میانمار میں فوج مخالف مظاہرے: جھڑپوں میں دو ہلاکتیں، معروف اداکار گرفتار

میانمار میں فوج مخالف مظاہرے: جھڑپوں میں دو ہلاکتیں، معروف اداکار گرفتار

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف جمہوریت نواز مظاہرین کے احتجاج میں شدت آ رہی ہے جب کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں دو مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ادھر پولیس نے مظاہروں کے حمایتی ایک معروف اداکار کو بھی اتوار کو گرفتار کر لیا ہے۔

میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں ہفتے کو ہونے والی جھڑپوں میں دو مظاہرین ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔

میانمار میں رواں ماہ یکم فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت بعد سے ہی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جاری ہے جب کہ پولیس مظاہرین کے خلاف ربر کی گولیاں، آنسو گیس اور واٹر کیننز استعمال کر رہی ہے۔

میانمار کے معروف اداکار لومن نے ینگون شہر میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی تھی اور وہ ان چھ مشہور شخصیات میں شامل ہیں۔ جن کے بارے میں رواں ہفتے بدھ کو فوج کا کہنا تھا کہ انہیں عوام کو بھڑکانے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا جائے گا۔

فوج نے لو من پر سرکاری ملازمین کو احتجاج میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کا الزام لگایا ہے اور اگر ان پر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں دو سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

لو من کے فیس بک پیچ پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو میں ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے گھر داخل ہوئی اور انہیں گرفتار کر کے لے گئی۔

لو من کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے زبردستی ان کے گھر کا دروازہ کھولا اور لو من کو ساتھ لے گئے۔

اُن کے بقول انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ پولیس ان کے شوہر کو کہاں لے جا رہی ہے اور وہ انہیں روک نہیں سکی۔

برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی متعدد کوششوں کے باوجود فوج کے ترجمان نے اس بابت اپنا مؤقف نہیں دیا۔

منڈالے میں ہفتے کو لگ بھگ 500 پولیس اور فوجی اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تعینات تھے۔

مقامی میڈیا اداروں کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ سمیت دیگر حربے استعمال کیے گئے جس کے نتیجے میں دو مظاہرین ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرین، علاقہ مکین اور صحافی منتشر ہو گئے۔ تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کا پیچھا کیا اور صحافیوں کے ایک گروپ پر انسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق فوجی بغاوت اور آنگ سان سوچی سمیت دیگر اعلی حکام کو حراست میں لیے جانے کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے فوج سخت اقدامات کر رہی ہے۔

فوج کی طرف سے ملک میں ایک سال کی ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے اور فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ تاہم فوج کے دعووں کو میانمار کے الیکٹورل کمیشن کی طرف سے رد کیا گیا تھا۔

ان انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت ‘نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی’ کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی۔

دوسری طرف اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی طرف سے میانمار میں جاری تشدد کی مذمت کی گئی ہے۔

انتونیو گوتریس کا ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔

علاوہ ازیں امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ امریکہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر فائرنگ اور ان کی گرفتاریوں سے متعلق فکر مند ہے۔

پرائس کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ وہ میانمار کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Photo Credit : https://www.google.com/search?q=Two%20killed%20in%20clashes%20in%20myanmar&tbm=isch&hl=en&safe=active&tbs=il:ol&rlz=1C1CHZL_enIN761IN762&sa=X&ved=0CAAQ1vwEahcKEwjghfrF4fzuAhUAAAAAHQAAAAAQAg&biw=1349&bih=625#imgrc=0d4rHOfMxt3a0M

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: