نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم؛ حکومت نے کیا کچھ تبدیل کر دیا ہے؟

حکومتِ پاکستان نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدتِ ملازمت میں آئندہ چئیرمین کے انتخاب یا دوبارہ تعیناتی تک توسیع دے دی ہے۔

نئے آرڈیننس میں احتساب آرڈیننس 1999 میں کئی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں جن کے بارے میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے حکومت نے خود کو ‘این آر او’ دے دیا ہے۔

ماضی میں اس سے قبل نیب اصلاحات کی بات ہوتی رہی ہے لیکن حکومت ہمیشہ اپوزیشن پر یہ الزامات لگاتی رہی ہے کہ حزبِ اختلاف کے رہنما اپنے کیسز ختم کرانے کے لیے نیب اصلاحات کے خواہش مند ہیں۔

نیب قوانین میں تبدیلی سے اپوزیشن اور حکومت میں شامل کئی شخصیات کے خلاف موجود کیسز ختم ہوسکتے ہیں۔

نیب آرڈیننس کے اہم نکات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بدھ کو آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت قومی احتساب (دوسرا ترمیمی) آرڈیننس 2021 جاری کیا ہے جس کے مطابق آرڈیننس کی مدد سے 1999 کے آرڈیننس کے سیکشن چار میں ترمیم کی گئی ہے۔

نئے آرڈیننس کے بعد وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ٹیکسوں، لیویز اور ٹیکس سے متعلق خزانے کو نقصان کے معاملات پر اب احتساب آرڈیننس لاگو نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ آرڈیننس کا اطلاق وفاقی و صوبائی کابینہ، کمیٹیوں، ذیلی کمیٹیوں کے فیصلوں پر نہیں ہوگا۔ مشترکہ مفادات کونسل، ایکنک، این ایف سی، سی ڈی ڈبلیو پی، اسٹیٹ بینک کے فیصلوں پر بھی آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہو گا۔

اس سے قبل 1999 کے اصل احتساب آرڈیننس کے سکیشن چار کے مطابق نیب قوانین کا اطلاق پورے پاکستان پر ہوتا تھا جس میں تمام شہری شامل تھے، اس میں سرکاری ملازمت کرنے والے افراد خواہ وہ کہیں بھی مقیم ہوں، ان پر اس قانون کا اطلاق ہوتا تھا لیکن اب اس میں ترمیم کے ذریعے اس کا دائرہ کار محدود کر دیا گیا ہے۔

چیئرمین نیب کی تعیناتی

آرڈیننس کے تحت 1999 کے آرڈیننس کے سیکشن چھ میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت صدرِ مملکت قائدِ ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب تعینات کریں گے۔

اس سے قبل یہ اختیار قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے پاس تھا لیکن اب اس میں صدر مملکت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں صدر مملکت تمام نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی کریں گے اور اس کمیٹی میں 50 فی صد ارکان حکومت اور 50 فی صد اپوزیشن سے ہوں گے۔

نئے قانون کے مطابق چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت چار سال ہوگی اور چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار آرٹیکل 209 میں دیے گئے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار جیسا ہو گا۔

ماضی میں چیئرمین کے عہدے پر تعینات شخص کی مدت ملازمت میں توسیع کی اجازت نہ تھی لیکن جاری کردہ آرڈیننس کے تحت چار سالہ مدت کے خاتمے پر برسر عہدہ چیئرمین نیب کو دوبارہ چار سال کے لیے تعینات کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ سبکدوش ہونے والے چیئرمین اس آرڈیننس کے تحت نئے چیئرمین کی تعیناتی تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

موجودہ چیئرمین نیب جاوید اقبال اسی شق میں تبدیلی کی وجہ سے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

ججز کی تعیناتی

جاری کردہ آرڈیننس کی مدد سے 1999 کے آرڈیننس کے سیکشن پانچ میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے بعد صدرِ مملکت اور چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے احتساب عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد احتساب عدالت کا جج تعینات کیا جائے گا جس کی عمر 68 سال سے زائد نہیں ہو گی۔ احتساب عدالت جج کی تعیناتی کی مدت تین سال ہوگی۔ چیف جسٹس کی مشاورت سے صدر مملکت کو احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہوگا۔

