‘صدر بائیڈن کی افغان پالیسی میں جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کی واپسی شامل ہے’

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی افغان پالیسی بہت واضح ہے۔ وہ جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کی واپسی چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان پھر سے دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بنے۔ بدھ کے روز امریکی کانگرس میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران بلنکن نے ایوان نمائندگان کی امورخارجہ کی کمیٹی کو بتایا کہ امریکہ نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیزکر دیا ہے۔

ا​انہوں نے کہا امریکہ افغانستان میں امن کے قیام کی خاطر کی جانے والی کوششوں میں اقوام متحدہ اور دوسرے ملکوں سے بھی رابطے کر ر ہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمسایہ ممالک کے افغانستان میں امن سے مفادات وابستہ ہیں اور ان کا افغان پارٹیوں پر اثرورسوخ بھی ہے۔

اس سے قبل ، ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے ، افغانستان اور پاکستان کے لئے سابق امریکی خصوصی ایلچی رچرڈ اولسن نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن لانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

ہمارا ہند کو انٹرویو دیتے ہوئے ، سابق امریکی سفارت کار نے کہا کہ “ماضی میں پاکستان کا افغانستان میں ایک مسئلہ رہا ہے” کیونکہ ان کے بقول ، “پاکستان نے افغان طالبان رہنماؤں کو اپنی سرزمین پر پناہ دی ہے۔” اور عسکریت پسند پاکستان میں سرحد عبور کرتے رہتے ہیں ، جو امریکہ اور افغانستان کے لئے پریشانی کا باعث رہا ہے۔ “

لیکن اولسن نے اس بات کو تسلیم کیا کہ حال ہی میں پاکستان نے افغان امن عمل کی حمایت کر کے ایک “تعمیری کردار” ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے پاکستان کی جانب سے مُلا برادر کو رہا کئے جانے اور طالبان پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کی بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ “میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان مین امن کے قیام کے لیے پاکستان اہم ہو سکتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تمام خطے کو اس امن عمل کی حمایت میں یکجا ہونا ہو گا۔ ہم نے دیکھا کہ طالبان نہ صرف اسلام آباد گئے بلکہ وہ تہران بھی گئے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس دوسرے متبادل بھی موجود ہیں۔ “

واضح رہے کہ روس نے افغان امن عمل سے متعلق مشاورت کے لیے ماسکو میں 18 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو بھی شرکت کی دعوت دے رکھی ہے۔

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘تاس’ نے روس کے نمائندۂ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کے علاوہ امریکہ، چین، افغان حکومت اور طالبان کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

ماسکو میں افغانستان سے متعلق اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حال ہی میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے افغان صدر اشرف غنی کو ایک خط لکھا ہے۔

اس خط میں افغانستان میں قیام امن کے لیے اقوامِ متحدہ کی میزبانی میں بین الاقوامی کانفرس بلانے کے ساتھ ساتھ ترکی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان اجلاس کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ تاکہ افغان امن عمل میں تیزی لائی جا سکے۔

افغانستان میں قیامِ امن اور سیاسی تصیفے کے لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ روس ایک ایسے وقت میں متحرک ہوا ہے جب فروری 2020 کو امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی یکم مئی ڈیڈ لائن میں چند ہفتے ہی باقی ہیں۔

دوسری جانب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ جب کہ کہا جا رہا ہے کہ طالبان تشدد میں کمی اور جنگ بندی پر تیار نہیں ہیں۔

ایسی صورت میں تجزیہ کاروں کے خیال میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا سے سیکیورٹی کی صورتِ حال بگڑ سکتی ہے۔

افغان امور کے پاکستانی ماہر اور تجزیہ کار احمد رشید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ امریکہ کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ کیا واشنگٹن اس مشاورتی اجلاس میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ لیکن ان کے خیال میں امریکہ ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کر سکتا ہے۔

ان کے بقول امریکہ کے نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد متعدد بارے روس کے نمائندۂ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف سے مل چکے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ روس میں مشاورتی اجلاس میں کون کون شریک ہوتا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ کے افغان صدر کو ارسال کے گئے خط کے بارے میں احمد رشید نے اسے امریکہ کی افغانستان میں قیامِ امن کے لیے آخری کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوشش کئی لحاظ سے اہم ہے۔

احمد رشید کے مطابق ایسا نظر آتا ہے کہ اب امریکہ اقوامِ متحدہ کی قیادت میں افغانستان میں ثالثی کا عمل شروع کرانے کو تیار ہے۔ ایسی صورت میں چین، روس، پاکستان، ایران اور بھارت بھی افغانستان میں قیامِ امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر تیار ہو جائیں گے جن کو امریکہ نے افغانستان سے متعلق اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

احمد رشید کا کہنا ہے کہ افغان امن عمل کی کوششوں میں چین اور ایران کو شامل کرنا بھی اہم ہے۔ کیوں کہ ماضی میں بعض وجوہات کے باعث ایران امریکہ کی قیادت میں ہونے والے افغان امن کوششوں سے دور رہا ہے۔

احمد رشید مزید کہتے ہیں کہ امریکہ نے صدر اشرف غنی اور طالبان پر بھی زور دیا ہے کہ جلد از جلد امن مذاکرات شروع کریں اور یہ بات چیت ترکی میں ہو گی۔ ان کے بقول امریکہ کی یہ خواہش ہو سکتی ہے کہ یہ بات چیت بھی اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہو۔ جب کہ علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں اس عمل کی حمایت کریں۔

رواں ماہ ماسکو میں افغانستان کے بارے میں ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس کے لیے روس نے امریکہ، چین، افغان حکومت اور طالبان کو شرکت کی دعوت دی ہے۔

پاکستان نے امریکہ کی افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں بھارت کی شمولیت پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ لیکن تجزیہ کار احمد رشید کے خیال میں پاکستان کو شاید بھارت کے افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں شامل کرنے کے بارے میں تحفظات ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس پر کوئی اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے خیال میں یہ بہت اچھا موقع ہو سکتا ہے جب افغانستان سے متعلق کانفرنس میں پاکستان اور بھارت ایک ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ تو شاید دونوں ممالک کے درمیان بھی مذاکرات اور رابطے شروع ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کی طرف پیش رفت کر سکتے ہیں۔

Photo Credit : https://assets.bwbx.io/images/users/iqjWHBFdfxIU/iHTGHqwQbygU/v1/-1x-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: