شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟


افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ رواں ہفتے میں تین دن مسلسل نامعلوم عسکریت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جس میں چار اہلکار ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان حملوں میں تین اہلکاروں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے جوابی کارروائی میں ایک اہم کمانڈر سمیت دو مبینہ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کے جوابی کارروائی میں ہلاک ہونے والے مبینہ عسکریت پسند کمانڈر کا نام زرجمیل عرف ثاقب بتایا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر جمعے کو بھی حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ جمعے کی صبح میر علی کے علاقے عزیز خیل میں پیش آیا۔ جہاں پر ٹوچی اسکاؤٹس کے ایک اہلکار کو پہلے سے تاک میں بیٹھے نامعلوم عسکریت پسندوں نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔

حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ جب کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے غیر اعلانیہ کرفیو جیسی صورتِ حال نافذ کر دی گئی ہے۔


شمالی وزیرستان کے انتظامی حکام کے مطابق منگل کو بھی نامعلوم عسکریت پسندوں نے میر علی کے قریب سیکیورٹی فورسز کے ایک دستے پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔

حکام کے مطابق اس حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

دوسرا واقعہ بدھ کو تحصیل اسپین وام میں پیش آیا تھا۔ جہاں پر سرچ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ اس جھڑپ میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کا مبینہ عسکریت پسندوں سے تیسری بار سامنا بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہوا تھا۔ جب تحصیل دتہ خیل میں سیکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ خفیہ اطلاع پر چھاپہ مارا تھا۔

اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور مبینہ عسکریت پسندوں میں جھڑپ شروع ہوئی۔ جھڑپ کے دوران فائرنگ کی زد میں آ کر ایک اہلکار ہلاک جب کہ چار زخمی ہوئے تھے۔

سیکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کے دوران دو عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

کیا خفیہ اداروں میں ہم آہنگی نہیں ہے؟

پاکستان کے قبائلی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار ڈاکٹر خادم حسین نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے واقعات اور فورسز پر حملوں میں اضافے کو اس علاقے میں طالبان کے دوبارہ سرگرم ہونے کا نتیجہ قرار دیا۔

ایسے واقعات کو روکنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات اور حملے خفیہ اداروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر خادم حسین نے کہا کہ حال ہی میں کالعدم شدت تنظیموں نے اتحاد کر کے مشترکہ مسلح مزاحمت شروع کی ہے۔ ان تنظیموں سے وابستہ جنگجو ایک بار پھر متحرک ہوئے ہیں۔

ان کے بقول ان عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے خفیہ اداروں اور سیکیورٹی فورسز میں ہم آہنگی کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں پر تشدد کارروائیاں اور فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔


شمالی وزیرستان کے دور افتادہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو رسائی حاصل نہیں۔ لہذٰا ان جھڑپوں کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباََ نا ممکن ہے۔

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے شمالی وزیرستان میں گزشتہ تین برس سے سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر نامعلوم عسکریت پسندوں کے حملے تواتر سے ہو رہے ہیں۔

دسمبر کے آخری ہفتے میں ایپی گاؤں میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا تھا جس کے بعد چار مقامی قبائلی افراد کو گھر گھر تلاشی کے دوران مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق ان چاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ان افراد کی گرفتاری کے خلاف مقامی قبائل گزشتہ چھ دن سے احتجاج کر رہے ہیں۔

احتجاج کی قیادت کرنے والے عادل داوڑ نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ گرفتار ہونے والے افراد بے گناہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ان کے گاؤں کے آنے والی شاہراہوں سے سیکیورٹی چیک پوسٹس بھی فوری طور پر ختم کی جائیں۔

سرکاری طور پر ان قبائل کے احتجاج کے بارے میں کسی قسم کا بیان یا ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

Photo Credit : https://www.google.com/search?q=Attacks%20on%20security%20forces%20increase%20in%20North%20Waziristan&tbm=isch&hl=en&safe=active&tbs=il:ol&rlz=1C1CHZL_enIN761IN762&sa=X&ved=0CAAQ1vwEahcKEwjY5d-u2p_uAhUAAAAAHQAAAAAQAg&biw=1349&bih=625#imgrc=FyrmfGliC6KSlM

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: