شام اور عراق میں داعش نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا

دہشت گرد گروپ داعش، شام اور عراق میں سیکیورٹی میں پائی جانے والی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، بظاہر اپنی فورسز کی پوزیشن میں تبدیلیاں لا کر تشدد کو ہوا دے رہا ہے جس سے اس کے جنگجووں اور حامیوں کو تقویت مل رہی ہے۔

شام کے شمال مشرقی شام میں امریکی حمایت یافتہ فورسز کے عہدیداروں نے حمارا ہند کو بتایا کہ حالیہ کیمپ میں سرکاری عہدیداروں اور بے گھر افراد کے لئے ہول کیمپ میں پھانسی سمیت ، شام کے صدر بشار الاسد کے مقبوضہ علاقوں اور عراق کے جنگجوؤں سے بظاہر منسلک خطے میں تشدد میں حالیہ اضافے۔ .

علاقے میں موجود امریکی شراکت داروں کے جائزے اور حالیہ مہینوں میں امریکہ کی تفتیش دونوں،مماثلت رکھتے ہیں۔ ان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ داعش عسکریت پسندوں کو شام کے زیادہ تر علاقے میں نقل و حمل کی آزادی حاصل ہے۔

امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے کمانڈر انچیف مظلوم عابدی نے حمارا ہند کو بتایا کہ داعش ختم نہیں ہوئی ہے۔

ایس ڈی ایف نے داعش کے جنگووں کی تلاش اور انہیں ختم کرنے کیلئے اپنی ایک مہم شروع کی ہوئی ہے، جس کیلئے وہ امریکہ کی قیادت والی اتحادی فورسز سے فضائی اور انٹیلی جنس مدد لیتے ہیں۔

عابدی نے حمارا ہند کو بتایا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بہت ساری گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

عابدی نے بتایا کہ ایس ڈی ایف کی صف میں شامل مشرقی اور شمالی شام میں کام کرنے والی خودمختار انتظامیہ کیلئے کام کرنے والی دو خواتین کا سر قلم کرنے میں ملوث داعش کے ایک سیل کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔ ایس ڈی ایف نے مبینہ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا اور پانچویں کو گرفتار کر لیا، جب کہ چھٹا شخص فرار ہونے میں کامیاب رہا۔

عابدی نے خبردار کیا ہے کہ ایس ڈی ایف کی حالیہ کامیابیاں بھی، داعش کی حوصلہ شکنی کیلئے کافی نہیں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش نے اپنے حملوں میں شدت پیدا کی ہے اور یہ دہشت گرد تنظیم اپنے آپ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Photo Credit : https://api.time.com/wp-content/uploads/2020/04/ISIS-coronavirus.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: