فلائیڈ کی گردن پر اتنی دیر گھٹنا رکھنا غیر ضروری تھا،اعلی پولیس افسر کا بیان

امریکہ میں گزشتہ سال مئی میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت میں نامزد پولیس افسر ڈیرک شووین کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں جمعے کے روز منی آپلس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے قتل کی تفتیش پر مامور ہومی سائڈ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کی گواہی قلم بند کی گئی۔

پولیس اہلکار کے خلاف مقدمے کی یہ کارروائی امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں ہو رہی ہے اور گزشتہ پانچ دنوں سے گواہان کی شہادتیں ریکارڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعے کے روز کی کارروائی میں قتل کی تفتیش پر مامور محکمے کے سربراہ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ فلائیڈ زمین پر الٹا لیٹا ہوا تھا اور اسے ہتھکڑیاں بندھی ہوئی تھی، اس کے خلاف خطرناک طاقت کا استعمال بالکل غیر ضروری تھا۔

لیفٹننٹ رچرڈ زمرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اگر آپ کا گھٹنہ کسی کی گردن پر ہے تو آپ اسے مار سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی شخص کو پیچھے سے ہتھکڑیاں لگی ہوتی ہیں تو ’’اس کے پٹھے پیچھے کو کھنچتے ہیں، اور اگر آپ اپنے سینے پر لیٹے ہوئے ہیں تو سانس لینے میں مزید دشواری محسوس ہوتی ہے۔‘‘

قتل کے اس مقدمے کی کارروائی کے دوران زمرمین نے بتایا کہ وہ پولیس کے محکمے میں سب سے سینئیر افسر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فلائیڈ کو ہتھکڑیاں لگ چکی تھیں تو انہیں ’’یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آئی کہ افسر نے اپنے آپ کو خطرے میں کیوں محسوس کیا، اگر انہوں نے ایسا محسوس کیا۔ کیونکہ اتنی طاقت صرف اسی وقت استعمال کی جا سکتی ہے،جب انہیں ایسا محسوس ہوا ہو۔‘‘

استغاثہ کے وکیل میتھیو فرینک کے اس سوال پر کہ جب ہتھکڑیاں لگ چکی تھیں اور جارج فلائیڈ زمین پر پڑے ہوئے تھے تو پھر پولیس کو مزید کچھ نہیں کرنا چاہئے تھا؟

زمرمین نے کہا کہ بالکل ایسا ہی۔ ان کے مطابق انہیں کسی کی گردن پر گھٹنہ رکھنے کی تربیت نہیں دی گئی۔

انہوں نے اپنی گواہی میں کہا کہ موقع پر موجود پولیس افسران کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ پریشانی میں مبتلا شخص کی ایمبولینس کے آنے سے پہلے دیکھ بھال کریں۔

فلائیڈ کی گرل فرینڈ منشیات کی لت سے جان چھڑانے کی کوششوں کا ذکر کرتے رو پڑیں

اس سے قبل جمعرات کے روز فلائیڈ کی گرل فرینڈ کورٹنی راس کی گواہی ریکارڈ کی گئی۔

45 برس کی سفید فام کورٹنی راس نے نم ناک آنکھوں کے ساتھ عدالت کو بتایا کہ وہ اور فلائیڈ کس طرح ایک چرچ سالویشن آرمی شیلٹر میں ملے جہاں جارج فلائیڈ سیکیورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اور جارج فلائیڈ منشیات کے عادی تھے اور اس عادت سے جان چھڑانے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ ان کے مطابق جارج فلائیڈ کو منشیات کے استعمال کی وجہ سے جسم کے مختلف حصوں میں درد رہتا تھا۔ ان کے بقول ’’مجھے گردن میں اور جارج فلائیڈ کی کمر میں درد رہتا تھا۔‘‘

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’’منشیات کے استعمال کی عادت پوری زندگی کا مسئلہ ہے، یہ ایسے نہیں ہے کہ ایک دم ختم ہو جائے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے مجھے ساری زندگی نمٹنا پڑے گا۔‘‘

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مارچ 2020 میں فلائیڈ کو پیٹ میں شدید درد اٹھا اور وہ انہیں ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے گئیں، تو انہیں پتہ چلا کہ فلائیڈ نے بہت زیادہ دوائیں کھا لی تھیں۔ ان کے بقول اس کے بعد وہ دونوں کرونا وائرس کے قرنطینہ میں ساتھ رہے اور بعد کے چند مہینے جارج فلائیڈ نے منشیات سے پرہیز کیا تھا۔

لیکن انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ وقوعے سے دو ہفتے قبل شاید فلائیڈ نے دوبارہ سے منشیات استعمال کرنا شروع کر دی تھیں کیونکہ ان کا رویہ تبدیل ہو گیا تھا۔

