نائن الیون یادگار کو تباہ کرنے کے منصوبے کا الزام، امریکی فوجی گرفتار

امریکہ کے شہر نیو یارک میں نائن الیون یادگار اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے منصوبوں کے الزامات پر ایک امریکی فوجی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بیس سالہ کول جیمز برجز نامی فوجی اہلکار کو ریاست جارجیا سے منگل کو گرفتار کیا گیا۔

نیو یارک کے ساؤتھ ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جیمز برجز پر یہ الزام ہے کہ اُنہوں نے دہشت گرد گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کی مالی معاونت کے علاوہ ایک امریکی سروس ممبر کو قتل کرنے کی کوشش کی۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق برجز نے 2019 میں جہادیوں اور ان کے پرتشدد نظریے سے متعلق آن لائن پروپیگنڈے پر ریسرچ کی جب کہ 2020 میں اُنہوں نے وفاقی تفتیشی ایجنسی (ایف بی آئی) کے ایک اہلکار سے بات چیت شروع کی جس نے خود کو داعش کا حامی ظاہر کر رکھا تھا۔

محکمۂ انصاف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “برجز نے ایف بی آئی کے ایجنٹ کے ساتھ بات چیت میں امریکی فوج سے متعلق مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے داعش کی معاونت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ برجز نے داعش کے جنگجوؤں کو نیو یارک میں نائن الیون یادگار پر حملے کے مشورے کے علاوہ دیگر مقامات پر حملوں کے لیے تربیت اور اُن کی رہنمائی بھی کی۔

وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق برجز نے داعش کے جنگجوؤں کو امریکی فوج کی تربیتی مشقوں اور جنگی حربوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کیں۔

محکمۂ انصاف کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں برجز نے ایف بی آئی کے اہلکار کو یہ بھی ہدایات دیں کہ کس طرح داعش کے جنگجو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور خود کو امریکی فوج کے حملوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

محکمۂ انصاف کا مزید کہنا تھا کہ رواں ماہ برجز نے ایف بی آئی اہلکار کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں وہ ہتھیاروں سے لیس ایسے جھنڈے کے سامنے کھڑے ہیں جو داعش کے جنگجو بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح برجز کی جانب سے داعش کی مکمل حمایت کے اعادہ کا اظہار ہوتا ہے۔

برجز ریاست جارجیا میں تعینات اور امریکی فوج کے تھرڈ انفنڑی ڈویژن کا حصہ تھے۔

امکان ہے کہ اُنہیں جمعرات کو جارجیا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Photo Credit : https://wzakcleveland.com/wp-content/uploads/sites/32/2021/01/1611086156906.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: