پاکستان میں بجلی ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے کے باوجود مہنگی کیوں ہے؟

پاکستان میں بجلی کے نگراں ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک کے پاور سیکٹر کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی زیادہ قیمت ہے جس کے کئی اسباب ہیں۔

تیس ستمبر کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کی سب سے اہم وجہ وہ بجلی ہے جو بجلی گھروں میں پیدا تو ہوتی ہے لیکن اسے استعمال نہیں کیا جاتا۔ البتہ اس کی ادائیگی لازمی ہے جسے کیپیسٹی پیمنٹ بھی کہا جاتا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ پرانے اور ناکارہ پاور پلانٹس، گردشی قرضوں کا پہاڑ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن (ترسیل اور تقسیم) نظام کی خرابیاں، نامناسب منصوبہ بندی، بے انتظامی بھی بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت کے اسباب میں شامل ہیں۔

پاکستان میں ایک جانب بجلی کی کھپت مختلف ممالک کی اوسط کھپت سے کہیں کم بتائی جاتی ہے تو دوسری جانب اس سے معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

شرمین سیکیورٹیز میں ہیڈ آف ریسرچ اور توانائی امور کے ماہر فرحان محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت بجلی پیدا کرنے کے بڑے ذریعوں میں پن بجلی، آر ایل این جی، کوئلہ، جوہری بجلی گھر، فرنس آئل، گیس اور دیگر شامل ہیں۔

ان کے بقول ان ذریعوں میں سے سستی بجلی کا بڑا ذریعہ پن بجلی کی پیداوار ہے۔ لیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ یہ طویل مدت منصوبے کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔

فرحان محمود کا کہنا ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے حکومت دیامیر بھاشا ڈیم (4500 میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت)، مہمند ڈیم (800 میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت) اور ان جیسے دیگر منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ لیکن ان کی تعمیر مکمل ہونے میں آٹھ سے 10 برس کا وقت لگ سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پن بجلی کے منصوبے اس رفتار سے بڑھانے ہوں گے کہ ہماری سالانہ پانچ سے چھ فی صد طلب پوری کی جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ قدرتی گیس بھی سستا ذریعہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں گیس کے کم ذخائر ہونے کی وجہ سے اب بمشکل گھریلو ضروریات ہی پوری ہو پا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا سستا ذریعہ متبادل توانائی ہے جس میں شمسی توانائی، ہوا اور بائیو گیس سے بجلی کا حصول شامل ہے۔ ان منصوبوں پر کام ہو سکتا ہے لیکن اب تک متبادل توانائی سے چھوٹے پیمانے پر ہی بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ طلب کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں اور ملک میں بجلی کی مجموعی قیمت پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑ رہا ہے۔

بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے 2200 ارب تک کیسے پہنچ گئے؟

نیپرا رپورٹ کے مطابق بجلی مہنگی ہونے کی اہم وجہ گردشی قرضے بھی ہیں۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس ضمن میں یہ جاننا ضروری ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے ذریعوں کی دو بڑی اقسام ہیں۔

پہلی قسم میں وہ ذریعے آتے ہیں جن سے بجلی کی پیداوار میں کمی اور زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ ان میں پن بجلی، ہوا، شمسی اور بھوسے سے پیدا شدہ بجلی شامل ہے۔

دوسری جانب روایتی طریقہ کار سے بجلی پیدا کرنے والے تھرمل بجلی گھر ہیں۔ آر ایل این جی، کوئلے، گیس، ایٹمی اور خام تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کا شمار اس قسم میں ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان دونوں اقسام سے بالترتیب 12 اور 27 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ لیکن پورے سال ان سے حاصل کی جانے والی بجلی کی اوسط 41 اور 45 فی صد بنتی ہے۔

ایسے میں بجلی گھروں کو اس بجلی کی بھی ادائیگی کی جاتی ہے جنہیں ان بجلی گھروں سے نکالا یا استعمال نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یوں ان بجلی گھروں کو جن کا استعمال کم ہے انہیں بھی استعداد کے مطابق معاہدے کی رُو سے ادائیگیاں لازم ہوتی ہیں۔

ان ادائیگیوں میں تاخیر پر حکومت کو سود کی مد میں مزید ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔ اور حکومت کو صرف اس مد میں 611 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔

اس کے علاوہ بجلی کے نئے کنکشنز کی درخواستیں زیرِ التوا ہونے، اضافی بجلی کے باوجود لوڈ شیڈنگ، بجلی گھر کو چلانے کے لیے ایندھن کی کمی، کمزور ترسیل اور تقسیم کا نظام بھی بجلی گھروں کی استعداد سے کم استعمال کا باعث ہیں۔


رپورٹ کے مطابق حکومت کی بجلی کی مد میں دی جانے والی سبسڈیز کو بروقت ادائیگی نہ کرنے سے ‘ٹی اینڈ ڈی لاسز’ پر بھی گردشی قرضوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اور اب یہ مجموعی گردشی قرضہ بڑھ کر 2 ہزار 280 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جو اس سے قبل جون 2020 میں دو ہزار 150 ارب روپے تھا۔

توانائی امور کے ماہر فرحان محمود کہتے ہیں کہ 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں حکومت نے نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے توانائی کی ادائیگی کے ساتھ کیپیسٹی پیمنٹ کی بھی ادائیگی رکھی تھی۔ یعنی وہ بجلی جو بجلی گھر سے استعمال نہیں کی گئی اس کی بھی ادائیگی کی جائے گی۔

ان کے بقول، اس زمانے میں بجلی کی کمی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور بڑے ڈیمز پر بھی کام شروع نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ معاہدے مجبوری میں کیے گئے تاکہ بجلی کی کمی پوری کی جا سکے۔

فرحان محمود کا کہنا تھا کہ بعد ازاں جب تیل مہنگا ہوا تو بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے اور ایل این جی کا استعمال بڑھایا گیا۔ لیکن اس وقت کی حکومتوں نے کیپیسٹی پیمنٹ کو کم یا ختم کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا۔

ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ سال گردشی قرضے (جو 130 ارب روپے رہے اور ان) بڑھنے کی رفتار کسی حد تک کم کی گئی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں بہت سے ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے دیگر ذرائع سے اسے کنٹرول کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے حکومت کو بجلی گھروں سے دوبارہ معاہدوں کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ انہیں یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ ان کی ادائیگیوں کا سلسلہ بر وقت ہو گا۔

بلوں کی کم ریکوری بھی قیمت بڑھنے کا سبب

ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز بڑھنے سے بلوں کی ریکوری کم ہوتی ہے اور اس صورت میں ٹرانسمیشن اور جنریشن کمپنیوں کو ادائیگیوں میں رکاوٹیں آتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پشاور الیکٹرک کمپنی کو 38 فی صد، سرگودھا الیکٹرک کمپنی کو 35 فی صدر، حیدرآباد الیکٹرک کمپنی کو 38 فی صد اور کوئٹہ الیکٹرک کمپنی کو 27 فی صد سے زائد کا نقصان صرف ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ (ٹی اینڈ ڈی) کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔

یہی نہیں بلکہ ملک بھر کی 10 سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سے 9 کی ریکوری میں اضافہ تو دیکھا گیا لیکن کوئٹہ الیکٹرک کی ریکوری 49 فی صد سے گر کر 39 فی صد پر آگئی۔

ادھر نیپرا کا کہنا ہے کہ گردشی قرضے قابو میں لانے کے لیے بجلی کی فروخت کو بڑھانا ہو گا۔

ادارے کے بقول مؤثر بجلی گھروں کی استعداد کار کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے، بجلی گھروں سے معاہدوں میں تبدیلی، پرانے اور ناکارہ بجلی گھروں کو تبدیل کرنے، لائسنس میعاد پوری کرنے والے نجی شعبے کے بجلی گھروں کو ختم کرنے، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں ٹرانسپیشن لاسز ختم کرنے، بلوں کی فوری ریکوری ممکن بنانے سمیت دیگر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

توانائی امور کے ماہر فرحان محمود کا کہنا تھا کہ بجلی کے شعبے میں (ٹی اینڈ ڈی لاسز، چوری اور دیگر) نقصانات کو پورا کرنے کے لیے ان شہریوں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے جو بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ یہ زیادتی اور نا انصافی کے مترادف ہے۔

‘بجلی مہنگی ہونے سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا’

ماہر معاشیات اور سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے خیال میں یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ملک میں بجلی کے صنعتی اور گھریلو نرخ بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

ان کے بقول، گزشتہ تین برسوں میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 26 فی صد، صنعتی صارفین کے لیے 45 فی صد جب کہ کمرشل صارفین کے لیے 42 فی صد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے معاہدے ہیں۔ جس کے تحت حکومت کو توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں بجلی کی نصب شدہ استعداد میں چار سال میں 39 فی صد اضافہ ہوا جب کہ کرونا کی صورتِ حال میں ملک میں بجلی کا مجموعی استعمال ایک فی صد گرا جو بہت کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں بجلی کی مجموعی کھپت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تاہم دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں بجلی کا استعمال نہ بڑھنا تشویش کی بات ہے۔

Photo Credit : https://www.thethirdpole.net/content/uploads/2021/03/DJ4JYA.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.