پاکستان میں معاشی بحران: کیا آئی ایم سے رُجوع ہی واحد حل ہے؟

پاکستان میں معاشی بحران: کیا آئی ایم سے رُجوع ہی واحد حل ہے؟

پاکستان میں معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اقتصادی ماہرین کی جانب سے مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کی اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے رُجوع کیے بغیر ملک کے معاشی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔

جمعرات کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے جس سے ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 44 کروڑ 36 لاکھ ڈالر ہوگئے۔

ان میں اسٹیٹ بینک کے پاس چار ارب 60 کروڑ 12 لاکھ ڈالرز ہیں۔ ماہرین معیشت بتاتے ہیں کہ یہ ذخائر بڑھنا ناکافی اور بمشکل تین ماہ کی درآمدات ہی کے لیے کافی ہیں جب کہ پاکستان کو رواں مالی سال ہی میں مجموعی طور پر 23 ارب ڈالرز کے قرض واپس کرنے کے ساتھ آٹھ ارب ڈالر کا جاری کھاتوں کے خسارے کا سامناہوسکتا ہے۔

اس صورتِ حال میں دیکھا جائے تو زرِمبادلہ کے انتہائی معمولی ذخائر کے ساتھ پاکستان اس وقت مشکل مالیاتی صورتِ حال میں پھنسا ہوا ہے جہاں حکومت کے پاس بین الاقوامی قرض کی ادائیگی کا بندوبست کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بینک آٹو موبائل، فارماسیوٹیکل، پیپر، کنسٹرکشن، مائننگ اور حتیٰ کے ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کے لیے بھی ایل سیز یعنی لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کو تیار نظر نہیں آتے۔

“ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سے بہتر کوئی دوا نہیں”

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ادائیگیوں میں توازن کا درپیش بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے اور اس سے نکلنے کا راستہ صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ہوکر گزرتا ہے۔

وزارت خزانہ کے سابق مشیر اور ماضی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ہونے والے کئی مذاکرات میں شریک رہنے والے ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ ماضی میں جن ملکوں کو بھی ایسے مسائل کا سامنا ہوا، وہ آئی ایم ایف کے پاس ہی گئے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے حکومت کو کن شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے؟

ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ وہ بارہا کہتے آئے ہیں کہ یہ شرائط آئی ایم ایف کی نہیں ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں تبدیلی، ایکسچینج ریٹ کو مصنوعی سہارا دینے کے بجائے مارکیٹ کو اس کا تعین کرنے دینا اور حکومت کے لیے ٹیکس وصولیاں بڑھانا وغیرہ پاکستان کی معاشی اصلاحات کے طور پر ضروری ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ توانائی کی قیمتوں کا تعین پاکستان ہی کے ریگولیٹرز کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات کے تحت ریگولیٹرز کی جانب سے طے کردہ قیمتوں پر عمل، ایکسچینج ریٹ مکینزم کو فری فلوٹ کے قریب رہنا ضروری ہے تاکہ قومی خزانے میں ڈالرز کاان فلو بڑھے تاکہ اس سے پاکستانی روپے کو بھی تقویت ملے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے بقول اگرچہ اس سال حکومت پاکستان کو 7400 ارب روپے کی خطیر رقم ٹیکسز کی مد میں جمع کرنی ہے لیکن اگر اس میں کوئی شارٹ فال آرہا ہے تو ہمیں اس میں کوئی اقدام تو اٹھانا پڑیں گے۔ اسی طرح پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو پورا کرنے کا وعدہ بھی حکومت ہی نے کیا تھا جسے پورا کرنے کے لیے اقدامات کرنا پڑیں گے۔

“فنڈ سے وعدہ شدہ اصلاحات نہیں لائی گئیں تو زیادہ تکلیف دہ مہنگائی کا سامنا ہوگا”

ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ قیمتوں میں تبدیلی، نئے ٹیکس کے نفاذ اور پرانے ٹیکسوں کی شرح زیادہ کرنے سے مہنگائی میں اضافہ تو ہوگا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہم نے ابھی ایسا نہیں کیا تو پھر مہنگائی کا بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اگر روپے کی قیمت بہت تیزی سے نیچے جاتی یا رسد میں کمی سے غذائی اشیا یا دیگر اشیا مہیا نہیں ہوتی تو پھر اس سے زیادہ تکلیف دہ مہنگائی ہو گی۔ اس لیے ان کے خیال میں ان فیصلوں سے کوئی راہِ فرار موجود نہیں۔

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا خیال ہے کہ یہ درست ہے کہ اس وقت 70 کی دہائی میں ہونے والی مہنگائی کے بعد یہ دوسری بڑی مہنگائی کی لہر ہے جس سے اس وقت ملک گزر رہا ہے۔

اُن کے بقول اس میں بھی غذائی اشیا میں مہنگائی کی رفتار 34 فی صد سے زیادہ ہے جب کہ اس وقت پاکستان ایشیا میں چھٹا ملک ہے جہاں افراط زر کی شرح اضافہ انتہائی تیز ہے۔

لیکن ان کے خیال میں افراط زر کی موجودہ شرح یعنی 25 فی صد اب بھی کم بتائی جارہی ہے اور حقیقت میں یہ 30 فی صد یا اس سے بھی زیادہ ہے۔

حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر ان اصلاحات پر عمل کیا تو یہ 35 فی صد سے بھی اوپر چلی جائے گی اور اگر آئی ایم ایف کا پروگرام بحال نہیں ہوتا تو ملک میں افراط زر 50 فی صد یا اس سے زیادہ ہو جائے گا۔ یعنی دونوں صورتوں میں پاکستان کو مشکل فیصلے تو کرنے ہیں۔

تجزیہ کار موجودہ بحران کو کم کرنے کے لیے دوست ممالک کی جانب سے معاشی امداد کو بھی اہمیت کو دیتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ان ممالک سے معاشی امداد حاصل کرنے کے لیے بھی بہرحال آئی ایم ایف سے بات چیت کو کامیاب بنانا ضروری ہوگا۔

اس حوالے سے ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ دوست ممالک کی معاشی امداد کی بھی انتہائی سخت ضرورت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کے ڈپازٹس، سرمایہ کاری اور قرضوں کا رول اوور درکار ہے اور کمرشل قرضوں میں بھی ان کی مدد درکار ہے۔ لیکن اس مدد کو آئی ایم ایف سے علیحدہ نہیں سوچنا چاہیے۔ اگر پاکستان کو اس مالی سال 30 ارب ڈالرز درکار ہیں تو ان کو پورا کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ، دو طرفہ پارٹنرز اور کثیر الجہتی پارٹنرز کی رقوم، دوست ممالک کی رقوم اور کمرشل بینکس کی رقوم ان سب کی ضرورت درکار ہے۔

حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات شروع کرنے کی متمنی

ادھر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ معاشی صورتِ حال کے تناظر میں پاکستان نے آئی ایم ایف کو ایک خط بھیجا ہے جس میں سات ارب ڈالر کے قرض کا پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لیے درخواست کی گئی ہے کہ فنڈ اپنا جائزہ مشن اگلے ہفتے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھیجے۔

یہ فیصلہ مسلسل دو روز سے وزیر اعظم شہباز کی زیر صدارت اقتصادی ٹیم کے اعلیٰ اختیاراتی اجلاس کے دوران کیا گیا۔ سیکریٹری خزانہ نے اپنا جائزہ مشن بھیجنے کے لیے فنڈ کو ایک تحریری درخواست بھیجی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ قرض دہندہ اس حوالے سے مثبت جواب دے گا۔

تصویر کریڈٹ : https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bbf0bfb2be32.jpg