لبنان اور سعودی عرب میں جاری سفارتی تنازعہ کا مرکزی کردار کون ہے؟

لبنان اور سعودی عرب کے درمیان جاری سفارتی تنازعہ کے مرکزی کردار جارج قرداحی نے کہا ہے کہ وہ لبنان کے وزیر اطلاعات بننے سے پہلے یمن کی جنگ کے متعلق سعودی عراب کے بارے میں کیے گئے اظہار خیال پر معذرت نہیں کریں گے۔

وزیر اطلاعات بننے سے پہلے قرداحی لبنان کے ایک ٹی وی گیم شو ‘کون بننا چاہے گا ملینئر’ کے مقبول میزبان تھے جو مزاح، شعر و شاعری اور اپنی طلسماتی شخصیت سے بہت سے سامعین کو مسحور کرتے تھے اور ساتھ ساتھ خطے کے حالات پر اپنی سیاسی آرا کا اظہار بھی کرتے تھے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کی خبر کے مطابق، اب جبکہ لبنان کو سعودی عرب کی مالی امداد کی اشد ضرورت ہے، قرداحی کے ماضی کے سیاسی تبصرے لبنان اور سعودی عرب کی حالیہ تاریخ کے بد ترین سفارتی بحران کا باعث بنے ہیں۔

سعودی عرب سے معذرت کرنے کے بجائے ماضی کے تفریح فراہم کرے والے میزبان اب ریاض کے حلیف اور ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کی حمایت پر انحصار کر رہے ہیں۔

قرداحی نے سیاست میں نسبتاً بڑی عمر میں قدم رکھا اور انہیں اس سال ستمبر میں 71 برس کی عمر میں لبنان کی کابینہ میں شامل کیا گیا۔

بدھ کے روز ایک تفصیلی رپورٹ میں خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے کہا کہ لبنان اور سعودی عرب میں طول پکڑتے ہوئے بحران کا باعث قرداحی کے وہ ریمارکس بنے جو انہوں نے اس سال پانچ اگست کو وزیر اطلاعات بننے سے پہلے دیے۔ ان کے بیان کو میڈیا میں رپورٹ اور براڈ کاسٹ بھی کیا گیا۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قرداحی نے یمن کے ایران کے حمایت یافتہ گروہ حوثی کا دفاع کیا۔ ان کے بیان پر سعودی حکام نے برہمی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب یمن میں جاری جنگ میں حوثی گروہ کے خلاف لڑائی لڑ رہا ہے اور یمن کی جنگ میں اس وقت تعطل کی صورت حال ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے طور پر سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک نے لبنان سے اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے اور اب لبنان کو ان ممالک سے ملنے والی امداد اور تجارت سے حاصل ہونے والی سینکڑوں ملین ڈالرز کی رقوم خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

اس بحران نے لبنان کے اپنے سابق حلیف سعودی عرب سے تعلقات میں مسائل کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس وقت لبنان میں حزب اللہ تنظیم قومی سیاست پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے اور وہ ملک کو سعودی عرب کے حریف ایران کی جانب مزید دھکیلتی جا رہی ہے۔

اے پی نے بتایا ہے کہ ادارے نے قرداحی سے ان کا نقطہ نظر جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ابھی تک اسے کامیابی نہیں ہوئی۔

لبنان اور سعودی عرب کے درمیان جب بحران نے جنم لیا تو قرداحی نے کہا تھا کہ ان کے بیان کا مقصد کسی کو ناراض کرنا نہیں تھا۔ لیکن اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ لبنان کو کسی دوسرے ملک، شخص یا سفیر کو ناجائز فائدہ اٹھانے نہیں دینا چاہیے۔

قرداحی کے حمایتی اسے لبنان کے قومی وقار، آزادی رائے اور خلیجی ممالک کی ملک میں دخل اندازی کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت سمجھتے ہیں۔

ادھر یمن میں حوثیوں کے کنٹرول میں علاقوں اور عراق کے دارالحکومت بغداد میں مختلف جگہوں پر قرداحی کے پوسٹرز نظر آتے ہیں جن پر لکھا گیا ہے کہ ہاں یمن کی جنگ فضول ہے۔

لیکن اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ قرداحی کے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں۔
مثال کے طور پر لبنان کی گلوکارہ الیزا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ملک کے عوام ان اہلکاروں کی وجہ سے قیمت چکا رہے ہیں جو کسی بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔

دوسری طرف خلیجی ممالک میں معروف شخصیات نے قرداحی کو ایک احسان فراموش شخص قرار دیا ہے اور کچھ لوگ اس کی این بی سی میں کام کرنے والی بیٹی کو چینل سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مسئلہ قرداحی کے بیانات سے کہیں بڑا ہے اور اس کا تعلق اس نظام سے ہے جس کے ذریعے لبنان کو ایران کا حلیف بنایا گیا ہے، جبکہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ قرداحی کا مستعفی ہونا، بقول ان کے، صلح صفائی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔

Photo Credit : https://vid.alarabiya.net/images/2021/10/27/315e0a45-6c35-47e1-8ae7-6c7420b01aed/315e0a45-6c35-47e1-8ae7-6c7420b01aed.JPG

Leave a Reply

Your email address will not be published.