عراقی وزیر اعظم پر قاتلانہ حملہ عراق کی’خودمختاری اوراستحکام’پرحملہ ہے، امریکہ

امریکہ نے عراق کے وزیر اعظم پر قاتلانہ حملے کو عراقی ریاست کی خودمختاری اور استحکامپر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کی نوعیت ایران سے منسلک گروہوں کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

یہ حملہ اتوار کو کیا گیا جس میں عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی زندگی بچ گئی۔ عراقی سیکیورٹی حکام نے اسے ”مسلح ڈرونز” کے حملے کا نام دیا ہے۔ انھیں معمولی زخم آئے؛ جس کے فوری بعد وزیر اعظم نے امن کی اپیل جاری کی۔

حملے کے فوری بعد ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں الکاظمی نے کہا کہ ”راکٹ اور ڈرونز کی مدد سے کیا جانے والے یہ بزدلانہ حملے ملکوں کی تعمیر کرتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں”۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگان نے صدر کے پیر کے دن کے مذمتی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ممکن ہے کہ صرف وزیر اعظم اس حملے کا ہدف نہ ہوں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان، نیڈ پرائس نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نہ صرف ان کے خلاف حملہ تھا بلکہ یہ عراقی ریاست کی خودمختاری اور استحکام پر بھی حملہ تھا”۔

پرائس نے مزید کہا کہ ”وزیر اعظم الکاظمی نہ صرف حکومت کے سربراہ ہیں، بلکہ وہ عراقی ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں، اور وہ عراقی سیکیورٹی افواج کے ‘کمانڈر اِن چیف’ ہیں”۔

اس حملے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ لیکن،عراقی سیکیورٹی ذرائع نے رائٹرز خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ممکنہ طور پر یہ حملہ کم از کم کسی ایک ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نے کیا ہو۔

اہل کاروں نے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ ابتدائی چھان بین سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے دونوں ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد ایران کے تیار کردہ ہیں۔

رائٹرز کی جانب سے ایک نیم فوجی گروپ سے رابطہ کیا گیا، جس نے ان الزامات کا جواب دینے سے انکار کیا۔ دیگر گروہ رابطے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

ایک اور خبر کے مطابق، پیر کے روز ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تہران میں اخباری کانفرنس میں کہا کہ ”حملہ آوروں اور اس کے ذمہ داروں کو تلاش کرنے کے سلسلے میں سبھی کو مدد کرنی چاہیے”۔

سعید خطیب زادے نے کہا کہ ”عراق کے استحکام کا راستہ اور انحصار تعاون اور قانون کی حکمرانی پر ہے۔ ہمیں اچھی باتوں کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ قانون سے وابستہ عراقی ادارے چھان بین کا ضروری کام سرانجام دے سکیں”۔

امریکی حکام نے پیر کے دن حملے کی براہ راست ذمہ داری کے تعین سے احتراز کیا، لیکن یہ بات تسلیم کی کہ ڈرون کا استعمال ان گروہوں کی جانب اشارہ کرتا ہے جن کے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں۔

وائس آف امریکہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے، پینٹاگان کے پریس سیکرٹری، جان کربی نے پیر کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ”عراق کے اندر متعدد گروپ متحرک ہیں جن کی ایران حمایت کرتا ہے، جو اس قسم کے حملے کرنے کی استعداد رکھتے ہیں”۔

کربی نے یہ بھی کہا کہ تفتیش کے معاملے میں ضرورت پڑنے پر امریکہ نے عراق کو مدد کی پیش کش کی ہے۔ تاہم، عراق کے حکام بھی مدد کی فراہمی کے لیے درخواست کر سکتے ہیں۔

کربی نے کہا کہ ”حملے کی ہم ایک بار پھر مذمت کرتے ہیں۔ ہم وہی کرتے رہیں گے جس کی ہمیں ضرورت ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے فوجیوں کو تحفظ میسر ہو اور ہماری تنصیبات کا بہتر دفاع کیا جا سکے”۔

امریکی حکام نے ایران کے ڈرون تیار کرنے کے پروگرام اور خطے میں اپنے ‘پراکسی’ گروپوں کو اس ٹیکنالوجی کی فراہمی پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ ماہ امریکہ نے ایرانی اہل کاروں اور ایران میں قائم اداروں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا، جنھیں ایران ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے، جن میں عراق کی ‘کتائب حزب اللہ’ ملیشیا شامل ہے۔

ساتھ ہی، امریکی فوجی اور انٹیلی جنس اہل کاروں نے ایران کے ڈزائن اور تیار کردہ ڈرونز کے استعمال سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے، جن میں سے چند مشرق وسطیٰ کے مختلف اہداف پر ‘کامی کازے’ نوعیت کے حملوں میں استعمال ہوئے ہیں۔

محکمہ دفاع کے پالیسی ساز ادارے کی معاون وزیر دفاع،ماراکارلن نے ڈرون کے خطرات کے موضوع پر گزشتہ ماہ ایک ورچوئل تقریب سے خطاب میں ایران کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ بقول ان کے، ”خطے میں یہ ایران ہی کی کارستانی ہے، جس سے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو فروغ مل رہا ہے”۔

Photo Credit : https://images.hindustantimes.com/img/2021/11/07/1600×900/d0dfa8f4-3fd9-11ec-a444-2c6d4ea9da0b_1636297128968.png

Leave a Reply

Your email address will not be published.