ناروے: تیر کمان حملے میں ہلاکتوں پر مقامی رہائشی بے یقینی کا شکار

ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے جنوب مغرب میں واقع کانگز برگ قصبے کی وجہ شہرت سکے، اسلحہ اور چاندی بنانے کی صنعتیں ہیں۔ یہاں 26 ہزار کے قریب لوگ آباد ہیں ۔ بدھ کے روز یہاں تیرکمان کے حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد مقامی لوگ حیران اور پریشان ہیں کہ ان کے پر سکون شہر میں کسی شخص نے آخر کیوں روزمرہ کی خریداری میں مصروف لوگوں کو نشانہ بنایا۔

کانگز برگ قصبے میں تدریس کے پیشے سے وابستہ ایک رہائشی انگسبورگ سپینگیلو کہتی ہیں کہ تمام لوگ ایک چھوٹی سے مقامی کمیونٹی کا حصہ ہیں اور تقریباً سبھی لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں، اور اس جگہ پر یہ واقعہ ہونا بہت ہی حیران کن اور افسوسناک ہے۔

استاد ہونے کی حیثیت سے سپینگیلو اپنے شاگردوں کو اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں بنائے گئے میموریل پر لائیں۔ وہ کہتی ہے کہ “یہ سب کچھ حقیقت سے ماورا سا لگتا ہے، غیر حقیقی سا۔”

قصبہ کے وسطی چوراہے میں میموریل کے مقام پر لوگ پھول اور موم بتیاں لے کر اس حملے میں شکار ہونے والے لوگوں کی یاد میں اکٹھے ہوئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی عمریں 50 اور 70 سال کے درمیان تھیں۔

خبر رساں ادارے، ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس نے کانگزبرگ کے ایک 37سالہ رہائشی ایسپن اینڈرسن براتھن کو حراست میں لے لیا ہے۔ اسے سپر مارکیٹ میں لوگوں پر مبینہ طور پر تیر برسانے کے نصف گھنٹے بعد پکڑا گیا تھا۔

پولیس نے حملہ آور سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے پولیس پر بھی تیر چلائے۔ قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق تیروں سے بچنے کے لیے پولیس افسر محفوظ مقام کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے۔

اس کے بعد اینڈرسن براتھن سپر مارکیٹ سے لکڑی کے مکانوں والے درختوں بھرے وسطی پرسکوں علاقے میں چلا گیا، جہاں، پولیس کے بقول، اس نے گلی میں موجود لوگوں اور فلیٹوں کے اندر حملہ کیا جن کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

سینئر پولیس افسر پر تھاس اومھولٹ نے جمعے کو کہا کہ حملے میں تین قسم کا اسلحہ استعمال کیا گیا۔ البتہ، انہوں نے اسلحہ کی کسی بھی قسم کی شناخت کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے یہ بات بھی نہیں بتائی کہ پانچ شکار ہونے والے لوگ کیسے مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی عملے کو ابھی عینی شاہدین کے انٹرویوز کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان شاہدین کا بیانیہ خبروں کی وجہ سے خراب ہو جائے۔

اب تک کی تفصیلات کے مطابق پولیس نے پہلے الرٹ کے بعد بدھ کی شام چھ بج کر تیرہ منٹ پر سپر مارکیٹ میں حملہ آور کا سامنا کیا۔ اسی جگہ ایک پولیس افسر جو اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے اور کچھ خرید رہے تھے ایک تیر لگنے سے زخمی ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق پولیس افسر کو کندھے میں زخم آیا۔

پولیس پر حملہ آور نے دو بار تیر چلائے جس کے بعد جوں ہی انہوں نے پناہ لینے کی کوشش کی تو مشتبہ فرد اس مقام سے بھاگ گیا۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ حملہ آور نے اس کے بعد پانچ لوگوں کو نشانہ بنایا۔

پولیس افسر اوم ہولٹ کے مطابق اس حملے میں ہلاکتیں گھروں کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر ہوئیں۔

وکیل استغاثہ کے مطابق تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ حراست میں لیے جانے کے بعد حملہ آور اینڈرسن براتھن نے لوگوں کو مارنے کا اعتراف کیا ہے۔

پولیس سمجھتی ہے کہ مشتبہ فرد نے تنہا ہی یہ حملہ کیا۔

جمعرات کو پولیس نے کہا تھا کہ براتھن ایک نو مسلم ہے اور یہ کہ اس کے بنیاد پرست ہونے کے متعلق تشویش پائی جاتی تھی۔ لیکن نہ تو پولیس نے اور نہ ہی اندرونی انٹیلی جنس تنظیم نے اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم کی ہے۔ اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا کہ براتھن کی متعلق تشویش کیوں تھی یا یہ کہ پولیس اور انٹیلی جنس نے اس کے متعلق اطلاعات سے کیا کیا۔

Photo Credit : https://assets.bwbx.io/images/users/iqjWHBFdfxIU/i6OSUMAVaULo/v1/-1x-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.