سن 1999 کے آرڈیننس کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہی احتساب عدالتوں کے جج بننے کے اہل تھے لیکن اب ریٹائر ججز کو بھی دوبارہ تعینات کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ججز کو ہٹانے کے لیے صدر مملکت کو بھی متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد ہٹانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

بینکس اور مالیاتی ادارے نیب قانون سے باہر

صدر مملکت کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق 1999 کے نیب آرڈیننس میں نئے سیکشن 31 ڈی ڈی کا بھی اضافہ کیا گیا ہے جس کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک کی منظوری کے بغیر کسی بھی بینک کے بورڈ یا مالیاتی ادارے کے خلاف انکوائری، تفتیش یا کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گی۔

اس سے قبل 1999 کے آرڈیننس میں نیب کو اجازت تھی کہ وہ کسی بھی بینک کی طرف سے دیے جانے والے قرض، ڈیفالٹر یا ری شیڈول ہونے والے قرضوں کے بارے میں براہِ راست تفتیش کرسکتا تھا لیکن اب ان تمام انکوائریوں اور تحقیقات کو گورنر اسٹیٹ بینک کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کے معاملات کو بھی نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر کر دیا گیا ہے اور اب ٹیکس فراڈ کے بارے میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اختیار ہو گا کہ وہ تحقیقات کرے۔

اس بارے میں حکومت کا مؤقف ہے کہ بیورو کریسی اور کاروباری حضرات کا کہنا تھا کہ انہیں نیب کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے لہذا اب ٹیکس کے معاملات نیب کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہوں گے۔

چیئرمین نیب کے اختیارات میں کمی

نئے آرڈیننس کے تحت چیئرمین نیب کے اختیارات میں بھی کمی کی جارہی ہے اور اب ریفرنس دائر کرنے کا اختیار جو پہلے صرف چیئرمین کی منظوری سے ممکن تھا اب وہ اختیار پراسیکیوٹر جنرل کو دیا جارہا ہے۔

اس بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ ماضی میں پراسیکیوٹر کو کوئی بھی ریفرنس عدالت میں چلانا ہوتا تھا لیکن اکثر ان سے پوچھے بغیر ایسے ریفرنس فائل کر دیے جاتے تھے جن میں جان نہ ہونے کی وجہ سے وہ کیسز ختم ہو جاتے تھے اور نیب کا وقت اور وسائل ضائع ہوتے تھے۔

آرڈیننس کی شق 33 میں نئے سب آرٹیکل 33 ایف کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب کیس دائر کرنے اور انکوائری کی سطح پر ہی اسے ختم کرنے کا اختیار پراسیکیوٹر جنرل کے پاس ہو گا جس کی وجہ سے وہ ایسے کیسز لے کر ہی آگے چلیں گے جنہیں وہ عدالتوں میں ثابت کر کے ملزمان کو سزا دلوا سکیں گے۔

اس کےعلاوہ اگر کسی شخص کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا ہو تو اسے واپس لینے کے لیے متعلقہ عدالت کے جج کی اجازت لینا ضروری تھی۔ حالیہ ترمیمی آرڈیننس کے تحت متعلقہ عدالت کے جج کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

نئے ترمیمی آرڈیننس کا اہم نکتہ آڈیو اور ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کا ہے جس کے تحت آڈیو یا ویڈیو کے ذریعے استغاثہ کے گواہ کا بیان ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔

ترمیمی آرڈیننس میں کسی اور مقام سے بھیجا گیا تحریری بیانِ حلفی بھی تسلیم کیا جائے گا۔ تاہم نیب آرڈیننس 1999 کے مطابق گواہ کا عدالت میں آکر بیان دینا ضروری تھا۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کو گن پوائنٹ پر آڈیو یا ویڈیو بیان دینے یا بیان حلفی پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جائے تو عدالت اس کے دباؤ سے آزاد ہو کر گواہی دینے کو کیسے جانچ سکتی ہے؟

نئے آرڈیننس میں بیوروکریسی کے حوالے سے اہم تبدیلی یہ لائی گئی ہے کہ جب تک یہ بات ثابت نہ ہو جائے کہ کسی شخص نے کوئی کام صرف ذاتی مفاد میں کیا ہے تو اس کے غلط ثابت ہونے تک اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ یعنی کسی نے کوئی کام اچھی نیت سے شروع کیا اور اس کے مطلوبہ نتائج سامنے نہ آئے تو بھی اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

