ووہان میں عالمی ادارۂ صحت کی کرونا وائرس کے آغاز پر تحقیق شروع

ووہان میں عالمی ادارۂ صحت کی کرونا وائرس کے آغاز پر تحقیق شروع

عالمی ادارۂ صحت کے وفد کا چین میں دو ہفتوں کا قرنطینہ جمعرات کو ختم ہو گیا ہے جس کے بعد ماہرین پر مشتمل ٹیم نے کرونا وائرس کے آغاز پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

چین نے ابتدا میں بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبے سے انکار کیا تھا۔ لیکن اب وفد کو مناسب رسائی کا وعدہ کیا ہے۔ ٹیم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، اسپتالوں اور اس مارکیٹ میں افراد سے انٹرویو کرے گی جہاں سب سے پہلے کرونا وائرس کا آغاز ہوا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت کے وفد کے رکن مائیک ریان کے مطابق “ہم یہاں وائرس کے پھیلنے کی وجہ تلاش کرنے آئے ہیں جو ہمیں مستقبل میں محفوظ رکھنے کے کام آئیں گے۔ ہم نہ مجرم ڈھونڈنے آئے ہیں اور نہ ہی کسی پر الزام دھرنے۔”

یاد رہے کہ کرونا وائرس 2019 کے اواخر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی وبا بن گیا۔

اب تک 120 ممالک نے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن میں بہت سی حکومتیں چین پر دیر سے اقدامات اٹھانے کا الزام عائد کرتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ “یہ بہت اہم ہے کہ ہم وبا کے ابتدا کے دنوں کی گہرائی تک جائیں اور ہم شروع سے بین الاقوامی تحقیقات کے حق میں تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ درست اور شفاف ہو۔”

کرونا وائرس کی عالمی وبا سے اب تک دنیا بھر میں دس کروڑ سے زائد افراد متاثر اور 21 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Photo Credit : https://www.google.com/search?q=WHO%20experts%20in%20Wuhan&tbm=isch&hl=en&safe=active&tbs=il:ol&rlz=1C1CHZL_enIN761IN762&sa=X&ved=0CAAQ1vwEahcKEwjg6rCO7sDuAhUAAAAAHQAAAAAQAg&biw=1349&bih=625#imgrc=PkZuF00WLiwyaM

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: