نیپال کے کوہ پیماؤں نے ایورسٹ سر کرنے کے اپنے ہی ریکارڈ توڑ کر نئے عالمی ریکارڈ بنا دیے

خبریں

اڑتالیس برس کی نیپالی خاتون لکھپا شیرپا نے جمعرات کے روز دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو دسویں بار سر کر کے کسی بھی خاتون کی جانب سے سب سے زیادہ بار ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔

لکھپا نے 29 ہزار 31 فٹ اونچی ماؤنٹ ایورسٹ کو اس سے پہلے 2018 میں سر کیا تھا۔

نیپال ہی کے کامی ریتا شیرپا مردوں میں سب سے زیادہ بار ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی کو 26 بار سر کیا ہے۔

لکھپا جن کے گیارہ بہن بھائی ہیں، نیپال کے مشرقی ضلع سانکھو واسابا میں پیدا ہوئیں۔ اس ضلع میں دنیا کی پانچویں اونچی ترین چوٹی ماکالو واقع ہے۔

نیپال سے تعلق رکھنے والی شنگریلا نیپال ٹریک ہائیکنگ کمپنی کے جیون گھمری نے ایک بیان میں بتایا کہ جمعرات کے ہی روز تمام سیاہ فام کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم نے بھی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا ہے۔ اس ٹیم میں امریکہ اور کینیا سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شامل ہیں۔

ہائیکنگ کے حکام نے بتایا کہ اس سے پہلے دس سے بھی کم سیاہ فام کوہ پیماؤں نے اس چوٹی کو سر کیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی کوہ پیما ٹیم کے تمام ارکان سیاہ فام ہیں۔

ادھر نیپال ہی سے تعلق رکھنے والے کامی ریتا شیرپا نے ریکارڈ 26 بار ماؤٹ ایورسٹ سر کیا، اور یوں گزشتہ سال کا اپنا ہی ریکارڈ توڑا ہے۔ اس بات کا اعلان اتوار کے روز نیپالی حکومت نے کیا۔

باون برس کے کامی ریتا شیرپا نے ہفتے کو 8848.86 میٹر یعنی 2903169 فٹ بلند پہاڑ سر کیا۔ دس دیگر سرکردہ کوہ پیما ؤں کی قیادت کرتے ہوئے، کامی نے چوٹی کا روایتی جنوب مشرقی راستہ اختیار کیا تھا۔

دارالحکومت کھٹمنڈو میں محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل تراناتھ ادھیکاری نے بتایا کہ ”کامی ریتا نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ کر کوہ پیمائی کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے”۔

کامی ریتا کی بیوی، جنھوں نے اپنا نام جنگمو بتایا کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی کامیابی پر بہت خوش ہیں۔

کوہ پیمائی کا جو راستہ کامی ریتا نے اپنایا اس کے بانی نیو زیلینڈ کے کوہ پیما سر ایڈمنڈ ہلیری اور نیپال کے شیرپا تنزنگ نورگے ہیں جنھوں نے 1953ء میں یہ راستہ اپنانے میں پہل کی تھی، جو اب تک مقبول ہے۔

اس سال نیپال نے ایورسٹ سر کرنے کے 316 اجازت نامے جاری کیے ہیں، جس کا سیزن مئی میں شروع ہوتی ہے، جب کوہ پیمائی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس کےمقابلے میں گزشتہ سال کوہ پیمائی کے اجازت ناموں کی تعداد 408 تھی، جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

کوہ ہمالیہ کی وجہ سے اس مشہور اس ملک کا غیر ملکی زر مبادلہ کا انحصار سیاحت پرہی ہے۔سال 2019ء میں زیادہ افراد کو کوہ پیمائی کی اجازت دینے پر نیپال پر تنقید کی گئی، جب متعدد کوہ پیما حادثات کا شکار ہوئے۔

نیپالی اور تبتی طرف سے 1953ء میں ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کے بعد، ایورسٹ کو اب تک 10657بار سر کیا گیا ہے؛ متعدد کوہ پیما متعدد بار ایورسٹ کو سر کر چکے ہیں۔ ہمالیا کے اعداد شمار کے مطابق، اب تک کوہ پیمائی کرتے ہوئے 311 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

1953 میں پہلی بار سر کئے جانے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کو تبت اور نیپال کی اطراف سے، 109 ہزار 6 سو 57 بار سر کیا جا چکا ہے۔ اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کے دوران 311 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کریڈٹ: https://borneobulletin.com.bn/wp-content/uploads/2022/05/P24-B_13052022.jpg