ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو سات ماہ بعد رہا کر دیا گیا

پاکستان کے صوبے پنجاب کی پولیس نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کو سات ماہ بعد رہا کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ٹی ایل پی کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سعد حسین رضوی کو رہا کر دیا گیا ہے۔

سعد رضوی کو مقامی انتظامیہ کی درخواست پر نظر بند کیا گیا تھا اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل رکھا گیا تھا۔

دو ہفتے قبل ہی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالا تھا تاہم جماعت کے امیر سعد حسین رضوی بدستور حراست میں تھے۔

ٹی ایل پی کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے پر تحریکِ لبیک پاکستان نے 11 روز سے وزیرِ آباد میں جاری دھرنا ختم کرتے ہوئے لاہور میں اپنے مرکز مسجد رحمت العالمین جانے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے رواں سال اپریل میں ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ لیکن حالیہ عرصے میں حکومت سے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اس کے پرانے اسٹیٹس کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے بعد اب ٹی ایل پی کے ساتھ لفظ ‘کالعدم’ نہیں لکھا جائے گا اور یہ جماعت ملک بھر میں اپنی مذہبی و سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکے گی۔

ٹی ایل پی کے تمام منجمند اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے ہیں اور اب پارٹی کے ذمے داران اپنے اکاؤنٹس سے رقوم نکلوا یا جمع کرا سکتے ہیں۔

حکومتی نوٹیفکیشن کو انسداد دہشت گردی کے ادارے ‘نیکٹا’ کو بھی بھیجا گیا تھا تاکہ کالعدم جماعتوں کی فہرست میں 79 نمبر پر موجود اس جماعت کا نام نکالا جا سکے۔​

فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور سعد رضوی کی رہائی کے معاملے پر 12 ربیع الاول کو لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز پر شروع ہونے والا میلاد کا اجتماع میلاد کے بعد احتجاج کا اجتماع بن گیا تھا اور مرکزی قائدین نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں حکومت کو دی گئی ڈیڈلائن پر حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل نہ آنے پر جماعت نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا اور اس دوران کئی مقامات پر خونریز جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہل کار ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

حکومت نے اس جماعت سے عسکری جماعت کے طور پر نمٹنے کا فیصلہ کیا تھا اور پنجاب حکومت کی درخواست پر 60 روز کے لیے رینجرز کو اختیارات سونپ دیے تھے۔

صورتِ حال زیادہ خراب ہونے پر وزیر آباد کے قریب مظاہرین کے رکنے پر رویتِ ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن سمیت بریلوی مکتبۂ فکر کے کئی علما مذاکرات کے عمل میں شامل ہوئے اور اعلیٰ حکومتی شخصیات سے مذاکرات کیے گئے۔

مذاکراتی عمل سے وزیرِ داخلہ شیخ رشید اور وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کو دور رکھا گیا۔ حکومت کی جانب سے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور علی محمد خان نے علما کے ساتھ مذاکرات کیے۔

اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی مذاکرات کے عمل میں کردار ادا کیا اور ٹی ایل پی کی جانب سے مذاکرات میں شریک بشیر فاروقی نے اس بات کی تصدیق بھی کی۔ تاہم حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔

مذاکرات کے بعد حکومت نے ایک خفیہ معاہدے کے بارے میں بتایا جس کی تفصیلات سے میڈیا اور عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تفصیلات مناسب وقت پر سامنے آ جائیں گی اور اب جماعت کو کالعدم فہرست سے نکالنے کے بعد اس معاہدے کے نکات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے اس معاہدے کی تفصیل سے عوام کو آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم حکومت نے اب تک اس معاہدے کی مکمل تفصیلات عام نہیں کیں۔
پاکستان کی حکومت نے گزشتہ برس 16 نومبر کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی جماعت ٹی ایل پی کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکاتی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے دوسرے معاہدے پر اُس وقت کے وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے دستخط موجود تھے۔ اس معاہدے پر بھی عمل درآمد نہ ہوا اور 15 اپریل کو جماعت کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

بعض حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ اس جماعت کو سیاسی دھارے میں لایا جا رہا ہے، لیکن یہ جماعت تمام انتخابات میں پہلے ہی حصہ لے رہی تھی کیوں کہ انہیں کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے ریفرنس کے ذریعے اس جماعت پر پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔

یہ جماعت لگاتار سیاسی طاقت حاصل کر رہی ہے اور گزشتہ الیکشن میں ٹی ایل پی نے 22 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔

Photo Credit : https://www.24newshd.tv/digital_images/extra-large/2021-04-16/banned-tehreek-e-labbaik-pakistan-tlp-chief-hafiz-saad-rizvi-file-photo-1618519032-5606.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.