مسی سپی: خواتین اسپورٹس ٹیموں میں خواجہ سراؤں کے کھیلنے پر پابندی

امریکہ کی ریاست مسی سپی نے خواجہ سرا ایتھلیٹس کے خواتین کی اسپورٹس ٹیم میں کھیلنے یا خواتین سے مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔ مسی سپی یہ پابندی لگانے والی پہلی امریکی ریاست بن گئی ہے۔

مسی سپی کے ری پبلکن گورنر ٹیٹ ریوز نے جمعرات کو ‘مسی سپی فیئرنیس ایکٹ’ نامی بل پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت خواجہ سرا خواتین کی اسپورٹس ٹیم میں نہیں کھیل سکیں گے۔

یہ بل رواں سال یکم جون سے قانون بن جائے گا۔ لیکن اس اقدام کی ہم جنس پرست حلقے مخالفت کر رہے ہیں اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق گورنر ٹیٹ ریوز نے کہا ہے کہ ‘مسی سپی فیئرنیس ایکٹ’ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ نوجوان لڑکیوں کو ان سے مقابلے پر مجبور نہ ہونا پڑے جو درحقیقت جنسی اعتبار سے مرد ہیں۔

اس بل کے تحت مسی سپی میں اسکولوں پر لازم ہو گا کہ وہ کھیلوں کی ٹیمیں جنس کے اعتبار سے ترتیب دیں۔ خواتین، مردوں اور ‘کو ٹیم’ (جس میں خواتین و مرد دونوں شامل ہوں) علیحدہ علیحدہ ہوں۔

بل میں لکھا گیا ہے کہ ایتھلیٹک ٹیمیں اور وہ کھیل جو خواتین کے لیے مختص ہیں، ان میں جنسی اعتبار سے مردوں کی شرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔

ہم جنس پرستوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیم ‘ہیومن رائٹس کیمپین’ (ایچ آر سی) نے اس بل کو خواجہ سراؤں کے خلاف امتیازی قانون سازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے عدالت میں چیلنج کرے گی۔

اسی طرز کی قانون سازی امریکہ کی تقریباً 20 مزید ریاستوں میں زیرِ التوا ہے۔

ایچ آر سی کے صدر الفونسو ڈیوڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسی سپی میں قانون سازوں نے کوئی ایسی مثال فراہم نہیں کی جس سے ثابت ہو سکے کہ ریاست میں خواجہ سرا ایتھلیٹ مسابقتی نظام سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے ہی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ “گورنر ریوز جانتے ہیں کہ مسی سپی میں یہ مسئلہ نہیں ہے اور ان کا اس بل پر اصرار اور اس پر دستخط کرنا خوف اور تقسیم کو ہوا دینے کے لیے ہے۔”

“میسی سپی میں اس نقصان دہ بل کو قانون بنا کر گورنر ریوز کھلے عام خواجہ سراؤں کے خلاف امتیازی سلوک کو دعوت دے رہے ہیں اور ٹرانس جینڈر بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔”

واضح رہے کہ یہ بل امریکی صدر جو بائیڈن کی پالیسی سے بھی متصادم ہے۔ کیوں کہ جو بائیڈن نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’تمام لوگوں کے ساتھ قانون کے تحت ان کی جنسی شناخت سے قطع نظر مساوی سلوک کیا جائے گا۔‘‘

Photo Credit : https://www.google.com/search?q=Governor%20Tate%20Reeves&tbm=isch&hl=en&safe=active&tbs=il:ol&rlz=1C1CHZL_enIN761IN762&sa=X&ved=0CAAQ1vwEahcKEwi45KjF0azvAhUAAAAAHQAAAAAQAg&biw=1349&bih=625#imgrc=j9r3ZO5yyJpfVM

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: