پاکستان میں اتنے ٹرین حادثات کیوں ہوتے ہیں؟


پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پیر کی صبح پیش آنے والے ٹرین کے ہولناک حادثے کے بعد ایک بار پھر ریلوے کے نظام اور حادثات میں اضافے کی وجوہات پر بحث جاری ہے۔

بعض ماہرین ریلوے ٹریکس کی خستہ حالی جب کہ بعض تجزیہ کار روایتی اور برسوں پرانے ریلوے نظام کو حادثات میں اضافے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان ریلوے کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر اعجاز بریرو کی رائے میں ہر حادثے کی وجوہات الگ الگ ہوتی ہیں اور اطلاعات کے مطابق گھوٹکی حادثے کی وجہ ریلوے ٹریک کا جوائنٹ ٹوٹنا بتایا جا رہا ہے۔

ہمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے اعجاز بریرو نے کہا کہ پاکستان میں ریلوے کے نظام کو مستقل دیکھ بھال اور مرمت کی ضرورت ہے اور اگر اس کو صحیح طریقے سے انجام دیا جائے تو حادثات کا امکان کم ہوتا ہے۔

اُن کے بقول حادثہ اسی وقت ہوتا ہے جب تین چار وجوہات جمع ہوں کیوں کہ ماضی میں بھی ایسا دیکھا گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ایک وجہ کسی بھی ریل گاڑی کے پٹری سے اُترنے یا حادثے کی وجہ نہیں بن سکتی۔

لودھراں سے سکھر تک خستہ حال ٹریک

اعجاز بریرو کے مطابق پاکستان میں لودھراں سے سکھر تک کے ریلوے لائن پر زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔

اُن کے بقول پورے ملک کے ریلوے ٹریکس کی مرمت کا کام جاری رہتا ہے جب کہ ضرورت پڑنے پر ٹریک اپ گریڈ بھی کیا جاتا ہے۔

ایک سابق ریلوے ٹریفک کنٹرولر نے ، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے حمارا ہند کو بتایا کہ لودھراں – سکھر ٹریک کے بارے میں شکایات ایک طویل عرصے سے منظر عام پر آرہی ہیں۔ ان کے بقول ، حکومت اس سیکشن پر توجہ دینے کے بجائے ، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ایم ایل ون منصوبے کا انتظار کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایم ایل ون کے تحت پشاور سے کراچی تک نیا ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے جو سی پیک کا حصہ ہو گا۔

سابق ٹریفک کنٹرولر کے مطابق جب تک اِس حصے پر سرمایہ کاری نہیں ہو گی ریلوے کا ٹریک ٹھیک نہیں ہو گا۔ ان کے بقول سکھر کے ٹریک کی حالت بہت خراب ہے اور اِس ٹریک پر روزانہ کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی خامی سامنے آتی رہتی ہے۔

اُن کے بقول جب بھی کوئی ٹریک کمزور ہوتا ہے تو وہاں پر ریل گاڑی کی رفتار کو آہستہ کر کے گزارا جاتا ہے، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔

سابق ٹریفک کنٹرول کہتے ہیں کہ لودھراں سے سکھر تک ٹریک پر ابتدائی طور پر دو ارب سے اڑھائی ارب روپے کی لاگت سے یہ ٹریک ٹھیک ہو جائے گا۔

سابق سی ای او پاکستان ریلوے نے بتایا کہ وہ خود (ڈی ایس) سکھر تعینات رہے ہیں۔ لودھراں سے سکھر ریلوے لائن کی مرمت تو ہوئی اور ہوتی بھی رہتی ہے، لیکن جتنی ہونی چاہیے اُتنی نہیں ہو سکی ہے۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ یہ ریلوے ٹریک غیر محفوظ تو نہیں ہے لیکن بعض اوقات کوئی نہ کوئی غفلت سامنے آ جاتی ہے۔

گھوٹکی حادثے میں غفلت کہاں ہوئی؟

پاکستان ریلوے کے سابق سینئر ٹریفک کنٹرول بتاتے ہیں کہ ریلوے کا نظام بہت سی انجینئرنگ (ملٹی انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ) پر مشتمل ایک محکمہ ہے۔ جس میں سول انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، مکینیکل انجینئرنگ، ٹریفک انجینئرنگ، سگنل انجیئنرنگ اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔

سابق ٹریفک کنٹرولر کے مطابق سب سے پہلے تو یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ جو ریل گاڑی پٹری سے اُتری۔ اُس میں سول انجینئرنگ کی غفلت ہے یا مکینیکل انجینئرنگ کی کوتاہی ہے۔ جس کے بعد ہی حادثے کے ذمے داروں کا تعین ہو سکے گا۔

سابق سی ای او ریلوے اعجاز بریریو کے مطابق پاکستان میں ریل گاڑی کا سفر اب بھی محفوظ ہے جس کے لیے ٹریکس کی جانچ پڑتال اور دیکھ بھال وقت کے ساتھ ساتھ ہوتی رہتی ہے۔ اُن کے مطابق لائنوں کے ساتھ ساتھ سفر پر روانہ ہونے سے قبل ریلوے انجن کا بھی معائنہ کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ جانچ پڑتال روزانہ کی بنیاد پر بھی ہوتی رہتی ہے۔

ماضی کی انکوائریاں

سابق ٹریفک کنڑولر کے مطابق ماضی میں ٹرین حادثات کی ہونے والی انکوائریاں، انکوائری رپورٹ کم اور الزام تراشی زیادہ رہی ہے۔ جس میں حکام ایک دوسرے پر ذمے داریاں ڈالتے رہے ہیں۔

اُن کے مطابق دنیا بھر میں کسی بھی حادثے کے بعد افراد کو موردِ الزام ٹھیرانے کے بجائے نظام میں موجود خامیوں کی نشان دہی کر کے اُن کی اصلاح کی جاتی ہے۔

اُن کے مطابق کسی بھی حادثے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور اُس میں کی گئی سفارشات پر من و عن عمل بھی ہونا چاہیے۔

حکومتی مؤقف

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بد قسمتی سے پاکستان میں ریلوے کے نظام اور باقی محکموں میں جو سرمایہ کاری ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں تمام ادارے تنزلی کا شکار ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ریلوے میں مین لائن وَن (ایم ایل ون) 74 برسوں کے بعد ایک بڑا منصوبہ ہے۔ جس کو پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت لے کر آئی ہے۔ اُن کے بقول ایم ایل ون کے بعد پاکستان میں محکمہ ریلوے کے حالات بدل جائیں گے۔

حالیہ عرصے میں پیش آںے والے ٹرین حادثات

پاکستان میں مسافر ریل گاڑیوں کو پہلے بھی کئی حادثات پیش آ چکے ہیں۔ جن میں کئی بڑی نوعیت کے جب کہ بہت سے دیگر حادثات شامل ہیں۔

اکتوبر 2019 میں پیش آنے والے خوفناک حادثے میں رحیم یار خان کے قریب تیز گام میں بھڑکنے والی آگ کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل جولائی 2019 میں اکبر ایکسپریس رحیم یار خان کے قریب مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں 20 مسافر ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے تھے۔

محکمہ ریلوے کے ریکارڈ کے مطابق حادثات سے انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

اِسی طرح نومبر 2016 میں کراچی کے لانڈھی ریلوے اسٹیشن دو ٹرینیں آپس میں ٹکرانے سے 31 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نومبر 2015 میں گوجرانوالہ کے قریب ٹرین نہر میں جا گری تھی جس کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔

جولائی 2013 میں خان پور کے قریب ٹرین اور رکشے کے تصادم کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Photo Credit : https://africa.cgtn.com/wp-content/photo-gallery/2021/06/gettyimages-1231572614-612×612.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: