شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کی امریکہ سے متعلق نئی حکمتِ عملی کیا ہو گی؟

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنی حکومت کو بائیڈن انتظامیہ سے مذاکرات اور مقابلے کے لیے تیار رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جمعرات سے شمالی کوریا کی حکمران جماعت کا اجلاس جاری ہے جس میں کم جونگ ان نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پالیسی کا جائزہ لیا ہے اور امریکہ سے تعلقات کے بارے میں اقدامات کی وضاحت کی ہے۔ تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔

کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان نے حکام کو امریکہ سے مذاکرات اور محاذ آرائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جب کہ محاذ آرائی کی تیاری پر زیادہ زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب گزشتہ دنوں امریکہ نے شمالی کوریا پر جوہری پروگرام سے دست بردار ہونے اور بات چیت کی جانب واپس آنے کے لیے زور دیا تھا۔

بعض مبصرین کے مطابق کم جونگ نے اپنے بیان میں یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنے جوہری ہتھیاروں پر کام جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل 2018 اور 2019 میں امریکہ کے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں پر بات چیت کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ لیکن کم جونگ ان نے جوہری صلاحیت سے جزوی طور پر دست بردار ہونے کے لیے پابندیوں میں بڑے پیمانے پر نرمی کے مطالبات کیے تھے۔ جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کردیا تھا اور مذاکرات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔

صدر بائیڈن کی حکومت شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق نئے زاویے سے پالیسی ترتیب دے رہی ہے اور اسے ’متوازن اور عملی‘ پالیسی قرار دیتی ہے۔ لیکن تاحال شمالی کوریا سے متعلق صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی حکمتِ عملی کے خدوخال سامنے نہیں آئے ہیں۔

بائیڈن درمیان کا راستہ نکالیں گے

امریکی حکام کے نزدیک صدر جو بائیڈن کم جونگ ان کو جوہری پروگرام سے باز رکھنے کے لیے اپنے پیشرو ٹرمپ کی طرح براہِ راست ملاقات اور اس سے قبل صدر اوباما کی جانب سے ’اسٹرٹیجک پیشنز‘ کی حکمتِ عملی کے درمیان کی راہ نکالنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے دنیا کے سات ترقی یافتہ ممالک کے جی-سیون گروپ کے اجلاس میں بھی شمالی کوریا سے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ شمالی کوریا پر اپنے جوہری میزائل پروگرام سے ’ناقابلِ تجدید اور ناقابلِ واپسی‘ دست برداری پر بھی زور دیا گیا تھا۔ جی-سیون ممالک نے شمالی کوریا سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کا بھی کہا تھا۔

سہ فریقی اجلاس

شمالی کوریا پر امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار سنگ کم ہفتے کو جنوبی کوریا اور جاپانی حکام کے ساتھ ہونے والے ایک سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے سول جائیں گے۔

امریکہ کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دورہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل دست بردار کرنے کے لیے سہ طرفہ تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

خیال رہے کہ کم جونگ ان نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ اگر واشنگٹن نے شمالی کوریا سے متعلق اپنی مخاصمانہ پالیسیاں ترک نہیں کیں تو وہ اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کریں گے اور ان میں امریکہ کی سر زمین کو ہدف بنانے کے لیے مزید جدید ہتھیار بنائیں گے۔

رواں سال مارچ میں شمالی کوریا کی فوج نے کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا اس سال کا پہلا تجربہ کیا تھا۔ لیکن کم جونگ ان نے دور تک مار کرنے والے میزائل اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفارت کاری کے امکانات باقی رکھنا چاہتے ہیں۔

کم جونگ ان کو جلدی نہیں

شمالی کوریا سے متعلق امور پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ون کوریا سینٹر‘ کے سربراہ کواک گل سپ نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ کم جونگ ان کے حالیہ بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بیک وقت فوجی قوت میں اضافے اور بات چیت دو طرفہ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق کم جونگ ان جلد بازی میں مذاکرات کی طرف پلٹنے کے بجائے فوجی قوت بڑھانے پر زیادہ توجہ دیں گے اور امریکہ سے پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ بھی جاری رکھیں گے۔

گزشہ ہفتے کم جونگ ان نے فوج کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی تھی۔

جنوبی کوریا کے ایک نجی ادارے ’سیجونگ انسٹی ٹیوٹ‘ سے منسلک تجزیہ کار چیونگ سیونگ چینگ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا مذاکرات کی جانب تو آ سکتا ہے لیکن وہ فوری طور پر جوہری پروگرام سے دست بردار نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق اگر بائیڈن انتظامیہ پابندیوں میں نرمی اور جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں معطل کرتی ہے تو شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام کو منجمد کرنے اور جوہری ہتھیاروں میں جزوی کمی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیانگ نے بھی اپنے ایک بیان میں شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کے نئے دور کا آغاز ہوتے دیکھ رہا ہے۔

شمالی کوریا میں حکمران جماعت ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس جاری ہیں جس کا آغاز کم جونگ ان نے کیا تھا۔

اجلاس میں کم جونگ ان نے حکام سے ملک میں خوراک کی قلت کے پیشِ نظر زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے ملک پر کرونا وائرس سے متعلق پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے بھی زور دیا تھا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وبا کے باعث معاشی دباؤ کے باوجود شمالی کوریا اپنی سرحدوں کی بندش برقرار رکھے گا۔

Photo Credit : https://ak.picdn.net/shutterstock/videos/1010552243/thumb/1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.