طلبہ آئن لائن امتحانات کے لیے احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

طلبہ آئن لائن امتحانات کے لیے احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟


پاکستان میں اِن دِنوں مختلف نجی جامعات اور کالجوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ آئن لائن امتحانات نہ لیے جانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ جب آئن لائن درس و تدریس ہو سکتی ہے تو امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں۔

پنجاب کے تین شہروں لاہور، فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان کے طلبہ نے 26 جنوری اپنی اپنی یونیورسٹیوں کے باہر آن لائن امتحانات نہ لینے کے خلاف مظاہرہ کیا۔

مظاہروں میں شریک طلبہ کا مؤقف تھا کہ جامعات اور کالجوں نے کرونا وائرس کی وجہ سے درس تدریس کا سلسلہ آن لائن جاری رکھا۔ اِسی مناسبت سے امتحانات بھی آن لائن ہونے چاہئیں۔

کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج میں طلبہ نے املاک کو بھی نقصان پہنچایا جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا۔

اِن مظاہروں میں شریک لاہور کی ایک نجی تعلیمی ادارے یونیوسٹی آف سینٹرل پنجاب کے طالب علم محمد احمد سمجھتے ہیں کہ آن لائن درس وتدریس میں بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے جس کے باعث طالب علم ٹھیک سے اپنی پڑھائی نہیں کر سکتا۔

ہمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے ، محمد احمد نے بتایا کہ آن لائن تدریس کے دوران اساتذہ اور طلبہ کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جس پر انہوں نے اور دیگر طلباء نے یونیورسٹی اساتذہ سے آن لائن امتحانات لینے کے لئے بات کی۔ جاؤ. تاکہ اس کے درجات متاثر نہ ہوں اور نمبر اچھے ہوں ، جس کا جواب انہوں نے دیا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔

‘جب آن لائن کلاسز ہو سکتی ہیں تو امتحانات بھی آن لائن ہوں’

محمد احمد کے مطابق اُن سمیت دیگر طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا لیکن اُن کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ آن لائن امتحانات نہ لیے جانے کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت کی وجہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مطمئن نہ کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب آن لائن کلاسز ہو سکتیں ہیں اور ماہانہ ٹیسٹ آن لائن ہو سکتے ہیں تو سالانہ امتحانات بھی آن لائن ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ نے بھی اچھے طریقے لیکچر نہیں لیے اور اساتذہ نے بھی مناسب توجہ نہیں دی۔ پہلے اساتذہ کے خلاف بول بھی نہیں سکتے تھے۔ کیوں کہ وہ ایک مضبوط مافیا کی طرح ہیں۔ اگر طلبہ اُن کے خلاف بولتے ہیں تو اُن کو معلوم ہو جاتا ہے اور وہ طلبہ گریڈز خراب کر دیتے ہیں۔

‘آن لائن طریقہ امتحان میں طلبہ کی اہلیت کو پرکھنا مشکل ہے’

احتجاج میں نجی تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کے طلبہ بھی شریک ہیں۔ یو ایم ٹی کے ترجمان علی رضا کہتے ہیں کہ آن لائن طریقہ امتحان میں معیار کو برقرار رکھنا اور طلبہ کی اہلیت کو پرکھنا مشکل کام ہے۔

ہمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے علی رضا نے کہا کہ آن لائن امتحانات کے نظام میں اچھی طرح تعلیم حاصل کرنے والے بچے اپنی اہلیت کا بخوبی اظہار نہیں کرسکتے ہیں۔

ترجمان یو ایم ٹی نے بتایا کہ اب جامعات کھلی ہیں جس کے بعد آن لائن امتحان کا سلسلہ نہیں بنتا۔ اِس سلسلے میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے بھی ہدایت ہے کہ اگر جامعات آن لائن طریقۂ امتحان کو درست سمجھتی ہیں تو آن لائن طریقہ کار کو منتخب کریں۔ بصورتِ دیگر روایتی طریقے سے امتحانات لیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن امتحانات میں طلبہ کے لیے سوالات کے جواب دینا قدرے آسان ہوتا ہے۔ وہ نقل کر کے بھی امتحان دے سکتے ہیں۔ اُن کے لیے یہ طریقۂ کار بہت آسان ہے۔ کلاس رومز میں امتحان میں طلبہ کی باقاعده نگرانی کی جاتی ہے۔

ان کے بقول اساتذہ طلبہ کی نگرانی کرتے ہیں کہ کوئی طالب علم نقل نہ کرے یا کوئی بھی دوسرا طریقہ اختیار نہ کرے۔ آن لائن امتحان میں طلبہ کا پتا نہیں ہوتا کہ وہ سوالات کے جوابات کیسے دے رہا ہے۔

آن لائن امتحانات لینے کے عمل میں بہتری

پنجاب کی بیشتر سرکاری جامعات آن لائن امتحانات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے جی سی یو میں آن لائن درس و تدریس کا عمل جاری رہا جس کے دوران آن لائن امتحانات لینے کے عمل کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ طلبہ کے امتحانات آن لائن نہ لیے جائیں۔

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے ، جی سی یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے کہا کہ آن لائن امتحانات لینے کی سب سے بڑی وجہ اپنے طلباء کو سیکھنے کے نئے اور جدید طریقوں پر لے جانا تھا۔ بچوں کو جانچ کا روایتی طریقہ دیا گیا تھا جس میں انہیں ایک امتحان کے کمرے میں تین گھنٹے بیٹھایا گیا تھا اور 10 سے 12 اساتذہ کو بطور سپروائزر مقرر کیا گیا تھا اور طلبا نے قابل اعتراض اشیاء کو کاپی کیا تھا۔ وہ اس پرانے طریقے سے طلبا کی زندگیاں بچانا چاہتا تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی سمجھتے ہیں کہ اگر اساتذہ کی باقاعدہ تربیت ہو تو وہ آن لائن امتحانات زیادہ اچھے طریقے سے لے سکتے ہیں جس میں طلبہ کی بھی تربیت ہو گی۔ اِس سلسلے میں جی سی یو کے اساتذہ کو باقاعدہ تربیت دی گئی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ آن لائن طریقۂ امتحان میں طالب علم کو کوئی اسائنمنٹ دیا جاتا ہے جس میں وہ کتابوں سے اور انٹرنیٹ سے مدد لے سکتا ہے۔ اِس کے مقابلے میں روایتی طریقہ امتحان میں وہ رٹے رٹائے سوالوں کے جوابات دیتا ہے۔ جو کہ اُس کی یاداشت کا امتحان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اَب لرننگ آؤٹ کم کی طرف جا رہے ہیں جس میں اگر بچہ کوئی نقل کر رہا ہے یا کسی سے کوئی مدد مانگ رہا ہے اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ اُنہوں نے ایک طریقۂ کار اپنایا ہے جس میں طلبہ کے آپس کے اسائنمنٹ کو چیک کیا جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ دوسرے بہت سے ایسے طریقے ہیں جس میں اِس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ اسائمنٹ اور دیگر جوابات طالب علم کے اپنے ہوں۔

یاد رہے اس سے قبل بھی رواں ماہ 18 جنوری کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر بھی طلبہ کا اجتماع ہوا تھا۔ جس میں مختلف شہروں سے آئے ہوئے طلبہ نے آن لائن امتحان نہ لیے جانے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

مرحلہ وار درس و تدریس کی بحالی

کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں گزشتہ برس فروری میں تعلیمی ادارے بند کیے گئے تھے جو کئی ماہ کی بندش کے بعد ستمبر 2020 میں کھلے۔ جس کے بعد کرونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے نومبر 2020 میں دوبارہ تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔ جنہیں مرحلہ وار 19 جنوری 2021 سے کھولا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ گزشتہ سال کرونا وائرس کی وجہ سے طلبہ کے سالانہ امتحانات منسوخ کر دیے گئے تھے اور اُنہیں اگلی جماعتوں میں پروموٹ کر دیا گیا تھا۔

شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال طلبہ کے امتحانات لازمی ہوں گے اور انہیں منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

‘یہ جامعات کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ امتحان کیسے لیتی ہیں’

وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ کچھ جامعات کے طلبہ کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ آن لائن درس و تدریس کے بعد امتحان بھی آن لائن لیا جائے۔ یہ جامعات کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ امتحان کیسے لیتی ہیں۔

اُنہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ اُن کی اِس سلسلے میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن سے بات ہوئی ہے اور اُنہیں جامعات کے منتظمین اعلیٰ سے رابطہ کر کے حالات کے مطابق حکمتِ عملی بنانے کو کہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ تمام طلبہ کا آن لائن امتحان اچھے طریقے سے لے سکتیں ہیں۔ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آن لائن طریقۂ امتحان کے دوران اچھے نمبروں کے لیے کوئی غلط طریقہ استعمال نہ ہو۔ یہ اہم ہے کہ اچھے سوالات اور اچھی اسائنمنٹ تیار کی جائیں۔

واضح رہے اقوامِ متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف کی دسمبر 2020 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب 30 کروڑ اسکول جانے والے طلبہ کے گھروں میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ جب کہ پاکستان میں لگ بھگ چار کروڑ بچے متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان میں متاثر ہونے والے بچوں سے متعلق کہا گیا تھا کہ ان میں بہت کم بچوں کی تعداد ایسی ہے جو آن لائن تعلیمی سلسلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی لگ بھگ 21 کروڑ آبادی میں سے 16 کروڑ 89 لاکھ افراد کے پاس موبائل فون ہے۔ ان میں سے آٹھ کروڑ 50 لاکھ کے پاس اسمارٹ فون کے ذریعے تھری جی یا فور جی انٹرنیٹ سروس میسر ہے۔ جب کہ مزید 20 لاکھ افراد کے پاس برانڈ بینڈ سروس بھی موجود ہے۔

Photo Credit : https://www.thestatesman.com/wp-content/uploads/2020/07/online.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: