قربانی کیوں کی؟ پنجاب میں عیدالاضحی پرجماعت احمدیہ کے 5 افراد گرفتار

خبریں

پاکستان کے صوبۂ پنجاب میں عید الاضحی کے موقعے پر قربانی کرنے کے الزام میں احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو دو الگ الگ مقدمات پر شیخوپورہ اور فیصل آباد میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین کا تعلق فیصل آباد سے ہے جب کہ دو افراد کو شیخوپورہ میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق پہلا مقدمہ ضلع فیصل آباد کے گاؤں 89 ج ب رتن تھانہ سے موصول ہونے والی درخواست پر تھانہ ٹھیکری والا میں درج کیا گیا ۔ پولیس نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 298 سی کے تحت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جس میں الزام گیا ہے کہ قادیانی عقائد سے تعلق رکھنے والے اپنے گھر کے اندر بکرے کی قربانی کر رہے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ایگ گھر میں سیڑھی لگا کر اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ وہاں رہائش پذیر احمدی عقائد رکھنے والے افراد بکرے کی قربانی کر رہے تھے۔ مقدمےمیں لکھا گیا ہے کہ ملک کا 1973 کا دستور چوںکہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے چکا ہے اس لیے عقیدۂ ختم نبوت کا منکر ہوتے ہوئے وہ ظاہری طور پر اسلامی روایات اور رسومات ادا نہیں کرسکتے۔

ماجد جاوید نامی شخص کی مدعیت میں درج کیے گئے اِس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے قربانی کرنے سے شعائر اسلام کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس سے اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

فیصل آباد کے تھانہ ٹھیکری والا میں مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

صوبہ پنجاب ہی کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے نواں کوٹ میں ایسا ایک اور واقعہ سامنے لایا گیا ہے جس میں عیدالاضحٰی کے دِن قربانی کرنے پر پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

شیخوپورہ کے تھانہ صفدر آباد میں درج کیے گئے مقدے میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو عیدالااضحی کے دِن احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک گھر سے ’بسم اللہ‘ اور ’اللہ اکبر‘ کی آوزیں سنی گئیں جس کے بعد اس گھر سے خون نکلتے دیکھا گیا۔ اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے موقع پر پہنچ کر قربانی کرنے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔

احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے خلاف بھی 298 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو شعائرِ اسلام کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔

جماعتِ احمدیہ کا مؤقف

جماعت احمدیہ کے مرکزی رہنما عامر محمود سمجھتے ہیں کہ کافی عرصہ سے ان کی کمیونٹی کے مخالفین ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اور اُن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ احمدیوں کو ہر لحاظ سے پاکستان میں تنگ کیا جائےجس کے لیے بعض لوگ پاکستان میں احمدیوں کی مذہبی آزادی پر مسلسل حملے کرتے رہتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون میں یہ پابندی تو ہےکہ جماعت احمدیہ کے لوگ اپنے عقائد کا پرچار نہیں کر سکتے۔ اِسی طرح اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے البتہ اگر کوئی احمدی اپنی چار دیواری کے اندر کچھ کرتا ہے تو آئین اور قانون کے تحت اُس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔

عامر محمود کے مطابق قربانی کے حوالے سے جو عقائد دیگر مسلمانوں کے ہیں وہی عقائد احمدیوں کے بھی ہیں۔

خیال رہے اِسی طرح کے واقعات گزشتہ سال عیدالاضحٰی کے موقع پر پنجاب کے اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرانوالہ، پیر محل اور شیخوپورہ میں بھی ہوئے تھے۔

قربانی سے روکنے کا مراسلہ

ترجمان فیصل آباد پولیس منیب شاہ بتاتے ہیں کہ عیدالاضحٰی سے قبل محکمۂ داخلہ پنجاب کی جانب سے ایک مراسلہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صوبے بھر میں کوئی بھی احمدی قربانی نہ کرے۔ سرکاری مراسلے میں درج تھا، کہ پاکستان کے آئین کےمطابق احمدی غیر مسلم ہیں۔

انہوں ںے بتایا کہ اس مراسلے کے بعد پولیس نے ضلع فیصل آباد میں تمام احمدیوں کو خبردار کیا کہ وہ قربانی نہ کریں کیوں کہ اس سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

منیب شاہ کے مطابق دس جولائی کو پولیس کو ہیلپ لائن 15 پر شعائر اسلام کی خلاف ورزی کی متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں۔ اُن کے بقول اِس واقعہ کے بعد لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور امن وامان کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔

ترجمان فیصل آباد پولیس کے مطابق، پولیس نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مقدمہ درج کرکے جماعت احمدیہ کے افراد کو گرفتار کرلیا۔

جماعت احمدیہ اس طرح کے واقعات کو مذہبی آزادیوں کے سلب کیے جانے سے تعبیر کرتی ہے۔

پاکستان کے اندر اور عالمی سطح پر ملک کے توہینِ مذہب سے متعلق قوانین پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے اور سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

اندرون ملک بہت سے حلقے اس قانون کا از سر نو جائزہ لینے کے مطالبات کرتے آئے ہیں اور اقوام متحدہ کے بعض اداروں سمیت انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیمیں بھی اس قانون کی تنسیخ کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ مذہبی آزادی رکھنے والے ممالک میں بھی پاکستان کا نام فہرست میں نچلے نمبروں پر ہے۔

تصویر کریڈٹ : https://img.rawpixel.com/private/static/images/website/2022-05/ns12534-image-kwvydfv1.jpg?w=800&dpr=1&fit=default&crop=default&q=65&vib=3&con=3&usm=15&bg=F4F4F3&ixlib=js-2.2.1&s=c467ca29e3ebbaa0577999e3527fb640