پاکستان: جعلی فنگر پرنٹس کے ذریعے رقوم نکلوانے والا گروہ پکڑا گیا


پاکستان کے صوبے پنجاب کی پولیس نے فنگر پرنٹس حاصل کرنے کے بعد جعلی انگوٹھوں کے ذریعے فلاحی اکاؤنٹس سے رقوم چوری کرنے والے ایک مبینہ گروہ کے تین ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اوکاڑہ سے گرفتار کیے جانے والے ملزمان فلاحی سرکاری پروگرام ‘احساس کفالت’ اور اس جیسے دیگر پروگرامز سے رقوم حاصل کرنے والے حق داروں کے پیسے چوری کرتے تھے۔

اوکاڑہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) فیصل نے حمارا ہند کو بتایا کہ ملزمان نے مختلف لوگوں کے فنگر پرنٹس کے ذریعے موبائل فون کے سمز نکالے اور ماہانہ مدد کے لئے ‘احسان کیفالت پروگرام’ اور دیگر سرکاری فلاحی اداروں کے ساتھ اندراج کیا۔ وہ پیسے نکلواتے تھے۔

واضح رہے احساس کفالت پروگرام کا سابقہ نام ‘بے نظیر انکم سپورٹ’ فنڈ تھا۔

ڈی پی او اوکاڑہ کے مطابق انہیں معلومات ملی تھیں کہ ایک منظم گروہ لوگوں کی معلومات لے کر ان کے جعلی فنگر پرنٹس حاصل کر رہا ہے جس کی مدد سے وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (احساس پروگرام) اور اسٹوڈنٹس سپورٹ پروگرام وغیرہ جیسے سرکاری فلاحی اداروں سے رقوم نکلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے 350 افراد کا ڈیٹا برآمد ہوا ہے۔

ڈی پی او اوکاڑہ کے بقول دورانِ تفتیشن ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے مختلف افراد کے نام پر لاکھوں روپے کی رقم نکلوا چکے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اُنہوں نے کیس کی گتھیاں سلجھانے کے لیے کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) سے مدد لی ہے۔

ڈی ایس پی سی آئی اے مہر یوسف نے حمارا ہند کو بتایا کہ گینگ سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان کو اوکاڑہ میں صنم سنیما کے قریب گذشتہ ہفتے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

مہر یوسف کے مطابق تینوں ملزمان تعلیم یافتہ ہیں جن کے خلاف اب تک چار مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جب کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

‘ملزمان دو طریقوں سے پیسے نکلواتے تھے’

فراڈ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی ایس پی سی آئی نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان دو طریقوں سے بینکوں اور دیگر سرکاری فلاحی اداروں سے سادہ لوگوں کے نام پر پیسے نکلواتے تھے۔

ان کے بقول ملزمان شہریوں کو ‘کفالت پروگرام’ اور دیگر سرکاری پروگرامز سے پیسے لے کر دینے کا جھانسہ دیتے اور پھر سادہ کاغذ پر اُن کے انگوٹھے کے نشان اور قومی شناختی کارڈ نمبر حاصل کرتے تھے۔

مہر یوسف نے بتایا کہ ملزمان عوامی مقامات پر سموں کی تصدیق کرنے والوں کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے اور وہ سم کی تصدیق کے لیے آنے والے لوگوں کے انگوٹھوں کے نشانات کو اسکین کرتے اور اُن کی مدد سے پلاسٹک کے جعلی انگوٹھے بنواتے پھر اُس نام پر موبائل سمیں نکلواتے تھے۔

ڈی ایس پی سی آئی اے کے مطابق ملزمان انگوٹھوں کے نشان، قومی شناختی کارڈر نمبر اور سم نمبر کی مدد سے ‘کفالت پروگرام’ سمیت مختلف سرکاری فلاحی پروگراموں میں درخواست دیتے اور منظوری پر اِن ہی جعلی انگوٹھوں کی مدد سے مختلف بینکوں سے پیسے نکلواتے تھے۔

مہر یوسف کے مطابق ملزمان نے حکومت کی طرف سے ملنے والی چھ ہزار روپے فی کس امداد نکلوانے کی تیاری کر رکھی تھی اور اُس سے پہلے ہی وہ پولیس کی حراست میں آ گئے کیونکہ حکومت نے دسمبر کے بعد سے ماہانہ امداد کی رقم جاری ہی نہیں کی۔

ڈی ایس پی کے مطابق روپوں کی ممکنہ منتقلی رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں ہونا تھی۔

‘ملزمان لاہور سے جعلی انگوٹھے بنواتے تھے’

ایک سوال کے جواب میں ڈی ایس پی سی آئی اے مہر یوسف نے بتایا کہ ملزمان لاہور شہر سے جعلی انگوٹھے بنواتے تھے جب کہ ملزمان کی گرفتاری کا سن کر جعلی انگوٹھے بنانے والے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

ڈی ایس پی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے 338 سمیں، 352 انگوٹھے، 354 اے ٹی ایم کارڈ، 107 شناختی کارڈز اور بڑی تعداد میں بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، وزیرِ اعظم احساس پروگرام کے کارڈ قبضے میں لے لیے ہیں۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ سی آئی اے نے احساس کفالت پروگرام کی ہیلپ لائن پر بھی ان تمام مستحقین کی تفصیل دے دی ہے تا کہ اصل حق داروں کے علاوہ کوئی اور امدادی رقم حاصل نہ کر سکے۔

ان کے بقول ملزمان سے دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ اوکاڑہ، لاہور اور گوجرانوالہ کے لوگوں کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔

دوسری جانب بے نظیر انکم اسپورٹ فنڈ (کفالت پروگرام) کے ضلع لاہور اور اوکاڑہ کے سینئر افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے حق داروں کے ناموں پر پیسے نکلوانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی اطلاع وہ متعدد بار بینک کو دے چکے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اِس طریقۂ کار میں مبینہ طور پر بینک اہلکار بھی ملوث ہیں جو ملزمان کو لوگوں کے انگوٹھوں تک رسائی دیتے ہیں۔

سینئر افسر کے مطابق اُن کے محکمے نے کچھ عرصہ قبل رقوم دینے کے لیے اے ٹی ایم کارڈ ختم کر دیے تھے اور اس کی جگہ بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا تھا۔

ان کے بقول ‘کفالت پروگرام’ کے تحت ہر شخص کو حکومت کی طرف سے تین ماہ بعد چھ ہزار روپے کی امداد دی جاتی ہے جب کہ امدادی رقم کی وصولی کی تصدیق کے تین مراحل مقرر کر رکھے ہیں۔ جس میں شناختی کارڈ کی تصدیق، موبائل سم اور درخواست گزار کے انگوٹھے سے بائیومیٹرک تصدیق شامل ہے۔

واضح رہے کہ اِس سے قبل بھی مستحق افراد کو رجسٹریشن کے بعد امدادی رقوم کی فراہمی اور سادہ لوح افراد کو لوٹنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

Photo Credit : https://media.istockphoto.com/photos/man-on-the-chair-in-handcuffs-rear-view-and-closeup-picture-id1135661328?k=6&m=1135661328&s=612×612&w=0&h=JZqrmc2NX68HkY3tusGSlQikIPyMKW3E6LEhFQuaczo=

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: