فائزر کا کہنا ہے کہ اس کی کویڈ 19ویکسین بچوں میں 90 فیصد سے زیادہ موثر ہے

کرونا وائرس سے بچاو کی ویکسین بنانے والی کمپنی فائزر نے کویڈ 19 ویکسین کی چھوٹے سائز کی پیکنگ والی خوراک کو بچوں کے لئے محفوظ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کم مقدار کی ویکسین پہلی سے پانچویں جماعت کے بچوں میں کرونا انفیکشن کے اثرات روکنے میں تقریباً 91 فیصد موثر ہیں۔

جمعے کو فائزر کی جاری کردہ ریسرچ کی تفصیلات کے مطابق، بچوں کے لئے تیار کی گئیکویڈ 19 ویکسین 5 سے 11 سال کے بچوں میں علامتی انفیکشن کو روکنے میں تقریباً 91 فیصد موثر دکھائی دیتی ہے۔

اگر ریگولیٹرز نے اجازت دے دی تو بچوں کو ویکسین دینے کا سلسلہ نومبر کے اوائل میں شروع ہو سکتا ہے اور اس کو لگوانے والے اولین بچے کرسمس تک کویڈ 19 سے مکمل طور پر محفوظ ہوں گے۔ یہ امریکہ میں ویکسین لگانے کی ایک بڑی مہم ہوگی، جس میں ایلیمنیٹری اسکول کےتقریباً 28 ملین بچے شامل ہوں گے۔ فائزر کی ریسرچ کی تفصیلات آن لائن شائع کی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ فائزر کی ویکسین کے بچوں کے لئے محفوظ اور موثر ہونے کے اعداد و شمار کے بارے میں اپنا جائزہ بعد میں شائع کرے گا۔

اس معاملے پر امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن کے مشیر اگلے ہفتے عوامی سطح پر بحث کریں گے۔ اگر ایجنسی خود ویکسین لگانے کی اجازت دیتی ہے تو بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے کہ وہ کس کو لگائے جانے چاہئیں۔

12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے کسی بھی شخص کو مکمل طاقت والے فائزر شاٹس لگوانے کی پہلے ہی سے اجازت ہے۔ لیکن بچوں کے امراض کے ماہرین اور بہت سے والدین اس بات کے شدت سے منتظر ہیں کہ چھوٹے بچوں میں بڑھتے ہوئے انفیکشن اور تیزی سے پھیلنے والے ‘ڈیلٹا ویرئینٹ’ کے باعث انہیں وائرس سے محفوظ رکھتے ہوئے اسکول بھیجنے کو یقینی بنایا جائے۔

بائیڈن انتظامیہ بچوں کے لئے محفوظ مقدار کا تعین کرکے ویکسین کی کافی تعداد خرید چکی ہے، جو خصوصی نارنجی رنگ کے ڈھکن والی شیشیوں میں بند ہیں، تاکہ وہ بالغ افراد کی ویکسین کی شیشیوں سےمختلف نظر آئیں اور نمایاں طور پر معلوم ہو سکے کہ ان میں ملک کے پانچ سے گیارہ سال کے بچوں کی ویکسین ہے۔

اگر اس ویکسین کی منظوری دے دی گئی تو لاکھوں خوراکیں بچوں کے سائز کی سوئیوں کے ساتھ فوری طور پر ملک بھر میں روانہ کر دی جائیں گی۔

25،000 سے زائد ماہرین امراض اطفال اورابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے پہلے ہی چھوٹے بچوں کو ویکسین لگانے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔

فائزر کے مطالعے میں 5 سے 11 سال کی عمر کے گروپ کے 2،268 بچوں کو شامل کیا گیا، جنہیں تین ہفتوں میں فرضی یا کم خوراک والی ویکسین کے علاوہ دو شاٹس لگائے گئے۔ ہر خوراک کی مقدار نوعمر اور بالغ افراد کو دی جانے والی خوراک کا ایک تہائی تھی۔

اس تحقیق میں اندازہ لگایا گیا کہ کم خوراک والی ویکسین 91 فیصد موثر تھی ۔ انہوں نے یہ اندازہ اس مطالعاتی جائزے کی بنیاد پر لگایا جس میں انہوں نے کویڈ 19 سے متاثرہ سولہ بچوں اور تین ایسے بچوں کو فرضی ویکسین دی جن میں کوویڈ کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ انہیں معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی میں بھی شدید بیماری کی رپورٹ نہیں ملی۔ لیکن جن بچوں کی پہلے سے ویکسی نیشن ہو چکی تھی ان میں ان بچوں کی نسبت بیماری کی بہت کم علامات ظاہر ہوئیں جو ویکسی نیٹد نہیں تھے۔

اس ریسرچ کا بیشتر ڈیٹا امریکہ میں اگست اور ستمبر کے دوران اس وقت جمع کیا گیا تھا جب ڈیلٹا ویرئینٹ کویڈ 19 کی نمایاں قسم بن چکا تھا۔

اس کے علاوہ جن چھوٹے بچوں کو کم خوراک والے شاٹس دیئے گئے، ان میں کورونا وائرس سے لڑنے والی اینٹی باڈیز اتنے ہی مقدار میں بنیں، جتنا کہ ان نوعمر اور بالغ افراد میں، جنہیں مکمل طاقت کی ویکسین دی گئی تھی۔

ایک اور حوصلہ افزا خبر میں سی ڈی سی نے اس ہفتے کے شروع میں رپورٹ دی کہ موسم گرما کے دوران ڈیلٹا ویرینٹ بڑھنے کے باوجود، فائزر ویکسینیشن 12 سے 18 سال کے بچوں میں ہسپتالوں میں داخل ہونے سے روکنے میں 93 فیصد مؤثر تھی۔

فائزر کو چھوٹے بچوں کے اپنے مطالعے سے معلوم ہوا کہ کم خوراک والی شاٹس محفوظ ثابت ہوئیں اور ان میں نو عمر بچوں جیسے یا ان سے بھی کم چند عارضی سائڈ ایفیکٹس ظاہر ہوئے، مثلا ً ٹیکے کا زخم، بخار یا درد۔

یہ مطالعہ اتنا بڑا نہیں ہے کہ کسی انتہائی غیر معمولی سائڈ ایفیکٹ کا پتہ لگا سکے، مثلاً دل کی سوزش جو زیادہ تر نوجوانوں میں کبھی کبھار دوسری خوراک کے بعد ہوتی ہے۔

سی ڈی سی کے مطابق، اگرچہ بچوں میں کویڈ 19 کی وبا سے شدید بیماری یا موت کا خطرہ بڑی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ تاہم 18 اور اس سے کم عمر کے 630 سے زیادہ امریکی اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس کا کہنا ہے کہ تقریبا باسٹھ لاکھ بچے کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور گزشتہ چھ ہفتوں میں، جب ڈیلٹا ویرئینٹ میں اضافہ ہوا، گیارہ لاکھ بچے انفیکشن میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

موڈرنا ویکسین بنانے والی کمپنی بھی ایلیمینٹری اسکول کے بچوں پر کویڈ 19 کی اپنی ویکسین کی خوراکوں کا مطالعہ کر رہی ہے۔ فائزر اور موڈرنا دونوں ویکسین کمپنیاں چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں تک پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ ان کے نتائج اس سال کے آخر میں آنے کی توقع ہے۔

फोटो क्रेडिट : https://www.gettyimages.in/detail/news-photo/an-illustrative-image-of-a-person-holding-a-medical-syringe-news-photo/1236028470

Leave a Reply

Your email address will not be published.