ماضی میں کسی بھی شخص کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور قواعد کی خلاف ورزی پر کارروائی کا آغاز کر دیا جاتا تھا لیکن اب ذاتی مفاد ہونے یا نہ ہونے اور نیت کا معاملہ شامل کر دیا گیا ہے۔

اہم حکومتی فورمز نیب کے دائرہ اختیار سے باہر

حکومت کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ٹیکسوں، لیویز اور ٹیکس سے متعلق خزانے کو نقصان کے معاملات پر نیب آرڈیننس لاگو نہیں ہوگا۔ آرڈیننس کا اطلاق وفاقی و صوبائی کابینہ، کمیٹیوں، ذیلی کمیٹیوں پر بھی نہیں ہو گا۔

اس کے ساتھ ساتھ نئے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل، این ای سی، این ایف سی، ایکنک، سی ڈی ڈبلیو پی، پی ڈی ڈبلیو پی اور اسٹیٹ بینک کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے۔

اپوزیشن کے اعتراضات

پاکستان کی اپوزیشن نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ اس آرڈیننس کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر ارکان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے حکومت نے خود کو این آر او دے دیا ہے اور پینڈورا پیپرز میں سامنےآںے والے ناموں سمیت کسی حکومتی شخصیت کے خلاف ٹیکس معاملات کا اختیار ختم ہونے کے بعد اب نیب تحقیقات نہیں کرسکتا۔

لیگی ارکان کا کہنا ہے کہ آرڈیننس میں وفاقی کابینہ، صوبائی کابینہ اور دیگر فورمز پر ہونے والے فیصلوں کو نیب سے تحفظ دیا گیا ہے۔ حکومتی وزیر چینی، پیٹرول، ڈیزل اور ادویات کی قیمتوں سمیت دیگر اسکینڈلز میں ملوث ہیں اور یہ تمام فیصلے کابینہ میں ہوئے۔ حکومت نے خود کو این آر او دیتے ہوئے اپنے کابینہ ارکان کو نیب سے محفوظ بنا لیا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ترمیمی آرڈیننس سے ثابت ہو گیا کہ چیئرمین نیب صرف وزیرِ اعظم عمران خان کی نوکری کرتے ہیں، قانون بنانے کے لیے آرڈیننس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی کرپشن میڈیا میں ہے لیکن نیب کو نظر نہیں آتا، جو مہنگی ترین ایل این جی خریدی گئی اس پر کوئی سوال نہیں کر سکتا۔ تیل کی قیمت بڑھنے اور عوام کے حق پر ڈاکے ڈالنے پر سوال نہیں کر سکتے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ان کی نیت بھی خراب ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپوزیشن کو نشانہ بنانا جاری رکھنا چاہتی ہے جب کہ وزیرِ اعظم عمران خان اپنے خاندان، حکومت اور اپنے ساتھیوں کو احتساب سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

اس بارے میں حکومت نے اپوزیشن کے بیانات کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نہ انتخابی اصلاحات کے لیے بات کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی نیب اصلاحات پر بات کرنا چاہتی ہے۔

ان کے بقول حکومت نے آرڈیننس جاری کیا ہے اگر اپوزیشن جماعتوں کو اس پر کوئی اعتراض ہے تو پارلیمان میں بل پیش کیے جانے کے بعد وہاں درست کر لیا جائے۔

پاکستان بار کونسل کی نیب ترمیمی آرڈیننس پر تنقید

پاکستان کی وکلا تنظیموں نے نیب ترمیمی آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس سے نیب قانون میں تبدیلی پارلیمنٹ کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔ نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کا قانون خلافِ میرٹ ہے اور مخصوص فرد کے لیے ترمیم طے شدہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مخصوص فرد کے لیے ترمیم کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں، افسران کے پرکشش پیکج پر بطور جج تقرری عدلیہ کی آزادی سے تجاوز ہے۔

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس کے خلاف مل کر لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Photo Credit : https://english.alaraby.co.uk/sites/default/files/media/images/112E599F-4711-45F1-A8C8-38066713D290.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.