ناروے: فائرنگ کے واقعے میں دو افراد ہلاک، ایرانی نژاد حملہ آور گرفتار

خبریں

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں فائرنگ کے ایک واقعے میں دو افراد ہلاک جب کہ ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس یہ تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا کارروائی ممکنہ طور پر دہشت گرد حملہ تو نہیں تھا۔

ہفتے کو ایک پریس کانفرنس کے دوران پولیس حکام نے آگاہ کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں جس حملہ آور کو گرفتار کیا گیاہے وہ ناروے کا ایرانی نژاد شہری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست حملہ آور پر پہلے کسی بڑے جرم کے ارتکاب کا الزام نہیں ہے۔

پولیس نے حملہ آور سے دو ہتھیار قبضے میں لیے ہیں جن میں ایک خودکار رائفل اور ایک پستول شامل ہے۔

یہ حملہ اوسلو کے ’لندن پب‘ کے باہر ہم جنس پرستی کی حامی(ایل جی بی ٹی کیو) کمیونٹی کی ’پرائیڈ پریڈ‘ سے قبل کیا گیا تھا جس کے بعد یہ پریڈ ملتوی کر دی گئی۔ لندن پب ایل جی بی ٹی کیوکمیونٹی کے حوالے سے اوسلو کا مشہور شراب خانہ ہے۔

اس ایونٹ کے منتظمین نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افراد جو اوسلو کی پرائیڈ پریڈ میں شریک ہونا چاہتے تھے یا اسے دیکھنے کے لیے آنے والے تھے، وہ نہ آئیں۔ اوسلو پریڈ کے حوالے سے تمام تقاریب ملتوی کر دی گئی ہیں۔

پولیس کے ترجمان ٹور بارسٹڈ کا کہنا تھا کہ حملے میں زخمی ہونے والے 14 افراد کو اسپتال میں طبی امداد دی گئی۔ ان میں سے آٹھ افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔

 اولاو روئنبرگ نے بتایا کہ جس وقت حملہ کیا گیا وہ وہاں موجود تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص حملے کے مقام پر آیا جس کے پاس بیگ بھی تھا۔ اس نے ہتھیار اٹھایا اور فائرنگ شروع کر دی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے وہ یہ سمجھے کہ یہ نقلی رائفل ہے البتہ پھر بار کی کھڑی اور دروازے کا شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی تو انہوں نے پناہ کے لیے بھاگنا شروع کر دیا۔

ناروے کے وزیرِ اعظم یونس گار استورا کا کہنا تھا کہ لندن پب کے باہر فائرنگ کا واقعہ بے قصور لوگوں پر ایک بے رحم اور شدید دھچکہ دینے والا حملہ تھا۔

کہ اس حملے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

ان کے مطابق اس حملے سے ایل جی بی ٹی کیوکمیونٹی میں شدید خوف کی لہر پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ناورے کے اخبار ’وی جے‘ سے وابستہ صحافی کرئسٹیان بریڈیلی بھی لندن پب میں موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے جس وقت فائرنگ شروع ہوئی وہ چوتھی منزل پر موجود تھے وہاں پر لگ بھگ 10 افراد تھے۔ یہ افراد اس وقت تک اس بالائی منزل پر موجود رہے جب تک حکام نے انہیں نیچے آنے کی منظوری نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ وہاں موجود افراد خوف زدہ تھے اور انہیں اپنی جان کی فکر تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ عمارت سے باہر آ رہے تھے انہوں نے کئی زخمیوں کو دیکھا، جس سے ان کو اندازہ ہوا کہ یہاں کو انتہائی سنجیدہ نوعیت کا واقعہ ہوا ہے۔

ناروے کے میڈیا میں ایسی ویڈیوز دیکھائی گئی ہیں جس میں فائرنگ کے وقت خوف زدہ لوگ گلیوں میں دوڑ رہے ہیں۔ اس دوران فائرنگ کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔

ناروے کو دنیا کے محفوظ ممالک میں شمار کیا جاتا ہے البتہ یہاں دہشت گردی کے بڑے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں۔

گیارہ برس قبل 2011 میں ایک شخص نے دھماکہ اور فائرنگ کرکے 69 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کو یورپ میں فائرنگ کے بدترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

تصویر کریڈٹ : https://nypost.com/wp-content/uploads/sites/2/2022/06/norway-shooting-139.jpg