فزکس کا نوبیل انعام پیچیدہ نظاموں کا مطالعہ کرنے والے امریکہ، جرمنی اور اٹلی کے سائنس دانوں کے نام


جاپانی نژاد امریکی سائنس دان شکورو منابے، جرمنی کے کالوس ہاسلمن اور اٹلی کے جورجو پاریسی کو زمین کی آب و ہوا کی تبدیلی جیسے پیچیدہ طبعی نظام کو سمجھنے میں مدد کرنے پر فزکس کے نوبیل انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

فزکس کے نوبیل انعام کی 11 لاکھ 50 ہزار ڈالرز کے قریب بننے والی رقم دو حصوں میں تقسیم کی جائے گی۔ جن میں ایک حصہ امریکہ کے 90 سالہ شکورو منابے اور جرمنی کے کالوس ہاسلمن کو، دنیا کے درجۂ حرارت اور آب و ہوا میں تبدیلی کی قابلِ اعتماد پیش گوئی کے نظام کا خاکہ پیش کرنے پر دیا جائے گا۔

انعام کا دوسرا حصہ اٹلی کے سائنس دان جورجو پاریسی کو دیا جائے گا جنہوں نے گیسز اور مائعات میں حرکت کے مخفی اصولوں کو واضح کیا ہے۔

سوئیڈن کی اکیڈمی آف سائنسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیچیدہ نظاموں کی خصوصیات واضح کی گئی ہیں جب کہ ان میں بے ترتیبی کو سمجھنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔

شکورو منابے اس وقت امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی سے وابستہ ہیں جب کہ کالوس ہاسلمن جرمنی میں ہمبرگ کے میکس پلنک انسٹیٹیوٹ آف میٹرولوجی میں خدمات انجام دے ہیں۔ اسی طرح اٹلی کے سائنس دان جورجو پاریسی ساپینزا یونیورسٹی میں استاد ہیں۔

واضح رہے کہ سوئیڈن کی نوبیل انعام کا اعلان کرنے والی اکیڈمی نے رواں ہفتے دوسرے نوبیل انعام کا اعلان کیا ہے۔ فزکس سے قبل طب اور فزیالوجی کے نوبیل انعام کا اعلان پیر کو کیا گیا تھا۔

طب اور فزیالوجی کے شعبے کا نوبیل انعام امریکی سائنس دان ڈیوڈ جولیس اور آرڈم پیٹاپوٹین کے نام رہا جنہیں حرارت اور چھونے کا احساس دلانے والے ‘ریسیپٹرز’ دریافت کرنے پر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبیل سے منسوب ‘نوبیل پرائز’ سب سے پہلے 1901ء میں سائنس، ادب اور امن کے شعبوں میں دیا گیا تھا۔

نوبیل انعام طب، طبیعات، کیمسٹری، ادب، امن، اور معاشیات کے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو دیا جاتا ہے۔

وبا کی وجہ سے گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی نوبیل کی تقریب غیر روایتی انداز میں ہی منعقد کی گئی۔

کرونا وبا سے قبل نوبیل ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب الفریڈ نوبیل کی برسی کے دن یعنی 10 دسمبر کو اسٹاک ہوم میں منعقد ہوتی رہی ہے۔

معروف سائنس دان الفریڈ نوبیل سے منسوب ‘نوبیل پرائز’ سب سے پہلے 1901ء میں سائنس، ادب اور امن کے شعبوں میں دیا گیا تھا۔

بعد ازاں 1969 میں اس میں معاشیات کا شعبہ بھی شامل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس طبیعیات کا نوبیل انعام برطانیہ، جرمنی اور امریکہ کے ان سائنس دانوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا تھا جنہوں نے بلیک ہول سے متعلق تحقیق کے دوران اہم انکشافات کیے تھے۔

ان سائنس دانوں میں برطانیہ کے روجر پینروز، جرمنی کے رین ہارڈ گینزل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی خاتون سائنس دان اینڈریا گیز شامل تھیں۔

اس سے قبل 2019 میں فلکیات کے شعبے میں تحقیق کرنے والے تین سائنس دانوں نے فزکس کا نوبیل انعام اپنے نام کیا تھا۔

نوبیل انعام کے فاتحین میں کینیڈین نژاد امریکی سائنس دان جیمز پیبلز جب کہ سوئٹزرلینڈ کے مائیکل میئر اور ڈیڈیئر کلاز شامل تھے۔

Photo Credit : https://i.epochtimes.com/assets/uploads/2021/10/id13282973-GettyImages-1235706330-700×359.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.