طالبان کے کنٹرول کے بعد کابل ایئرپورٹ پر پہلی غیر ملکی کمرشل فلائٹ کی لینڈنگ

پاکستان کی قومی ایئرلائن ‘پی آئی اے’ نے افغانستان کے لیے فلائٹ آپریشن بحال کر دیا ہے جس کے بعد پیر کو پی آئی اے کا ایک طیارہ کابل ایئرپورٹ پہنچ گیا۔

افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد یہ افغان سرزمین پر اترنے والی پہلی غیر ملکی کمرشل فلائٹ ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اسلام آباد سے کابل پہنچنے والی پرواز میں لگ بھگ 10 افراد سوار تھے جن میں بیشتر عملے کے ارکان ہو سکتے ہیں۔

کابل ایئرپورٹ پہنچنے والے مسافروں کو طیارے سے ٹرمینل کی جانب لے جانے کے لیے ایک بس بھی موجود تھی جس پر ‘خوش آمدید افغانستان’ پینٹ کیا گیا تھا۔

ہمارہ ہند کے مطابق نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس کابل ائیرپورٹ کے عملے نے پی آئی اے کی پرواز کے مسافروں کا استقبال کیا۔

کابل ایئرپورٹ کے عملے کا کہنا تھا “یہ بہت بڑا موقع ہے کہ وہ غیر ملکی پرواز کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں جس پر وہ پرجوش ہیں۔”

عملے نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ دیگر ایئرلائنز بھی یہ مناظر دیکھ کر دوبارہ کابل سے اپنی پروازیں شروع کریں گی۔

ہمارہ ہند کے مطابق ، کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے کے عملے نے بتایا کہ تقریبا 100 100 مسافر کابل سے اسلام آباد جانے کے لیے تیار تھے ، ان میں سے بیشتر عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے خاندانوں کے ساتھ تھے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے ویک اینڈ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایئرلائن کابل کے لیے کمرشل پروازیں چلانے کے لیے تیار ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ دونوں ملکوں کے دارالحکومتوں کے درمیان پروازیں کب چلائی جائیں گی۔

یاد رہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور اس دوران ہزاروں افراد کی ایئرپورٹ پر موجودگی کے دوران ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا تھا۔

حال ہی میں قطر اور ترکی کے ماہرین نے کابل ایئرپورٹ کی بحالی کے لیے اپنی خدمات پیش کی تھیں جس کے بعد قطر ایئرویز کی چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے کئی غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کا انخلا کیا گیا تھا۔

افغان ایئرلائن نے بھی تین ستمبر سے ڈومیسٹک سروسز کا آغاز کیا تھا۔ تاہم افغانستان سے غیر ملکی کمرشل فلائٹس کی بحالی طالبان بند و بست کے لیے بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہے۔

Photo Credit : https://english.alaraby.co.uk/sites/default/files/1235226612.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.