختتام پر باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کیا جائے گا۔

وزیرِ مملکت کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر وزارتِ خارجہ کے دفتر میں ہفتے کی صبح میڈیا بریفنگ دی جائے گی۔

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے پلینری اجلاس کی میزبانی اس بار برلِن کر رہا ہے جہاں 13 جون سے اجلاس جاری ہے اور جمعے کو اس کا آخری روز ہے۔

پاکستان کی کارکردگی کی بنیاد پر اسے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پلینری اجلاس میں گرے لسٹ سے نکالنے یا مزید رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان کو 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا حصہ بنایا گیا تھا جس کے بعد سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 27 سفارشات پیش کی تھیں جن میں سے 26 مکمل کی جا چکی ہیں۔
اس سے قبل مارچ 2022 میں ایف اے ٹی ایف کے جائزہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سفارشات کی تکمیل میں خاصی پیشرفت کی ہے، لیکن کچھ نکات پر عمل درآمد اب بھی باقی ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چار سال کے بعد ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے۔

معاشی امور سے متعلق خبروں پر نظر رکھنے والے صحافی شہباز رانا کہتے ہیں ایف اے ٹی ایف کا کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے ایک مشن اس ملک بھیجا جاتا ہے جہاں وہ یہ جائزہ لیتا ہے کہ آیا سفارشات پر عمل درآمد کرلیا گیا ہے۔

ان کے بقول ایف اے ٹی ایف کا مشن جائزہ لینے کے بعد ایک رپورٹ ارسال کرتا ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

تصویر کریڈٹ: https://akm-img-a-in.tosshub.com/aajtak/images/story/202206/fatf-sixteen_nine.jpg