پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی آڑ میں شہریوں کے ساتھ اربوں روپے کا فراڈ کیسے ہوا؟


پاکستان میں سینکڑوں صارفین کے ساتھ 18 ارب روپے کے فراڈ کی تحقیقات کے سلسلے میں عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنانس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ()ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے عمران ریاض کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج نے پاکستان میں اربوں روپے کے کرپٹو کرنسی فراڈ کی تحقیقات پر لکھے گئے خط کا مثبت جواب دیا ہے۔

عمران ریاض کے بقول بائنانس نے تحقیقات کے لیے ادارے کے دو ماہرین مقرر کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اب تک اس کرنسی کے حوالے سے کوئی قواعد موجود نہیں ہیں جن کی غیر موجودگی میں اس میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے. لہٰذا جب تک حکومت اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہ کرے اس وقت تک اس میں سرمایہ کاری سے عام لوگوں کو مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

کرپٹو کرنسی فراڈ کیسے ہوا؟

اس فراڈ کا انکشاف گزشتہ ہفتے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون عمران ریاض نے ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پونزی اسکیمز کی طرز پر آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ جاری ہیں جن میں سرمایہ کاروں سے زیادہ کلائنٹس لانے پر ان کی سرمایہ کاری پر زیادہ منافع کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسکیمز نئے کلائنٹس کی قیمت پر پرانے کلائنٹس کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور آخر میں اربوں روپے سرمایہ بنانے کے بعد غائب ہوجاتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عمران ریاض نے کہا کہ ہمارے پاس سندھ زون میں اب تک دس درخواستیں سامنے آئی ہیں جس کے بعد باقاعدہ کیس درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ ایف آئی اے سے رابطہ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں جس کی وجہ ان کے پاس موجود سرمایہ ہے۔ اگر کسی شخص کے ساتھ 50 ہزار ڈالر کا فراڈ ہوا ہے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس شخص کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے آیا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق “ہم کسی شخص سے یہ سوال نہیں کر رہے کہ اس کے پاس پیسہ کہاں سے آیا بلکہ ہم اس وقت فراڈ کرنے والے افراد کے خلاف تحقیقات کررہے ہیں۔”

عمران ریاض نے کہا کہ بعض جگہوں پر ہمیں شواہد ملے ہیں کہ کرپٹو کرنسی منی لانڈرنگ اور پیسوں کی غیرقانونی منتقلی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان میں کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے صرف ٹیکس سے بچنے کے لیے رقوم کی منتقلی کی گئی، اس کے علاوہ ماضی میں ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں ڈارک ویب پر اسلحے کی خرید و فروخت بھی ہوتی رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بائنانس کی طرف سے دو افراد فراڈ کی تحقیقات میں معاونت کے لیے پاکستان آ رہے ہیں جو امریکی محکمۂ خزانہ میں کام کر چکے ہیں۔

عمران ریاض کے بقول، فراڈ کے کیس میں ہم نے بائنانس سے وہ ڈیٹا مانگا ہے جن پر فراڈ کرنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ بائنانس سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ ان اکاؤنٹس سے مزید رقوم کی منتقلی کو روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت حیرت انگیز ہے کہ ایک انجان ایپ چلانے والا شخص ایک ایپلی کیشن کے ذریعے لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ ہمیں یہ شک بھی ہے کہ یہ چند لوگ ہیں جو ایک ایپ کے ذریعے کمانے کے بعد دوسری ایپ بنا لیتے ہیں اور لوگوں کو لگاتار لوٹ رہے ہیں۔

فراڈ کا انکشاف کب ہوا؟

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون عمران ریاض کے مطابق 20 دسمبر 2021 کو پورے پاکستان سے لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایف آئی اے سائبر کرائم سندھ سے رابطہ کرنا شروع کیا تھا اور بتایا تھا کہ کم از کم 11 موبائل ایپلی کیشنز نے عوام سے فراڈ کے بعد کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

ان کے بقول، عوامی شکایت کی زد میں آنے والی موبائل ایپلی کیشنز میں ایف ایکس کوپی، ایچ ایف سی، اے وی جی 86 سی، بی ایکس 66، کیشنز ایم سی ایکس، بی بی زیروون اور دیگر کئی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان ایپلی کیشنز کا کام بائنانس کرپٹو ایکسچینج میں رجسٹریشن کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنا تھا جس کا مقصد ورچوئل کرنسیوں بٹ کوائن، ایتھریم، ڈاج کوائن اور دیگر کرنسیوں میں تجارت کرنا شامل تھا۔

اُن کے بقول جو افراد اس میں سرمایہ کاری کے لیے رضامند ہوجاتے تھے اس کے بعد بائنانس والٹ سے ان مخصوص ایپلی کیشنز کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوتی تھی۔

بتایا جا رہا ہے کہ ان ایپلی کیشنز کے ذریعے جب اربوں روپے کی رقم بائنانس کے نام پر منتقل کردی گئی تو اس کے بعد یہ ایپلی کیشنز کریش کرگئیں.

عمران ریاض کا کہنا تھا کہ ابتدائی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر ایپلی کیشن کےاوسطاً پانچ ہزارصارفین تھے۔ جب کہ ایچ ایف سی نامی ایپلی کیشن کے 30 ہزار صارفین تھے۔ ہر صارف نے کم سے کم 100ڈالر اور زیادہ سے زیادہ 80 ہزار ڈالر تک سرمایہ کاری کی۔ اس طرح اس کیس میں 10 کروڑ ڈالر تک فراڈ کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

عمران ریاض کے مطابق یہ معاملہ سامنے آنے پر بائنانس کے پاکستان میں نمائندے کو طلب کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی امریکہ میں بائنانس کے ساتھ رابطہ کیا گیا جس کے بعد اب ان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے اپنے دو ماہرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنانس نے اس ضمن میں تحقیقات کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک 26 مشتبہ بلاک چین والٹ ایڈریسز کی نشان دہی ہوئی ہے جہاں دھوکہ دہی سے رقم منتقل کی گئی ہیں۔ ایف آئی اے نے بائنانس سے ان بلاک چین والٹس کی تفصیلات مانگی ہیں۔

کیا پاکستان کرپٹو کرنسی کے لیے محفوظ ہے؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر قانون احمد بشیر ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے اس وقت کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ لہذا پاکستانیوں کو اس میں سرمایہ کاری نہیں کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کرپٹو کرنسی کے ذریعے بڑے پیمانے پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا جا رہا ہے اور کراچی میں سامنے آنے والا فراڈ صرف ایک چھوٹی سے مثال ہے۔

اُن کے بقول اس سے کہیں زیادہ فراڈ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے عوام ایسی اسکیموں میں لگاتار سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

احمد بشیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں برطانیہ میں اس کرنسی کو منی ایکسچینج اور کینیڈا میں پراپرٹی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اسے ریگولیٹ کرنے والا کوئی ادارہ نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس کی شکایت کو دیکھنے کے لیے پورا ادارہ موجود ہے۔ لیکن یہاں صرف ایف آئی اے ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی بلاک چین ٹیکنالوجی کی وجہ سے معرض وجود میں آئی جو اینڈ ٹو اینڈ کسی بھی ادائیگی کو محفوظ رکھنے کے لیے کی جاتی ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی بہت بہترین ٹیکنالوجی ہے لیکن کرپٹو کرنسی کے لیے پاکستان میں ماحول سازگار نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایسا کام وہ لوگ کرسکتے ہیں جو ڈیٹا مائننگ کرتے ہیں، لیکن عام آدمی ایسا نہ کرے کیونکہ اس میں اس کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

کرپٹو کرنسی ٹیرر فنانسنگ میں استعمال ہوسکتی ہے؟

ایف آئی اے حکام نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ بائنانس ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی جوے کی رقوم کی ٹرانزیکشن کے لیے بھی استعمال کی جا رہی ہے۔

البتہ کرپٹوکرنسی کا بزنس کرنے والے ٹی وی اینکر وقار زکا اس بات سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے ٹیررفنانسگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ انٹرنیٹ پر لاگ ان ہوتے ہیں تو اس کمپیوٹر کے ذریعے آپ کی شناخت دنیا بھر میں ظاہر ہوجاتی ہے۔ کسی بھی شخص کی انٹرنیٹ کے ذریعے کی گئی ٹرانزیکشن کا مکمل ریکارڈ چند لمحوں میں کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کو مل جاتا ہے۔

اُن کے بقول کرپٹو کرنسی میں بلاک چین کو ڈیل کرنے والوں کے پاس ہر والٹ کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کو ٹریک کرسکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں فراڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پوری ایک مہم چلائی جارہی ہے تاکہ پاکستانی اپنی سرمایہ کاری صرف پاکستانی بینکوں میں کریں جہاں ان کو بہت کم منافع دیا جاتا ہے، اس کے مقابلہ میں کرپٹو کرنسی میں منافع کی شرح بہت زیادہ ہے۔

Photo Credit : https://i1.wp.com/www.lingnews24.com/wp-content/uploads/2022/01/How-did-billions-of-rupees-of-fraud-take-place-in.jpg?fit=1200%2C675&ssl=1

Leave a Reply

Your email address will not be published.