ویکسین لگوانے کےجعلی کارڈوں کا کاروبار پھیل رہا ہے


جیسے جییسے مزید کاروباروں، یونیورسٹیوں اور وفاقی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کے ثبوت مانگنے میں اضافہ ہو رہا ہے، ویکسین لگوانے کے جعلی کارڈوں کا کاروبار عروج پکڑ رہا ہے۔

سنسناٹی،اوہائیو میں امریکی کسٹمزحکام نے 16 اگست سے اب تک کرونا ویکسین لگوانے کے 1،683 جعلی کارڈ اور فائزر ویکسین لگوانے کے 2،034 جعلی اسٹیکرز پر مشتمل پانچ کھیپں پکڑی ہیں۔ چین سے آنے والی یہ جعلی دستاویزات کئی امریکی ریاستوں میں واقع گھروں اور اپارٹمنٹس کے پتے پر بھیجی جا رہی تھیں۔

اگست میں، شکاگو کے ایک فارماسسٹ کو حراست میں لیا گیا جس پر الزام ہے کہ وہ بیماریوں کے کنٹرول اور بچاؤ کے امریکی ادارے سی ڈی سی کی جانب سے کرونا ویکسین لگوانے کے جعلی کارڈ ‘ای بے’ کی ویب سائٹ پر فروخت کر رہا تھا۔

اسی طرح جولائی میں قدرتی طریقہ علاج کے ایک معالج کو ویکسین لگوانے کے جعلی کارڈ بیچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

قانونی ماہرین جعلی ویکسین کارڈ کا موازنہ جعلی رقم یا جعلی ڈرائیونگ کے جعلی لائسنس سے کرتے ہیں۔

“یہ ایک قسم کی دھوکہ دہی ہے،” پٹسبرگ، پنسلوانیا کی ڈوکسین یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر ویسلی اولیور کہتے ہیں۔ “ایک اور نظریہ یہ ہے کہ آپ اس سرکاری چیز کو چوری کر رہے ہیں کہ جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ کو حقیقت میں ویکسین دی گئی ہے، اور یہ دونوں ایک ہی جرم کے مختلف انداز ہیں۔”

صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں 100 یا اس سے زیادہ ملازمین والے تمام کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے کارکنوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کا کورس مکمل کرنے کے لیے کہیں یا ان سے ہفتے میں ایک بار کرونا کے منفی ٹیسٹ کا سرٹیفیکٹ طلب کریں۔

ایک عالمی سائبرسیکیورٹی کمپنی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر بائیڈن کے اس اعلان کے بعد سے جعلی ویکسین کارڈ کی قیمت اور انہیں فروخت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر کرسٹوفر رابرٹسن کے مطابق یہ عمل دوسرے لوگوں کے حقوق کے خلاف ویکسین کا بہانہ بنانے اور انہیں خطرے میں ڈالنا ہے۔

پچھلے مہینے، نیویارک میں 15 افراد پر کرونا ویکسین کے جعلی کارڈ فروخت کرنے اور خریدنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ایک خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے 250 جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ تقریباً 200 ڈالر فی کارڈ میں فروخت کیے۔ ایک دوسرا 27 سالہ ملزم، جو ایک میڈیکل کلینک کا کارکن تھا، مبینہ طور پر نیویارک کے حفاظتی ٹیکوں کے ڈیٹا بیس میں کم از کم 10 افراد کے لیے جعلی ویکسین ڈیٹا داخل کرنے کے عوض 250 ڈالر وصول کر رہا تھا۔ اس جعلی خرید و فروخت کا الزام فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر اور لازمی سروس کے کئی کارکنوں پر بھی لگایا گیا ہے۔

صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ایسے افراد جن کے پاس ویکسین لگوانے کے جعلی کارڈ ہوں، وہ ان مریضوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں جن کی وہ دیکھ بھال کرتے ہیں۔

اولیور کے مطابق، جب جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ خریدنے اور فروخت کرنے کے الزام میں مشتبہ افراد کی بات آتی ہے تو جج یہ دیکھتے ہیں کہ مبینہ جرم سے کس کو نقصان پہنچا۔جعلی کارڈ خرید کر بنیادی طور پر یہ لوگ دوسرے لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔
اولیور کا کہنا ہے کہ یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے ہم عام طور پر فوجداری قانون میں دیکھتے ہیں۔ “اصل نقصان جو آپ نے کیا ہے وہ آبادی کے لیے خطرہ ہے”۔

جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہیلتھ کیئر ورکرز، یا وہ لوگ جو نرسنگ ہومز میں کام کرتے ہیں، اگر جعلی ویکسین کارڈ خریدنے یا بیچنے میں ملوث ہیں، تو انہیں سخت تر جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اولیور کا کہنا ہے کہ “آپ جتنے زیادہ لوگوں کو خطرے میں ڈالیں گے، آبادی کو اتنا ہی خطرہ لاحق ہو گا۔ واضح طور پر، آپ کو زیادہ سختی سے سزا دی جائے گی۔”

رابرٹسن کا کہنا ہے کہ پورے ویکسینیشن کارڈ سسٹم کی سالمیت خطرے میں ہے۔​ “یہ رقم جعل سازی کے مترادف ہے۔ اس سے انسانی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔”

Photo Credit : https://content.fortune.com/wp-content/uploads/2021/03/GettyImages_web-1231809027.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.