فلائیڈ کی خاتون دوست کی گواہی پولیس اہلکار شووین کی دفاعی ٹیم کی اس دلیل کو توڑنے میں استغاثہ کی مدد کر سکتی ہے کہ جارج فلائیڈ کی موت منشیات کی وجہ سے ہوئی تھی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فلائیڈ کے جسم سے نشہ آور گولیوں فینٹنائیل کی جو تعداد ملی تھی، وہ عام آدمی کے لیے ہلاکت خیز ہو سکتی ہے مگر جو لوگ منشیات کے عادی ہوں، ان کا جسم اس مقدار کی نشہ آور دوا کو برداشت کر لیتا ہے۔

‘فلائیڈ کی گرفتاری کو “بے یقینی اور احساس جرم” کے ساتھ دیکھا’

بدھ کے روز کی کارروائی میں اس سٹور کے کیشئیر کی گواہی ریکارڈ کی گئی تھی، جس نے جارج فلائیڈ کی پولیس اہلکار سے جھڑپ سے ذرا قبل اسے بیس ڈالر کے نقلی نوٹ کے عوض سگریٹ کا ایک پیکٹ فروخت کیا تھا۔

انیس سالہ کیشئیر کرسٹوفر مارٹن نے اپنی گواہی میں تسلیم کیا تھا کہ اس نے فلائیڈ سے بیس ڈالر کا نقلی نوٹ قبول کیا تھا۔ لیکن جب اسے نوٹ کے نقلی ہونے کا احساس ہوا اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ رقم سٹور پالیسی کے مطابق اس کی تنخواہ سے کاٹی جائے گی، اس نے اس بارے میں سٹور کے مالک کو مطلع کرنا مناسب سمجھا، جس نے اسے فوری طور پر فلائیڈ کے پیچھے جانے اور سٹور میں واپس لانے کو کہا۔

کیشئیر کرسٹوفر مارٹن نے بتایا کہ اس نے بیس ڈالر کا نقلی نوٹ دینے والے شخص کی اپنے سٹور کے باہر گرفتاری کو “بے یقینی اور احساس جرم” کے ساتھ دیکھا۔ اس کا کہنا تھا کہ “اگر میں نے وہ نوٹ قبول نہ کیا ہوتا، تو ایسا نہ ہوتا”۔

اس سے قبل، آگ بجھانے والے عملے کی ایک رکن جینیویو ہینسن نے اپنی شہادت ریکارڈ کراتے ہوئے بتایاتھا کہ انہیں موقعے پر فلائیڈ کی مدد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

جینیویو ہینسن اُن متعدد افراد میں شامل ہیں جنہوں نے منگل کے روز سے اپنی شہادتیں ریکارڈ کرانی شروع کی تھیں، اور اپنی مایوسی اور ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ایک اشیائے خورد و نوش کے سٹور کے باہر پولیس اہلکار ڈیرک شو وین کو فلائیڈ کی گردن پر گھٹنے کے بل جھکے ہوئے دیکھا تھا، مگر ان کی مدد نہیں کر سکی تھیں۔

گواہی دینے والوں اور موقع پر موجود افراد کی جانب سے ریکارڈ کی جانے والی ویڈیو کے مطابق، جینیویو نے اس واقعے کے دوران پولیس کے سامنے اپنے آپ کو فائر فائیٹر کے طور پر متعارف کراتے ہوئے بار بار درخواست کی تھی کہ اسے فلائیڈ کی نبض دیکھنے کی اجازت دیں۔

وکلا استغاثہ کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار ڈیرک شووین نو منٹ اور اکتیس سیکنڈ تک فلوئیڈ کی گردن پر گھٹنے کے بل جھکا رہا۔

پولیس اہلکار ڈیرک شو وین کو قتل کے الزامات کا سامنا ہے، جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

ڈیرک شووین کے وکلا نے اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس اہلکار صرف اپنی پیشہ ورانہ تربیت کے مطابق عمل کر رہا تھا، اور یہ کہ فلائیڈ کی موت دیگر وجوہات سے ہوئی جن میں دل کی بیماری اور منشیات کا استعمال شامل تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے واقعے کی موقعے پر لی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر عام ہونے اور خبروں پر مبنی پروگراموں کی وجہ سے امریکہ بھر میں متعدد مقامات پر پولیس کے برتاؤ کے خلاف زبردست مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ پولیس کی ظلم و زیادتی کے خلاف ایسے ہی مظاہرے دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ہوئے تھے۔

حال ہی میں امریکہ کے شہر منی ایپلس کی مقامی حکومت نے جارج فلائیڈ کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر کیے گئے سول مقدمے کے تصفیے کے لیے ستائیس ملین ڈالر یعنی دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کی حامی بھری ہے۔

جارج فلائیڈ کے اہلِ خانہ کے وکیل بین کرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ تصفیے کی یہ رقم کسی بھی مقدمے میں ادا کی جانے والی تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہے۔

Photo Credit : https://www.thewrap.com/wp-content/uploads/2021/03/GettyImages-1309951195.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: