پاکستانی فوج کے زیرِ انتظام حراستی مراکز کو کیا اب بھی قانونی تحفظ حاصل ہے؟

پاکستان میں فوج کے زیرِ انتظام حراستی مرکز سے ایک ملزم کی برآمدگی کے بعد ان کی قانونی حیثیت پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔

حال ہی میں لاپتا افراد کے کیس کی سماعت کے دوران عارف گل نامی ملزم کو عدالتی حکم پر پیش کیا گیا تھا جو گزشتہ تین برس سے خیبرپختونخوا میں فوج کے زیرِ انتظام حراستی مرکز میں قید تھا۔

قانونی حلقے اور ماہرین سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کسی ملزم کو سیکیورٹی فورسز کے زیرِ انتظام حراستی مراکز میں رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے ‘ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور’ کا قانون سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر ایسے قوانین حالتِ جنگ میں بنائے جاتے ہیں جہاں ان قوانین کی ضرورت پڑتی ہے۔ یا پھر ایسے حالات میں جب سول انتظامیہ خانہ جنگی کی روک تھام نہیں کر سکتی۔

لیکن اُن کے بقول پاکستان میں بدقسمتی سے مختلف قوانین لائے جاتے ہیں پھر ان میں توسیع ہوتی رہتی ہے اور ‘ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور’ بھی اسی نوعیت کا قانون ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے اگست 2019 میں ایکشن ان ایڈ سول آف سول پاورز آرڈیننس 2019 نافذ کیا تھا جس کے تحت مسلح فورسز کو کسی بھی فرد کو صوبے میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بغیر وجہ بتائے اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کے اختیارات حاصل ہو گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے اکتوبر 2019 میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن آرڈینس کو ختم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کے لیے 25 اکتوبر 2019 کو ایک بڑا بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ یہ قانون چونکہ بنیادی خقوق کی خلاف ورزی تھا اس لیے انہوں نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دراصل ابھی تک تمام صورتِ حال مبہم ہے۔ ہائی کورٹ نے اسے ماورائے قانون قرار دیا جب کہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف حکم امتناع برقرار ہے۔ جس کے بعد یہ فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے کہ یہ قانون ابھی ہے بھی یا نہیں؟

اُنہوں نے الزام لگایا کہ بعض قوتیں ان نام نہاد حراستی مراکز کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ابہام ان قوتوں کو ایک طرح سے آزادی دیتا ہے جو خود کو آئین اور قانون سے ماورا سمجھتی ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں فوج داری، دہشت گردی، لاپتا افراد اور ملٹری کورٹ سے متعلق کیسز میں پیش ہونے والے سینئر وکیل شبیر حسین گگیانی کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشنز کے بعد اس علاقے کے لوگوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں جس کے بعد بتایا گیا کہ کچھ افراد کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2008 کے بعد جب مالاکنڈ ڈویژن اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں عروج پر تھیں تو وسیع پیمانے پر ملٹری آپریشن شروع ہوئے۔ جس کے بعد انہی علاقوں کے مختلف حصوں سے لوگوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب لاپتا افراد کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ گئیں تو ان کے لواحقین 2011 میں احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ شہروں اور بازاروں کے علاوہ مقامی افراد نے عدالتوں کے باہر بھی اپنے احتجاج ریکارڈ کرائے۔ جس کے بعد یہ معاملات عدالتوں میں آئے۔

شبیر حسین گگیانی کے مطابق ان حراستی مراکز کو قانونی تحفظ دینے کے لیے 2011 سے ہی یہ قانون مالاکنڈ اور فاٹا میں لاگو کر دیا گیا تھا۔ لیکن 2018 تک اس کا کسی کو علم ہی نہیں تھا۔

اُن کے بقول 2018 میں قبائلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد جب وہاں پولیٹیکل ایجنٹ، کمشنر کورٹ اور فاٹا ٹرییونلز غیر فعال ہوئے تو متاثرہ افراد نے ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کرنا شروع کر دیں۔

شبیر حسین گگیانی کے مطابق جب عدالتوں نے حکومت سے طلب کرنا شروع کیا تو ریاستی اداروں نے حراستی مراکز میں رکھے جانے والے افراد کا دفاع ‘ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس’ کے تحت کیا۔

شبیر حسین گگیانی کہتے ہیں کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ قانون 2011 میں نافذ کیا گیا۔ تاہم 2008 سے 2011 تک جو لوگ حراست میں لیے گئے تھے ان پر بھی یہی قانوں نافذ کیا گیا۔

پیپلز پارٹی نے اس ایکٹ کی منظوری کیوں دی؟

سن 2008 سے 2013 تک سابقہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایم این اے اخونزادہ چٹان کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے الیکشن آزاد حیثیت میں لڑا تھا تاہم ان کا الحاق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا جس کی اس وقت مرکز میں حکومت تھی۔

اُن کے بقول اس دوران فاٹا اور پاٹا کے حالات بے قابو تھے۔ حکومت کی کوئی رٹ وہاں پر نہیں تھی۔ اس لیے حکومت نے وقتی طور پر اس قانون کے نفاذ میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔

پاکستان میں فوج کے زیرِ انتظام کتنے حراستی مراکز ہیں؟

حراستی مراکز کی تعداد کے حوالے سے 2019 میں اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ خیبرپختونخوا میں حراستی مراکز کی تعداد 16 ہے اور ان میں رکھے جانے والے افراد تقریباً آٹھ ہزار ہیں۔

ان کے مطابق یہ تمام لوگ فاٹا اور پاٹا سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے بڑے حراستی مراکز کوہاٹ اور لکی مروت میں ہیں اور یہ دو مراکز سیٹل علاقوں میں آتے ہیں۔

شبیر حسین گگیانی کے مطابق اس قانون کے تحت عدالتوں سے تمام تر اختیارات لے لیے گئے تھے۔ حراستی مراکز میں قید ملزمان کو آئین کے تحت حقوق بھی نہیں دیے جا رہے تھے۔

اس پر انہوں نے 2019 میں پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن جمع کرائی۔

ایڈووکیٹ شبیر حسین گگیانی کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے گورنر اور صدرِ پاکستان کسی بھی قانون کو آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت ہی لاگو کرتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب ان تمام علاقوں کا 2018 میں صوبے میں انضمام ہو گیا تو آرٹیکل 147 خود بخود ختم ہو گیا۔ جس کے تحت ایف سی آر کا قانون اور ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔

تاہم حراستی مراکز پھر بھی قائم رہے۔ جس کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی گئی۔

اگست 2019 میں گورنر شاہ فرمان نے ایک آرڈیننس کے ذریعے اس قانون کا دائرہ کار پورے خیبرپختونخوا تک پھیلا دیا۔

شبیر گگیانی کے مطابق انہوں نے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں ایک بینچ نے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عدالت نے آئی جی خیبر پختونخوا کو ہدایت کی تھی کہ حراستی مراکز جس کسی کی بھی تحویل میں ہیں ان سے لے کر اسے سب جیل تصور کیا جائے اور اسکروٹنی کے بعد تمام ملزمان کو مجاز عدالت میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ریاست نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ جس کے بعد انہیں حکمِ امتناع ملا جو اب بھی برقرار ہے۔

سابق سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر سید اختر علی شاہ ایڈووکیٹ شبیر گگیانی کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 2008 میں فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہاں متوازی نظام چل رہے تھے اور ہر طرف شورش تھی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ خوف اور ڈر کا یہ عالم تھا کہ دہشت گردی کے سنگین واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کوئی بھی گواہی دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسی لیے ریاست کو حراستی مراکز کی ضرورت محسوس ہوئی اور ان تمام افراد کو باقی ماندہ افراد سے الگ تھلگ رکھا گیا۔

شبیر حسین گگیانی کے مطابق ملک کی تاریخ میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف قوانین بنے۔ انسدادِ دہشت گردی کا قانون 1997 میں بنا جس میں باقاعدہ عدالت کی وضاحت بھی کی گئی تھی کہ خصوصی عدالتیں ہوں گی۔ یہ ایک واحد قانون ہے جس میں عدالت کا کوئی تصور نہیں ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ حراستی مراکز میں رکھے گئے تمام افراد کے خلاف مقدمات انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ہی چلائے گئے۔

سابق سیکریٹری داخلہ سید اختر علی شاہ کے مطابق حراستی مراکز میں مالاکنڈ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث، خصوصاً کم عمر افراد کی بحالی کے مراکز بھی بنائے گیے۔ جہاں ماہرِ نفسیات کی موجودگی میں مختلف پروگرام کے تحت ان میں شدت پسندی کا رجحان ختم کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں میڈیا رپورٹس کے مطابق جن افراد کو رہا کیا گیا تھا ان میں اکثریت انہی بحالی سینٹر میں رہنے والے افراد کی تھی۔

یاد رہے کہ اگرچہ فاٹا یعنی قبائلی علاقے اور پاٹا یعنی نیم قبائلی علاقوں انضمام کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں تاہم ان علاقوں میں اب بھی ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور کا قانوں نافذ ہے۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان کا عدالت میں یہ مؤقف رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں فوج کے زیرِ انتظام حراستی مراکز نہیں بلکہ یہ اصلاحی مراکز ہیں۔ جہاں نہ تو تشدد کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ خلاف آئین کوئی سلوک ہوا ہے۔

Photo Credit : https://i0.wp.com/www.lingnews24.com/wp-content/uploads/2022/01/Do-Pakistani-Army-Detention-Centers-Still-Have-Legal-Protection.jpg?fit=1200%2C675&ssl=1

Leave a Reply

Your email address will not be published.