نیٹ فلِکس کی سیریز ‘اسکوئڈ گیم’ جنوبی کوریا کی خاتون کے لیے وبالِ جان بن گئی

نیٹ فلِکس کی نئی سیریز ‘اسکوئڈ گیم’ کے چرچے ہر جگہ ہیں۔ یہ سیریز دنیا بھر میں مقبول ہو رہی ہے اور شائقین اس کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ مگر جنوبی کوریا کی ایک خاتون کے لیے یہ سیریز وبالِ جان بن گئی ہے۔

نیٹ فلِکس بھی اس خاتون کو ریلیف دینے کے لیے ‘اسکوئڈ گیم’ میں کچھ تبدیلیاں کرنے جا رہا ہے۔

اگر آپ نے اسکوئڈ گیم دیکھی ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ اس میں ایک شخص کچھ لوگوں کو ایک پُراسرار دعوت نامہ دے کر جاتا ہے جس پر ایک فون نمبر درج ہوتا ہے۔

فلموں یا ڈراموں میں دکھائے جانے والے فون نمبرز عموماً فرضی ہوتے ہیں مگر اس سیریز میں دکھایا گیا نمبر حقیقی ہے جو جنوبی کوریا کی ایک خاتون کے استعمال میں ہے۔

ہمارہ ہند کے مطابق ، جب سے یہ سیریز مقبول ہوئی ، خاتون کو ہزاروں فون کالز اور ٹیکسٹ پیغامات موصول ہو رہے ہیں ، جس کی وجہ سے اس کی زندگی دکھی ہو گئی ہے۔ اب نیٹ فلکس اپنی مقبول سیریز سے خاتون نمبر میں ترمیم کرنے جا رہا ہے۔

نیٹ فلِکس اور مقامی پروڈکشن کمپنی سائرن پکچرز نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ ان سینز کو دوبارہ ایڈٹ کریں گے جن میں نمبر دکھایا گیا ہے اور اس پُراسرار کارڈ سے نمبر حذف کر دیں گے۔

نمبر کس خاتون کا ہے؟

جنوبی کوریا کے ایک مقامی براڈکاسٹر ‘ایس بی ایس’ نے گزشتہ ماہ اس خاتون کا انٹرویو نشر کیا تھا جن کا نمبر ‘اسکوئڈ گیم’ میں دکھایا گیا ہے۔

کِم گل یونگ نامی یہ خاتون جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی علاقے سانگ جو کی رہائشی اور ایک کاروباری خاتون ہیں۔

مذکورہ خاتون نے اپنے اس انٹرویو میں وہ پیغامات بھی دکھائے جو انہیں ‘اسکوئڈ گیم’ کی مقبولیت کے بعد موصول ہوئے تھے۔

ان پیغامات میں لوگ کِم گل یونگ سے درخواست کر رہے تھے کہ وہ انہیں بھی ‘اسکوئڈ گیم’ کا وہ پُراسرار دعوت نامہ بھیجیں تاکہ وہ بھی غربت سے نکل کر امیر ہوسکیں۔

ہمارہ ہند نے بھی بدھ کو اس نمبر پر فون کیا ، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔

کِم گل یونگ کا کہنا تھا کہ ان کے لیے فون نمبر بدلنا بھی ناممکن ہے۔ کیوں کہ ان کے کلائنٹس کے پاس یہی نمبر ہے۔

کِم گل یونگ کے بقول ‘اسکوئڈ گیم’ میں ان کا نمبر دکھانے سے انہیں جو پریشانی اٹھانا پڑی ہے، اس کے ہرجانے کے طور پر انہیں 10 لاکھ وون (840 ڈالر) کی پیش کش کی گئی تھی جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔

ایس بی ایس نے رپورٹ کیا ہے کہ خاتون کو ہرجانے کے طور پر 50 لاکھ وون کی بھی پیش کش کی جا چکی ہے۔

دوسری جانب نیٹ فلِکس اور سائرن پکچرز نے ہرجانہ ادا کرنے کی کسی بھی پیش کش پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

البتہ نیٹ فلِکس کا کہنا ہے کہ وہ پروڈکشن کمپنی سائرن پکچرز کے ساتھ مل کر اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیٹ فِلکس نے ‘اسکوئڈ گیم’ کے مداحوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ نمبر پر کال یا میسج نہ کریں۔

اسکوئڈ گیم ہے کیا؟

نیٹ فلکس پر حال ہی میں نشر ہونے والی اس سیریز میں قرض میں ڈوبے لوگوں کو مجبوری کے عالم میں ایک ایسے کھیل کا حصہ دکھایا گیا ہے جس میں سیکڑوں افراد کو پیسے کا لالچ دے کر بچوں کے کھیل کھلائے جاتے ہیں اور ہارنے والے کو گولی مار دی جاتی ہے۔

یہ سیریز نو اقساط پر مشتمل ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

Photo Credit : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/4/40/Squid_Game_logo.png

Leave a Reply

Your email address will not be published.