پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ

خبریں

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کی وجہ رواں مالی سال کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی 450 ارب روپے کی آمدن کا ہدف بڑھا کر 610 ارب روپے کرنا بتائی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، اس کے بغیر مطلوبہ ٹارگٹ پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کرونا کے بعد اقتصادی ترقی کے ذریعے یہ ٹارگٹ حاصل کر لیا جائے گا۔

پاکستان کی پیٹرولیم کھپت

پاکستان میں 2021 کے دوران ایندھن کی مجموعی سالانہ طلب کا اندازہ دو کروڑ ٹن لگایا گیا تھا جس میں پیٹرول اور ڈیزل کی مجموعی کھپت ایک کروڑ 50 لاکھ ٹن کے قریب ہے۔ پیٹرول 70 لاکھ 50 ہزار ٹن اور تقریباً اسی مقدار میں ڈیزل کی کھپت ہوتی ہے۔

اس کھپت میں سب سے بڑا حصہ ٹرانسپورٹ کا ہے جو تقریباً 75 فی صد ایندھن خرچ کرتا ہے، اس کے ساتھ بجلی کی پیداوار میں 14 فی صد، زراعت کے لیے صرف ایک فی صد ایندھن خرچ ہوتا ہے۔

پاکستان میں ہر برس 78 لاکھ ٹن ایندھن درآمد ہوتا ہے جب کہ 68 لاکھ ٹن مقامی ریفائنریز فراہم کرتی ہیں جب کہ پاکستان میں 90 کے قریب آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

پیٹرولیم لیوی کے بڑے ٹارگٹ

پاکستان میں رواں برس پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ آمدنی کا ہدف 450 ارب روپے تھا جس میں سے پہلے چھ ماہ میں 275 روپے جمع ہو چکے تھے۔ اس ہدف کو مکمل کرنے میں حکومت کو کسی حد تک دشواری کا سامنا ہے۔

عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود اس کا اثر کرونا وبا اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے حکومت نے عوام پر منتقل نہیں کیا۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے بجائے عالمی منڈیوں میں قیمت اضافے کا فرق لیوی کو کم کر کے پورا کیا۔

گزشتہ دو برس سے حکومت جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے بجائے پیٹرولیم لیوی میں ردو بدل کر رہی ہے۔ پیٹرولیم لیوی کی آمدنی وفاق کو ملتی ہے جب کہ جی ایس ٹی، ٹیکسز کے تقسیم کار پول میں جاتا ہے جس میں سے تقریباً 57 فی صد صوبے حاصل کرتے ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل وہ دو مصنوعات ہیں جن کی بڑے پیمانے پر کھپت کی وجہ سے حکومت آمدنی کا بڑا حصہ حاصل کرتی ہے۔

ملک میں پیٹرول کی ماہانہ فروخت اوسطاً سات لاکھ ٹن ہے جبکہ ڈیزل کی ماہانہ کھپت چھ لاکھ ٹن ہے۔

وفاقی حکومت کے پاس پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 30 روپے فی لیٹر تک لیوی لگانے کا اختیار ہے۔

تجزیہ کار فرخ سلیم کہتے ہیں کہ پاکستان کو اگر اپنے اہداف پورے کرنا ہیں تو اس کے لیے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔

فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ حکومت نے عالمی منڈیوں میں اضافہ عوام پر منتقل نہیں کیا لیکن پیٹرولیم لیوی کا جو موجودہ ٹارگٹ رکھا گیا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔

اُن کے بقول اس 610 ارب روپے کی رقم کو جمع کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 سے 30 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنا ہو گا۔

فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جس طرح کرونا کی ویکسی نیشن ہو رہی ہے ایسے میں دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں شروع ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں گی اور پاکستان پر دباؤ نہیں بڑھے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات درست ہو جائیں تو ایران کا تیل عالمی منڈیوں میں آنے سے تیل کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں گی۔ فی الحال یہ ہی دو صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں پاکستان پر دباؤ نہیں بڑھ رہا لیکن پاکستان نے ایک بڑا ٹارگٹ رکھا ہے جسے پورا کرنا مشکل ہو گا۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر پر امید ہیں کہ عوام پر دباؤ ڈالے بغیر یہ ٹارگٹ حاصل ہو سکے گا۔

پیر کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے بین الاقوامی منڈی میں آنے سے امید ہے کہ تیل کی قیمتیں کم رہیں گی۔

حماد اظہر نے کہا کہ اس بارے میں مثبت اشارے سامنے آ رہے ہیں اور امید ہے کہ اگر ایسا ہوا تو تیل کی قیمتیں کم رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام پر زیادہ بوجھ پڑا تو ہم پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کم کردیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم اور گیس سے منسلک دیگر سیکٹرز سے بھی ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان کا آئل امپورٹ بل

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا زیادہ انحصار درآمدی مصنوعات پر کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان اس مد میں اربوں ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کرونا وبا کی وجہ سے پاکستان کے تیل کے لیے امپورٹ بل میں کمی آئی اور جولائی 2020 سے جنوری 2021 کے سات ماہ میں 5640 ملین ڈالر کی درآمد ہوئی جب کہ گزشتہ سال اسی عرصہ میں یہ درآمدات 7131 ملین ڈالر کی تھیں، کرونا وبا کی وجہ سے اس میں 21 فی صد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستان کو گزشتہ دو سالوں کے دوران سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل حاصل کرنے کی سہولت بھی دستیاب تھی جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو کسی حد تک سہارا ملا۔ لیکن بعد ازاں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں مبینہ طور پر سرد مہری آنے کے بعد پاکستان کو دو ارب ڈالر ادا کرنا پڑے۔

اس وقت حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی خریداری کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کی اقتصادی ترقی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

Photo Credit : https://i.dawn.com/primary/2015/01/54caf21e391a4.jpg