نیویارک شہر میں غیرملکیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کی تیاریاں

خبریں

امریکہ کا سب سے بڑا شہر نیو یارک مقامی انتخابات میں غیر ملکی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے حوالے سے باقی امریکی شہروں پر سبقت حاصل کرنے جا رہا ہے۔

نیویارک شہر میں ووٹ ڈالنے کے اہل 70 لاکھ شہریوں میں قانونی دستاویز رکھنے والوں میں ہر 9 میں سے ایک غیر ملکی شہری ہے۔ ایک نئے مسودہ قانون کے تحت، جس کی منظوری قریب ہے، تقریباً اٹھ لاکھ غیر ملکی شہریوں کو میئر، سٹی کونسل کے اراکین اور دیگر میونسپل آفس ہولڈرز کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت مل جائے گی۔

تاہم غیر ملکی شہری اس بل کی منظوری کے بعد بھی وفاقی یا ریاستی انتخابات میں صدر یا کانگریس کے اراکین کو چننے کے لیے ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

اس مسودہ قانون کی توثیق جمعرات کو متوقع ہے۔

نیویارک شہر کے میئر بل ڈی بلاسیو نے اس قانون سازی اور اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ اسے ویٹو نہیں کریں گے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، نیویارک شہر طویل عرصے سے تارکین وطن کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ قانون نیویارک کے ان بہت سے لوگوں کی انتخابی آواز بنے گا، جو اس شہر سے محبت کرتے ہیں اور اسے اپنا مستقل گھر بنا چکے ہیں۔ لیکن وہ آسانی سے امریکہ کے شہری نہیں بن سکتے اور وہ مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ہی آبائی ممالک کے شہری رہیں گے۔

32 سالہ ایوا سینٹوس ان میں سے ایک ہیں ۔وہ 11 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ ایک غیر قانونی تارک وطن کے طور پر امریکہ میں داخل ہوئیں تھیں۔ لیکن جب وہ 18 سال کی ہوئی تو اپنے دوستوں کی طرح وہ ووٹ دینے یا کالج میں جانے کی اہل نہیں تھیں، کیونکہ ان کی حیثیت بدستور ایک غیر قانونی تارک وطن کی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ، “یہ دیکھنا میرے لیے واقعی مشکل تھا کہ میرے دوسرے دوست اپنے مستقبل کے لیے فیصلے کر سکتے ہیں، اور میں ایسا نہیں کر سکی۔”

ایوا سینٹوس اب ایک کمیونٹی آرگنائزر ہیں۔

امریکہ میں اس وقت ایک درجن سے زیادہ مقامی کمیونٹیز غیرملکی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دیتی ہیں۔ ان میں ریاست میری لینڈ کے گیارہ اور ریاست ورمونٹ کے دو قصبے شامل ہیں۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو نے 2016 میں ووٹروں کی جانب سے منظور شدہ بیلٹ اقدام کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو اسکول بورڈ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دینا شروع کی۔ یہی اجازت نیویارک شہر میں بھی تھی لیکن یہاں 2002 میں اسکول بورڈ سسٹم کو ختم کر دیا اور اسکولوں کا کنٹرول شہر کے میئر کو دے دیا گیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام چلنے والے نیویارک شہر میں یہ اقدام کچھ ریاستوں میں نافذ کی جانے والی ان پابندیوں کا ردعمل ہے ، جو ریپبلکن پارٹی نے امریکہ کے وفاقی انتخابات میں غیر ملکی شہریوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے دعوؤں کی تائید کے طور پر عائد کی ہیں جن کے کوئی شواہد موجود نہیں۔

پچھلے سال امریکی ریاستوں ایلاباما، کولوراڈو اور فلوریڈا کے ووٹروں نے ان اقدامات کی توثیق کی جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ صرف امریکی شہری اس طرح کے قوانین بنانے کے لیے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اور اس طریقہ کار سے مختلف قانون منظور کرنے کی کسی بھی کوشش کو وہ روک دیں گے۔

نیویارک سٹی کونسل کے رکن دانیز، جن کا تعلق ڈومینکا سے ہے، کہتے ہیں کہ “میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو تارکین وطن سے اتنا خوف کھاتے ہیں کہ وہ اپنے مقامی لیڈروں کو منتخب کرنے کا حق غیر ملکی شہریوں کو دینے سے ڈرتے ہیں۔”

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ووٹ دینے سے محروم رہے جب تک کہ وہ امریکہ کے شہری نہیں بنے۔

اس مجوزہ قانون سازی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق اس چیز سے ہے کہ ہم نیویارک شہر میں رہ رہے ہیں۔ اس شہر میں ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور ہم اس شہر کے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، نیویارک شہر کے میر ڈی بلاسیو نے اگرچہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ اقدام قانونی چیلنج سے بچ سکے گا۔ وفاقی قانون ریاستوں اور مقامی حکومتوں کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ ان کے انتخابات میں کون ووٹ ڈال سکتا ہے۔ لیکن میئر سمیت کچھ لوگوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آیا ریاستی قانون سازوں کو پہلے غیر ملکی شہریوں کو ووٹنگ کے حقوق کا اختیار دینے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

میر ڈی بلاسیو نے حال ہی میں ٹیلی ویژن نیوز پروگرام ‘انسائیڈ سٹی ہال’ میں کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اس میں شامل ہوں، ہم لوگوں کی آوازیں سننا چاہتے ہیں۔”

انہوں نے کہا “مجھے اب بھی اس بارے میں تشویش ہے۔ شہریت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ لوگ اس کے لیے بہت محنت کرتے ہیں، ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو کسی بھی اچھے طریقے سے شہری بننا چاہتے ہیں۔”

نیو یارک سٹی کونسل کے اقلیتی رہنما، جوزف بوریلی اسٹیٹن آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اقدام بلاشبہ عدالت میں ختم ہو جائے گا۔

جوزف بوریلی نے کہا، “یہ شہریت کی اہمیت کو کم کرتا ہے، اور شہریت وہ معیار ہے جس کے ذریعے ریاست کا آئین نیویارک کے ریاستی انتخابات میں ہر سطح پر حق رائے دہی جاری کرتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے۔”

اس تجویز سے وہ غیر ملکی شہری جو کم از کم 30 دنوں سے شہر کے قانونی مستقل رہائشی ہیں، یا وہ لوگ ہیں جو امریکہ میں کام کرنے کے مجاز ہیں۔ شہر کے میئر یا سٹی کونسل کے ممبران کے انتخاب میں حصہ لے سکیں گے۔

یہ قانون بورڈ آف الیکشنز کو جولائی تک عمل درآمد کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کرے گا۔ جس میں ووٹر کے اندراج کے قواعد اور ایسی دفعات شامل ہیں جو میونسپل الیکشن کے لیے علیحدہ بیلٹ بنائیں گے، تاکہ غیر ملکی شہریوں کو وفاقی اور ریاستی مقابلوں میں ووٹ ڈالنے سے روکا جا سکے۔ غیر ملکی شہریوں کو 2023 میں انتخابات تک ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

نیویارک امیگریشن کوالیشن کی پالیسی کی نائب صدر انو جوشی کہتی ہیں کہ غیر ملکیوں کو ووٹ کا حق دینا انہیں ایک سیاسی قوت بننے کے لیے بااختیار بنا سکتا ہے جسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

رون ہیڈوک سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ہیں۔ لیکن انہوں نے نیویارک میں کئی سال گزارے۔ انہوں نے غیر شہری ووٹنگ کے حقوق کی تحریک میں حصہ لیا ہے۔”نیو یارک سٹی جہاں 30 لاکھ سے زیادہ غیر ملکی نژاد باشندے رہتے ہیں۔ تارکین وطن کے ووٹنگ کے حقوق کو بڑھانے کے لیے ایک قومی تحریک کو اگے بڑھانے کے لیے موزوں جگہ ہے”۔

رون ہیڈوک کہتے ہیں کہ “نیو یارک، آزادی کے مجسمے اور ایلس جزیرے کا گھر ہے۔ وہ تارکین وطن کا ایک مقام ہونے پر فخر کرتا ہے۔ تو اگر سوال یہ ہے کہ ہمارے شہر میں تارکین وطن کا مقام کیا ہے، کیا وہ واقعی نیویارک کے باشندے ہیں، کیا وہ ووٹ کی طاقت کے اہل اور مستحق ہونے اور اپنے سیاسی مستقبل کو تشکیل دینے کے لحاظ سے مکمل نیو یارک کے شہری ہیں ،تو اس کا جواب “ہاں” میں ہونا چاہیے”.

Photo Credit : https://www.pewresearch.org/wp-content/uploads/2020/03/FT_20.03.03_ImmigrantVotingStates_feature.jpg