موسمیاتی تبدیلی افغان کسانوں کے لیے جنگ سے بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے

افغانستان کے ایک دور دراز ضلع بالا مرغاب میں خشک سالی کھڑی فصلوں کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغانستان میں موسمیاتی تبدیلی حالیہ تنازعات سے زیادہ تشویش ناک ہے۔

اپنے خاندانوں کو پالنے کی مایوس کن کوششوں میں، جہاں چرواہے اپنے مویشی بیچ رہے ہیں، کسان اپنے گاؤں چھوڑ گئے ہیں، وہاں والدین اپنی بیٹیوں کو چھوٹی عمر میں شادی کے لیے بیچنے پر مجبور ہیں۔

صوبہ بدغیس کے ضلع بالا مرغاب کے گاؤں حاجی راشد خان کے سربراہ ملا فتح کا کہنا ہے کہ “آخری بار میں نے پچھلے سال بارش دیکھی تھی اور وہ بھی زیادہ نہیں تھی۔”

بادغیس صوبے کے اس کونے میں لوگ پہاڑیوں کے لامتناہی سلسلے کے درمیان مٹی کی اینٹوں کے گھروں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انسانی امداد پہنچانے والی ایجنسی، ایکٹڈ کے مطابق، یہاں 600،000 آبادی کا 90 فی صد مویشیوں یا کھیتوں پر گزر بسر کرتا ہے۔

ملا فتح نے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا کہ ہم نے کھانا خریدنے کے لیے اپنی بھیڑیں فروخت کیں اور کئی پیاس سے مر گئیں۔

سال 2018 میں آنے والے دو خشک سالی کے واقعات میں سے پہلی خشک سالی کے دوران ان کے پاس 300 بھیڑیں تھیں۔ لیکن، تازہ خشک سالی کے دوران یہ تعداد 20 رہ گئی ہے۔

پیر کے روز اقوامِ متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ اس موسم سرما میں دو کروڑ 20 لاکھ سے زائد افغان شہری ‘شدید غذائی عدم تحفظ’ کا شکار ہوں گے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس غیر مستحکم ملک کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔

امداد پر انحصار کرنے والے افغانستان کو، جس نے کئی دہائیوں تک جنگ کا سامنا کیا، ماحولیاتی گروپ ‘جرمن واچ’ کے ایک مطالعے کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی سے چھٹا سخت دھچکا لگا ہے جس کی وجہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہے۔

دوسری جانب تباہ کن اثرات میں سے ایک شمالی افغانستان میں بارشوں میں کمی ہے۔

بچپن کی شادیوں میں اضافہ

جب ملا فتح کو پانی لانے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ نوجوان لڑکوں اور مردوں کو ایک گدھا حوالے کر کے دن بھر کے سفر پر روانہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دو نوجوان چرواہے پہاڑیوں میں پیاس سے مر گئے۔

پیاس نہ صرف جسم پر حملہ کرتی ہے، بلکہ خاندانی رشتوں پر بھی۔

حاجی راشد خان نامی گاؤں میں کوئی اسکول اور کوئی کلینک نہیں ہے۔ اس سال یہاں کے بیس خاندانوں نے اپنی چھوٹی بیٹیوں کو شادی کے لیے بیچ دیا، تاکہ کھانے کے لیے پیسے اکٹھے کیے جا سکیں۔

“باقی بچے بھوکے اور پیاسے تھے،” بی بی یلیہ نے وضاحت کی، جو سات بچوں کی ماں ہیں۔ ان کی 15 سالہ بیٹی پہلے ہی شادی شدہ ہے اور سات سالہ بچی کی جلد شادی ہونے والی ہے۔

اگر خشک سالی اسی طرح جاری رہی تو ان کی دو سالہ اور پانچ سالہ بچیوں کی باری ہوگی، جب وہ بڑی ہو جائیں گی تو دلہا کے خاندان کے حوالے کی جائیں گی۔

اس سال گاؤں کے تقریباً 165 خاندانوں میں سے 45 اور صوبے بھر میں ہزاروں افراد بڑے شہروں کے مضافات میں تکلیف دہ کیمپوں میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ یہاں تک کہ کیمپوں میں بھی کھانا ملنا مشکل ہے ان میں کچھ لوگ مایوس کن خطرہ مول لیتے ہیں۔

اٹھائیس سالہ مسنمل عبداللہ، جو اپنے خاندان کے ساتھ بادغیس کے ایک اور گاؤں میں رہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ خاندان کے دیگر افراد یہیں رہتے ہیں، لیکن مردوں کو ایران یا اس سے آگے کام کی تلاش میں جانا ہوتا ہے۔ کچھ سڑک پر ہی مر جاتے ہیں۔

اس کمیونٹی کا نام ان کے والد حاجی جمال کے نام پر رکھا گیا ہے اور عبداللہ طالبان کے ایک رکن ہیں۔

لیکن کابل میں فوجی اور سیاسی کامیابی نے بادغیس کی ترقی کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔

بزرگ حاجی جمال نے کہا کہ، “کھیت برباد ہو چکے ہیں۔ جانوروں کے پاس کچھ نہیں ہے۔ پچھلے دو سالوں میں چھ افراد بھوک سے مر گئے۔” ان کی پڑوسی لال بی بی نے کہا کہ جیسے جیسے مایوسی بڑھتی ہے، عورتیں اور بچے اکیلے ہیں اور خطرے میں ہیں۔

امدادی کام متاثر

بہت سے مقامی لوگوں نے موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سنا ہے۔ لیکن، اقوام متحدہ کی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ 2030 تک کئی افغان علاقوں میں سالانہ خشک سالی ‘معمول بن جائے گی۔’

طالبان کو ابھی تک غیر ملکی حکومتوں نے تسلیم نہیں کیا اور افغانستان کے مالی اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں جب کہ امدادی کام بھی متاثر ہوا ہے۔

طالبان کی نئی حکومت کے علاقائی نمائندوں نے کہا کہ وہ بہت کم کام کر سکتے ہیں۔

بادغیس صوبے کے پناہ گزینوں کے دفتر سے منسلک عبدل الحکیم حغیار کا کہنا ہے کہ حکومت کو بہت زیادہ پیسے نہیں ملے ہیں، جب کہ صوبے کے منصوبے بین الاقوامی برادری سے منسلک ہیں۔

کچھ بین الاقوامی این جی اوز اب بھی کام کر رہی ہیں اور غیر ملکی حکومتوں نے انسانی امداد کا وعدہ کیا ہے لیکن طالبان ابھی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

بے گھر کسانوں کے کیمپوں میں حالات مایوس کن ہو گئے ہیں۔ جب نو سالہ بشیر احمد کے والد نے اپنا آخری مویشی بیچا تو اس نوجوان لڑکے کو استعمال شدہ ڈبے اور بوتلیں اکھٹی کرنے کی نوکری مل گئی۔

کوڑے میں اسے اسلحہ ملا جو دھماکے سے پھٹ گیا اور اس نے اپنے ایک ہاتھ کی دو اور دوسرے ہاتھ کی تین انگلیاں کھو دیں۔ اب وہ اپنے باپ کے برابر لیٹا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں پٹیاں بندھی ہیں اور اس خاندان نے ایک نیا بوجھ اٹھانا ہے۔

Photo Credit : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/2/23/Bala_Morghab.JPG

Leave a Reply

Your email address will not be published.