میانمار میں بدھ کے مظاہروں میں 38 افراد ہلاک ،19 پولیس اہلکار بھارت فرار

میانمار میں ملک کی فوجی حکومت کے خلاف جمعرات کو بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا ۔ ایک روز قبل بدھ کو ہونے والے مظاہروں میں اڑتیس ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ نے یکم فروری کو ہونے والی بغاوت کے بعد اسے سب سے زیادہ ہولناک دن قرار دیا۔

ہمارا ہند کے مطابق ، سیکیورٹی فورسز نے وسطی شہر ینگون اور وسطی شہر مونیوا میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کی اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

منڈالے میں بھی مظاہرے ہوئے، جہاں سوگوار مظاہرین 19 سالہ طالب علم کائل سن کی آخری رسومات کے لئے جمع ہوئے تھے۔ یہ طالب علم مظاہروں کے دوران بدھ کے روز گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔ آخری رسومات میں شریک ہونے والوں نے کائل سن کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن میں وہ ایک ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے جس پر لکھا تھا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

کائل سِن بدھ کے مظاہروں کے دوران میانمار میں مارے جانے والے کم از کم 38 افراد میں سے شامل تھے۔ موقعے پر موجود گواہان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے بارود کے علاوہ ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

وائس آف امریکہ کی برمی سروس کے رپورٹر بھی ربڑ کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میانمار میں چھ صحافیوں کو مظاہروں کی کوریج کے سلسلے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

میانمار کیلئے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی، کرسٹین شرینر برجنر نے سوئیزر لینڈ سے ایک ویڈیو کال کےذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یکم فروری جس دن یہ فوجی بغاوت عمل میں آئی، اس کے بعدیہ سب سے خون ریز دِن تھا۔

برجنر کا کہنا تھا، انہیں وہ ویڈیو دیکھ کر بہت پریشانی ہوئی جس میں پولیس والے ایک احتجاج کرنے والے پر قریب سے گولی چلا رہے ہیں، اور ایک دوسری ویڈیو میں وہ طبی عملے کو بری طرح سے زد و کوب کر رہے ہیں۔

میانمار کی پولیس کے کم از کم 19 اہلکار، فوجی جنتا کے احکامات پر مظاہرین کی پکڑ دھکڑ سے بچنے کیلئے بھارت کی سرحد عبور کر گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی خبر کے مطابق، یہ بات بھارت کی پولیس کے ایک عہدیدار نے جمعرات کے روز بتائی۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ میانمار پولیس کے مزید اہلکار بھی بھارت کا رُخ کریں گے۔

بھارتی پولیس کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ اہلکار میانمار سے متصل بھارت کی شمال مشرقی ریاست میزو رام سے سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہوئے۔ تاہم عہدیدار نے معاملے کی نزاکت کے بموجب اپنا نام بتانے سے سے احتراز کیا۔

سرحد عبور کرنے والے تمام افراد میانمار پولیس میں چھوٹے رینک کے اہلکار ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق، مزید اہلکاروں کی آمد کی توقع کیا جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، کہ میانمار کے پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کے ساتھ ملکر فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ ان میں سے چند گرفتار بھی ہوئے، لیکن سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ میانمار پولیس کے ان اہلکاروں کو احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر اپنے خلاف کارروائی کا ڈر تھا جس کی وجہ سے وہ بھارت فرار ہو گئے۔ اس وقت، ان کی دیکھ بھال عارضی طور پر بھارت کے مقامی حکام کر رہے ہیں۔

میانمار اور بھارت کے درمیان موجود سرحد سولہ سو کلو میٹر طویل ہے۔

Photo Credit : https://www.wishtv.com/wp-content/uploads/2021/03/CROP-Myanmar-protest-from-CNN-Getty.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: