ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے وہ آٹھ نئے کھلاڑی جو ٹرمپ کارڈ ثابت ہو سکتے ہیں

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میلہ متحدہ عرب امارات میں جاری ہے اور دنیا کے بہترین کھلاڑی اپنی ٹیم کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیے تیار ہیں۔

ورلڈ کپ میں جہاں کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو پہلے بھی میگا ایونٹ کھیل چکے ہیں، وہیں کچھ ایسے نئے کھلاڑی بھی ہیں جو پہلی بار کسی بڑے ایونٹ کا حصہ بنے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ایسے ہی آٹھ کھلاڑیوں پر نظر ڈالتے ہیں جو اگر اس ایونٹ میں چل گئے تو ان کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے میں با آسانی پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان کے حیدر علی

پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ کا دار و مدار بابر اعظم، محمد رضوان اور دیگر کھلاڑیوں پر ہے۔ لیکن نوجوان حیدر علی ان کھلاڑیوں کا بوجھ بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔

جارح مزاج بلے باز نے پاکستان کے لیے ابھی تک ورلڈ کپ میں کوئی میچ نہیں کھیلا ہے۔ البتہ بھارت سے میچ سے قبل اعلان کردہ بارہ کھلاڑیوں میں ان کا نام شامل کیا گیا تھا۔

اپنے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ڈیبیو میچ میں انگلینڈ کے خلاف 33 گیندوں پر 54 رنز بنانے والے حیدر علی نے حال ہی میں ختم ہونے والے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے آٹھ میچز میں 63 اعشاریہ چار کی اوسط اور 146 اعشاریہ 75 کے اسٹرائیک ریٹ سے 317 رنز بنائے تھے۔

ان کی اس کارکردگی کے پیچھے 91 رنز کی ناقابل شکست اننگرز اور تین نصف سینچریاں بھی تھیں جس کے بعد ان کو پاکستان ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

پاکستان کے محمد وسیم جونیئر

محمد وسیم جونیئر پاکستان ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں میں سے ایک بہتر آل راؤنڈر ہیں، جو اچھی بالنگ کے ساتھ عمدہ بیٹنگ بھی کرنا جانتے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ ہو، کشمیر پریمیئر لیگ یا پھر نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ، انہوں نے ہر میدان میں اپنی کارکردگی سے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

محمد وسیم جونیئر کو اگرچہ ورلڈ کپ میں شاید ایک یا دو میچز ہی کھیلنے کو ملیں لیکن اس سے انہیں جو تجربہ حاصل ہو گا اس کا فائدہ آنے والے برسوں میں ہو سکتا ہے۔

بھارت کے شرادل ٹھاکر

سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے بھارت کے شرادل ٹھاکر کو نئے زمانے کا این بوتھم قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں نہ صرف ٹھاکر کی بالنگ میں ورائٹی ہے بلکہ جب ان کے ہاتھ میں بیٹ ہوتا ہے تو وہ کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شرادل ٹھاکر بھارتی ٹیم میں ایک اچھے آل راؤنڈر کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔ انڈین پریمیئر لیگ کے حالیہ ایڈیشن میں انہوں نے 21 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ایونٹ میں چوتھے کامیاب بالر قرار پائے۔

بھارت کے ورن چکرورتی

بھارت کی کرکٹ ٹیم کی مضبوط بیٹنگ کو تو سب ہی جانتے ہیں لیکن بھارت کی بالنگ میں ایک نیا اضافہ ہوا ہے جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ کھلاڑی لیگ اسپنر ورن چکر ورتی ہیں۔

ورن چکرورتی اس وقت بھارتی ٹیم میں ایک بہتر اسپنر کے طور پر موجود ہیں اور ان کی حالیہ کارکردگی کی بنا پر انہیں فائنل الیون میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

وہ رواں سال انڈین پریمیئر لیگ میں 18 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب اسپنر رہے۔ ان کے پاس ایک اسی ‘کیرم’ بال ہے جو اگر وکٹ نہ لے تو بلے باز کو پریشان ضرور کر سکتی ہے۔

ویسٹ انڈیز کے ہیڈن والش

انٹرنیشنل کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرنے سے پہلے لیگ اسپنر ہیڈن والش نے اپنے امریکی پاسپورٹ کی وجہ سے امریکہ کے لیے آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے۔ البتہ 2019 میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے ڈیبیو کرنے کے بعد وہ اسی ٹیم کے ساتھ ہیں۔

رواں سال آسٹریلیا کے خلاف تین میچز میں تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے بعد انہوں نے ویسٹ انڈین اسکواڈ میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔

آسٹریلیا کے جوش انگلس

ایک ایسی فہرست جس میں زیادہ تر وہ کھلاڑی شامل ہیں جنہوں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی ہوئی ہے۔ اس میں آسٹریلوی وکٹ کیپر جوش انگلس کی موجودگی کچھ الگ لگتی ہے۔ کیوں کہ انہوں نے ابھی تک کسی بھی فارمیٹ میں آسٹریلیا کی نمائندگی نہیں کی۔

البتہ دنیا بھر میں ہونے والی کرکٹ لیگز میں 26 سالہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے اپنا ایسا مقام بنایا کہ آسٹریلوی سلیکٹرز ان کا بطور سیکنڈ وکٹ کیپر انتخاب کیے بغیر نہ رہ سکے۔

آسٹریلیا کی بگ بیش کرکٹ لیگ ہو یا پھر انگلینڈ میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز جوش انگلس کی کارکردگی نے آسٹریلوی شائقین کو خوب متاثر کیا اور انہیں آسٹریلیا کے سابق کھلاڑی ایڈم گلکرسٹ کی یاد دلا دی۔

وہ ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں دو سینچریاں بھی اسکور کر چکے ہیں۔

انگلینڈ کے ٹائمل ملز

اگرچہ ٹائمل ملز نے انگلینڈ کی پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نمائندگی 2016 میں کی تھی۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب انہیں کسی بڑے ایونٹ میں اپنے ملک کے لیے کھیلنے کا موقع ملے گا۔

فاسٹ بالرز جوفرا آرچر اور سیم کرن کی غیر موجودگی میں ان پر سلیکٹرز نے اعتبار کیا ہے، جس پر وہ پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

انگلش ٹیم سے باہر رہتے ہوئے فاسٹ بالر نے آخری اوورز میں بالنگ کو بہتر کیا اور انگلش کپتان اوئن مورگن ان سے یقیناً فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

بائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے ٹائمل ملز نے رواں سال ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں 14 اعشاریہ ایک ایک کی اوسط سے 17 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ ‘دی ہندریڈ’ میں بھی انہوں نے صرف 26 کی اوسط سے آٹھ بلے بازوں کو واپسی کی راہ دکھائی۔

نمیبیا کے گیرہارڈ ایراسمس

نمیبیا کی ٹیم جو کوالی فائنگ راؤنڈ سے سپر 12 میں تو پہنچ گئی ہے لیکن اس کے اگلے مرحلے تک رسائی کے امکان کم ہیں۔ البتہ کپتان گیرہارڈ ایراسمس کی قیادت میں ٹیم نے جو کارکردگی کوالی فائنگ میں دکھائی تو اس سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔

Photo Credit : https://circleofcricket.com/post_image/post_image_715fc01.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.