ماحولیاتی تبدیلی کا عزم لیے جان کیری ایشیائی ملکوں کے دورے پر

ماحولیات کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے طور پر اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں جان کیری امریکہ، چین اور دیگر ملکوں کے درمیان ماحولیاتی تبدیلیوں پر تعاون کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار فاریسٹ کونگ کی رپورٹ کے مطابق، جان کیری کا کہنا ہے کہ کوئی ایک ملک اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتا، اور اس کے حل کے لیے ہر ملک کو ایک میز پر بیٹھنا ہو گا۔

متحدہ عرب امارات میں جاری ریجنل ڈائیلاگ فار کلائمیٹ ایکشن میں شمولیت کے بعد، امریکی ٹیلی وژن CNBC سے بات کرتے ہوئے، جان کیری کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ چین کے بارے میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ چین کے خلاف ہے۔ یہ چین ، امریکہ، روس ، بھارت، انڈونیشیا، جاپان، کوریا، آسٹریلیا اور دیگر اُن بہت سے ممالک سے متعلق ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ زہریلی گیسوں کے اخراج کا سبب بن رہے ہیں، اورجن میں چین اور امریکہ سرِ فہرست ہیں۔

جان کیری کا یہ بیان اتوار کے روز بھارت کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے سامنے آیا تھا، جہاں وہ 5 سے 8 اپریل تک رہیں گےجس کے بعد وہ 9 اپریل کو بنگلہ دیش جائیں گے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق، منگل کے روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہنچنے پر، جان کیری کا کہنا تھا کہ بھارت ماحولیات پر کام کر رہا ہے اور درجہ حرارت میں کمی کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پہلے ہی بلا شک و شبہ قابل تجدید توانائی کو بروئے کار لانے میں عالمی لیڈر بن چکا ہے۔

بھارت پہنچنے پر جان کیری نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی، جس میں عالمی ماحولیات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارت میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آئندہ دنوں میں جان کیری بھارتی حکومت، نجی شعبے، اور غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

اس سے قبل انہوں نے بھارت کے یونین اینوائرنمنٹ کے وزیر پرکاش جاویدیکر سے ملاقات کی۔ امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اپنے دورے کے دوران وہ بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر درمیندر پرادھان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

جان کیری کے دورے سے پہلے، امریکہ کا کہنا تھا کہ بھارت ماحولیاتی بحران کے حل کا ایک اہم حصہ ہے۔

جان کیری کے دونوں ملکوں کے دوروں کا مقصد ، بائیڈن انتظامیہ کی ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے، اس کی بین الاقوامی وابستگی کی آئینہ دار ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ کیری اس دورے کے دوران، چین کے ماحولیات کیلئے خصوصی ایلچی شی آ زین ہوآ سے ملاقات نہیں کریں گے، حالانکہ دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں۔

حمارا ہند کے مطابق ، ژیانا 2060 تک چین کے کاربن کے اخراج کو ختم کرنے کے منصوبے کا ایک کلیدی کھلاڑی ہے ، اور وہ ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے میں چین کے ایک اعلی مذاکرات کار تھے۔

اس سال فروری میں انہیں دوبارہ ماحولیات کا خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا ہے, اور امریکی ٹیلی وژن بلومبرگ کے مطابق ، ان کی دوبارہ تقرری چین کی ماحولیاتی تبدیلی پر امریکہ کے ساتھ تبادلہ اطلاعات کو مضبوط بنانے کی عکاس ہے۔

دنیا میں کاربن گیسوں کے اخراج میں چین اور امریکہ کا حصہ سب سے زیادہ ہے یعنی 43 فیصد ۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے 22 اور 23 اپریل کو ماحولیاتی تبدیلیوں پر ایک سربراہی کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ کانفرنس، گلاسگو میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام نومبر میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کانفرنس کے انعقاد میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گی۔ امریکہ نے دنیا کے 40 ممالک کو سربراہی کانفرنس میں شرکت کے دعوت نامے ارسال کئے ہیں ۔

Photo Credit : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/b/bf/Secretary_Kerry_Meets_With_Indian_Prime_Minister_Narendra_Modi_at_the_Prime_Minister%27s_Residence_in_New_Delhi_%2829072359680%29.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: