لاہور میں ویمن مارچ: ‘یہ پریاں ہیں جو صرف 8 مارچ کو سامنے آئیں’

خواتین تو ہر روز اس سڑک سے گزرتی ہیں، بچیاں بھی اسکول جا رہی ہوتی ہیں۔ آج بھی ویسا ہی ایک دن ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج یہاں سے روزانہ کی نسبت زیادہ خواتین گزر رہی ہیں اور اکٹھی گزر رہی ہیں۔ اچھا میلہ لگا ہوا ہے، گانے بھی چل رہے ہیں لیکن اِن عورتوں کا یہ مارچ تو گزر جائے گا، رہ جائیں گی تو بس وہ عورتیں جو روزانہ ان راہوں پر پیدل چلنے کی عادی ہیں۔

وہ خواتین جو کام پر نکلنے سے پہلے گھر کو صاف کر کے گھر والوں کے لیے ہانڈی روٹی کا انتظام کر کے نکلتی ہیں۔ کسی معمولی نوک جھونک پر مرد کی ڈانٹ یا گالیاں سُن کر آتی ہیں، جو آتے جاتے راہ چلتے مردوں کی ہوس بھری نظروں اور جملوں کا مقابلہ کرتی ہیں۔ بس اسٹینڈ پر جو حصہ عورتوں کے لیے مُختص ہے اُس میں مردوں کو بیٹھا یا لیٹا دیکھ کر خود سر جھکائے گرم سرد موسم میں سائیڈ پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔

لاہور کے شملہ پہاڑی بس اسٹاپ پر بیٹھی اقرا اظہر آفس سے واپسی پر گھر جانے کے لیے بس کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن آج انتظار کی گھڑیاں طویل ہیں کیوں کہ عورتوں کے حقوق کے لیے ہونے والے مارچ کے باعث راستے بند ہیں اور وہ بس اسٹاپ پر ‘عورت مارچ’ کی خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔

حمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے اقرا نے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کے لئے سڑکوں پر نکلنے والی خواتین کے مطالبات سے متفق ہیں۔ لیکن بعض اوقات اظہار رائے کا انداز سننے والے کو اصل مسئلے سے ہٹاتا ہے۔

اقرا کہتی ہیں عورت مارچ میں شامل ہونے والے چہرے یا کردار وہ نہیں جو ہمیں سڑکوں پر عام نظر آتے ہیں۔ یہ تو وہ پریاں ہیں جو صرف آٹھ مارچ کو اپنی گاڑیوں سے زمین پر قدم رکھتی ہیں۔ شاید اس لیے دیکھنے والوں کو عجیب لگتا ہے کہ یہ کون ہیں اور کہاں سے آگئی ہیں۔

اقرا کے بقول مارچ میں شریک خواتین کے ہاتھوں میں تھامے پوسٹرز پر لکھے جُملوں میں کُچھ تلخی ضرور ہے جو کُچھ حد تک سچ بھی ہے۔ لیکن مردوں کا تو پتا نہیں مگر بعض جُملے عورتوں کی دل آزاری کا سبب ضرور بنتے ہیں، جیسے آج ایک مُہذب خاتون نے ایک پیغام کے ساتھ پوسٹر پر سینیٹری پیڈ چپکایا ہوا تھا۔ مان لیا کہ ماہواری ایک قُدرتی عمل ہے اور یہ سب کو پتا ہے تو اس میں چُھپانے والی بات نہیں لیکن اس میں بتانے والی بھی کوئی بات نہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ خواتین سڑکوں پر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ آزاد ہیں، مان لیتے ہیں کہ یہ دوسری خواتین کی آواز بننے نکلی ہیں۔ لیکن یہ ایسا ہی ہے جیسے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ پہلے سے آزاد عورتیں مزید آزاد ہو جاتی ہیں اور پہلے سے ظلم سہتی عورت مزید ظلم کی گہرائیوں میں اُتر جاتی ہے۔

گزشتہ کُچھ عرصے سے ہونے والا ‘عورت مارچ’ خواتین کے عالمی دن پر ہونے والی کوئی نئی سرگرمی نہیں۔ 2008 سے میڈیا میں آنے کے بعد جب میں پاکستان کے ایک نجی چینل کے ساتھ بطور رپورٹر مُنسلک ہوئی تو اُسی سال سے آٹھ مارچ پر ہونے والی ریلیاں، سیمینارز، تقاریب کی کوریج خاتون ہونے کے باعث جیسے لازم ہو گئی۔

عورت مارچ کے پرانے چہرے نئے چہروں سے بدل گئے

دو ہزار آٹھ میں مُختلف غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے ناصر باغ میں لگایا گیا مجمع کوور کیا، جس میں ہوم بیسڈ ورکرز کی بڑی تعداد نے شمولیت کی تھی اور اُنہیں یہاں لانے کے لیے بسوں اور ویگنوں کا انتظام بھی نظر آیا تھا۔ وہاں بجنے والے نغمے آج بھی عورتوں کے دن کی کوریج کے دوران ذہن میں گونجتے ہیں، جن کے الفاظ کُچھ یوں تھے، توڑ توڑ کر بندھنوں کو دیکھو بہنیں آتی ہیں، دیکھو لوگو دیکھو بہنیں آئیں گی، ظلم مٹائیں گی، یہ تو نیا زمانہ لائیں گی اور کہیں ریلی میں بول کہ لب آزاد ہیں تیرے کے الفاظ گونجتے تھے۔

بہت عرصہ تو یہ سلسلہ ایسے ہی رہا لیکن پھر آہستہ آہستہ چہرے بدلنے لگے، عاصمہ جہانگیر، نگہت سعید خان، فریدہ شہید، اُم لیلیٰ، بُشری خالق جیسے چہرے نئے چہروں سے بدل گئے۔

ایسا نہیں کہ آج کے جلسوں میں ہمیں خواتین تحریک کے یہ کردار نظر نہیں آتے، آج کے ‘عورت مارچ’ کے منتظمین کو بھی ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ پُرانے نغمے ‘عورت کیا مانگے آزادی’ جیسے نئے نعروں اور ترانوں کی گونج میں کہیں چُھپ گئے ہیں اور آج تو مارچ کے ہمراہ چلتے ہوئے ‘دل ہوا بو کاٹا’ جیسا گانا بھی سُننے کو ملا۔

اُس دور کے وومن ڈے سرگرمیوں کو میڈیا کی ضرورت رہتی تھی جب کہ آج کے ‘عورت مارچ’ کو شاید میڈیا کی ضرورت نہیں۔ جسے کوور کرنے والے صحافیوں نے بخوبی محسوس کیا۔ مارچ کے پہلے ہفتے ہی سوشل میڈیا پر پیغام پھیلا کہ اس برس میڈیا کو بغیر پاس کے مارچ کوور کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور کہا گیا کہ بغیر پاس والے صحافی یا بلاگرز، وی لاگرز کو مارچ کے منتظمین اور شُرکا سے انٹرویو کرنے اور اُن کی تصویریں یا ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ جس کا مظاہرہ آج دیکھنے کو بھی ملا۔

ریلی کے آغاز سے پہلے نجی ادارے کی رپورٹر کو پاس ہونے کے باوجود انٹرویو کرنے سے منع کیا گیا جس سے رپورٹر اور انتظامیہ کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔

عورت مارچ کے منتظمین اور شرکا لاہور پریس کلب سے پی آئی اے بلڈنگ کی طرف روانہ ہوئے تو پریس کلب کے دروازے کے سامنے کا مورچہ رواداری تحریک پاکستان والوں نے سنبھال لیا، جو پاکستان میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی بچیوں کے ‘مذہب کی جبری تبدیلی اور شادیوں’ کے خلاف آواز بُلند کرنے پُہنچے تھے۔

اُس کے ساتھ ہی چند نوجوانوں کا ایک چھوٹا گروہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے آواز بُلند کر رہا تھا۔ ‘اسٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ’ نامی اس تنظیم کے مرکزی صدر شہیر سیالوی کا کہنا تھا کہ عورتوں کے اصل مسائل کے حل کے لیے مردوں کی ایک خاص تعداد اُن کے ساتھ ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس خاص عورت مارچ کے ساتھ نہیں کیوں کہ اس میں عورت کے مسائل کو ایک الگ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔

اسی عورت مارچ کا حصہ کچھ ڈری سہمی ایک طرف چلتی خواتین بھی نظر آئیں، جنہوں نے ہاتھ میں زرعی اصلاحات اور جائے روزگار پر استحصال روکنے جیسی عبارتیں لکھے پوسٹر اُٹھا رکھے تھے۔ اُنہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ والٹن اور بارڈر کے پاس جیسے علاقوں سے یہاں آئی ہیں اور اُنہیں یہاں اُن کے علاقے کی غیر سرکاری تنظیم سے تعلق رکھنے والی کوئی خاتون جنہیں وہ باجی کہہ کر پُکار رہی تھیں، لائی ہیں۔

وہ اس عورت مارچ کے مقاصد سے تو لاعلم تھیں لیکن رُخشندہ نامی ایک خاتون نے بتایا کہ اُنہوں نے محلے کی دیگر خواتین کے ساتھ گزشتہ سال بھی اس مارچ میں شرکت کی تھی لیکن اُن کے تمام مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں اور اُنہیں اپنی گھریلو اور جائے روزگار کی زندگی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔

Photo Credit : https://www.thenews.com.pk//assets/uploads/updates/2020-03-08/625865_5036312_276278_7373140_updates_updates.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: