شمالی کوریا کا دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ


شمالی کوریا نے جمعرات کے روز بظاہر کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے ۔ بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

گزشتہ ایک برس کے دوران، شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا بیلسٹک میزائل کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ تاہم حال ہی میں اس نے چھوٹے میزائلوں کے تجربات بھی کئے ہیں۔

جاپان کے وزیر اعظم، یوشی ہیدے سوگا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے داغے گئے میزائل جاپان کی سمندری حدود سے دور آ کر گرے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبہ ہیم جیونگ سے داغے گئے دونوں میزائلوں نے ساٹھ کلو میٹر کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے چار سو پچاس کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔

وائس آف امریکہ کے ولیم گالو کی رپورٹ کے مطابق یو ایس انڈو پیسیفک کمانڈ کے پبلک افیئرز آفیسر کیپٹن مائیک کافکا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عہدیداروں کو میزائل تجربات کا علم ہے اور صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

اپنے بیان میں کیپٹن کافکا کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی شمالی کوریا کی جانب سے غیر قانونی ہتھیاروں کے پروگرام سے ہمسایہ ملکوں اور بین الاقوامی برادری کو لاحق خطرات کو ظاہر کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، اپنے اتحادیوں جنوبی کوریا اور جاپان کے دفاع کیلئے پورے عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔

گزشتہ اتوار کو شمالی کوریا نے اپنی مغربی ساحل سے دو کروز میزائل داغنے کا تجربہ کیا تھا۔

امریکی عہدیداروں نے اُن تجربات کو یہ کہتے ہوئے کوئی اہمیت نہیں دی کہ یہ شمالی کوریا کی فوجی مشقوں کے معمول کا تجربہ تھا۔

کروز میزائل بالعموم کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں، اور بیلسٹک میزائلوں کی نسبت کم فاصلے تک مار کرتے ہیں۔

یہ تجربات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب بائیڈن انتظامیہ شمالی کوریا سے متعلق اپنی پالیسی کی تشکیل کے آخری مراحل میں ہے، اور اس نے بارہا شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطوں کی بحالی کے متعلق بات بھی کی ہے۔

تاہم شمالی کوریا نے یہ کہتےہوئے بات چیت کی اس پیشکش کو مسترد کیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی ‘جارحانہ پالیسی’ سے پیچھے نہیں ہٹے گا، اس وقت تک اسے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ شمالی کو ریا کا اشارہ واضح طور پر پابندیوں، فوجی مشقوں اور جزیرہ نما کوریا میں جاری دیگر امریکی سرگرمیوں کی طرف تھا۔

شمالی کوریا نے گزشتہ ایک سال سے امریکہ کےساتھ بات چیت کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے، اور بظاہر امریکہ پر دباؤ بڑھانے کا پورا ارادہ کئے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرار دادوں کے ذریعے شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے پر پابندی عائد رکر رکھی ہے۔

متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں توقع تھی کہ بائیڈن انتظامیہ کی مدت شروع ہوتے ہی شمالی کوریا اپنے تجربات کا دوبارہ آغاز کرے گا، کیونکہ وہ پہلے بھی دیگر انتظامیہ کے شروع کے دنوں میں ایسا ہی کر چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو اس کے جوہری پروگرام سے باز رکھنے کیلئے سفارتی راستے اور پابندیاں عائد کرنے والے راستے دونوں پر غور کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے، شمالی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ایک سینئر عہدیدار نے امریکہ سے بات چیت کو ‘وقت کا زیاں’ قرار دیا تھا۔ اس نے دھمکی دی کہ وہ ‘کسی پابندی کے جواب میں فوری ردِ عمل’ ظاہر کرے گا۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے گزشتہ سال جنوری میں کہا تھا کہ انہیں اب طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں اور ایٹمی تجربات نہ کرنے کے لئے عائد کی گئی خودساختہ پابندی پر قائم رہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ پیانگ یانگ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سفارت کاری کی کوششوں سے قبل۔ 2017 کے بعد،کسی بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ نہیں کیا۔

Photo Credit : https://img.i-scmp.com/cdn-cgi/image/fit=contain,width=1098,format=auto/sites/default/files/styles/1200×800/public/d8/images/canvas/2021/03/25/c869b4de-e443-4798-99e5-1c3a50b8ce93_2c67e4e2.jpg?itok=PyW_ZkrB&v=1616657760

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: