نیٹو موجودہ اور مستقبل کے تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، اسٹولٹنبرگ

نیٹو کے چوٹی کے عہدے دار نے اشارتاً کہا ہے کہ یہ کہنا غلطی کے مترادف ہو گا کہ افغانستان سے فوجی انخلا اور فرانس اور امریکہ کے درمیان تناؤ اس امر کا غماز ہے کہ بین الاوقیانوس اتحاد کمزور ہو گیا ہے۔

اس کے برعکس، سیکرٹری جنرل ینز اسٹولٹنبرگ نے مخالفین کو خبردار کیا کہ نیٹو متحد رہے گا اور موجودہ اور آنے والے دور کے حریف سن لیں، اتحاد نمودار ہونے والے خطرات سے نمٹنے کا بھرپور عزم رکھتا ہے۔

امریکہ کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقاتوں کے بعد واشنگٹن میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران، اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ ”یورپ اور شمالی امریکہ کے درمیان تعلقات مضبوط ہونے سے متعلق سوال کیے جا رہے ہیں”۔انھوں نے کہا کہ ”ان چھوٹے معاملات سے وسیع تر منظر تبدیل نہیں ہوتا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آئندہ کا بحران کس نوعیت کا ہو گا، لیکن ہمیں اس بات کا بخوبی پتا ہے کہ ہم اکٹھے کھڑے ہیں تو ہم محفوظ ہیں ”۔

اسٹولٹنبرگ نے خاص طور پر صدر جوبائیڈن کے خلاف ان الزامات کو نظر انداز کیا کہ انھوں نے فیصلہ کرتے وقت مبینہ طور پر نیٹو اتحادیوں سے نہیں پوچھا اور گزشتہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے أفغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے پر عمل درآمد کیا۔

بقول ان کے، ”یہ خیال کرنا کہ اس سلسلے میں امریکہ نے کسی سے مشاورت نہیں کی، درحقیقت غلط ہے”۔

نیٹو کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان نئے سیکیورٹی معاہدے سے فرانس کو ”مایوسی” ہوئی؛ اس معاہدے کی رو سے امریکہ اور برطانیہ جوہری توانائی سے چلنے والی سب میرینز کی تشکیل کے لیے ٹیکنالوجی کا تبادلہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ”نیٹو اتحادی بڑے منظرنامے پر متفق ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحد رہیں، جب کہ ایشیا پیسیفک پارٹنرز کے ساتھ بھی مل کر کام کرنا ہو گا”۔

اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ ”چین کا دفاعی بجٹ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے۔ وہ نئی فوجی استعداد کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں”۔

انھوں نے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ چین کی مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے، نیٹو اپنی نئی حکمت عملی کو زیادہ مربوط اور متحد انداز سے ترتیب دے گا۔

تاہم، نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے روس کے لیے سخت کلمات کا اظہار کرتے ہوئے اسے متنبہ کیا کہ نیٹو اور روس کے مابین تعلقات ”سرد جنگ کے دور سے لے کر اب تک کی نچلی ترین سطح کو چھو رہے ہیں”۔

روس نے ہتھیاروں کے نئے، جدید ترین نظام نصب کر کے تخفیف اسلحہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ انٹرمیڈئیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی کے تحت درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے اسلحے کے تمام نظاموں پر ممانعت ہے۔ ہم نے بیرون ملک، کئی مقامات پر، روس کے جارحانہ عزائم دیکھے ہیں، جب کہ روس داخلی طور پر جابرانہ انداز حکمرانی اپنائے ہوئے ہے۔

پیر کے روز ہونے والی ملاقاتوں کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں عہدے داروں نے ”سیکیورٹی کی بین الاقوامی صورت حال اور اسٹریٹجک نوعیت کے ماحول اور بین الاوقیانوس دفاعی نظام کے تحفظ کی کوششوں سے متعلق بات چیت کی”۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بائیڈن نے نیٹو کے لیے اپنی ٹھوس حمایت کا اعادہ کیا ہے، جب کہ اپنے دفاع کو ناقابل شکست بنانے، مد مقابل اسٹریٹجک حریفوں اور قومی حدود سے باہر کے خطرات سے نبردآزما ہونے پر دھیان مرکوز رکھا گیا۔”

Photo Credit : https://dynaimage.cdn.cnn.com/cnn/digital-images/org/615e0a00-ae90-4728-918b-23103e42d1b7.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.