سیکیورٹی اہل کار مظاہرین کو امریکی کانگریس کی عمارت میں داخلے سے کیوں روک نہ سکے؟

سیکیورٹی اہل کار مظاہرین کو امریکی کانگریس کی عمارت میں داخلے سے کیوں روک نہ سکے؟

یو ایس کیپیٹل پولیس کے سبکدوش ہونے والے پولیس چیف نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے مظاہرین کی کانگریس کی عمارت پر چڑھائی سے پہلے انہوں نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے سیکیورٹی حکام سے ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے نیشنل گارڈز کی طلبی کی درخواست کی تھی لیکن اس تجویز کو رد کر دیا گیا۔

پولیس چیف اسٹیون سنڈ نے اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کو بتایا کہ نیشنل گارڈ کی مدد سے حملہ آوروں کو زیادہ دیر تک روکا جا سکتا تھا اور اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزید نفری آ سکتی تھی۔

حمارا ہند نے بتایا ہے کہ سندھ پولیس چیف نے آرمس مائیکل اسٹینجر کے سینیٹ سارجنٹ کو تجویز پیش کی کہ وہ نیشنل گارڈ سے کہیں کہ ضرورت کی صورت میں اپنا عملہ تیار کریں۔

لیکن اُن کے بقول ایوانِ نمائندگان کے سارجنٹ ایٹ آرمز پال ارونگ نے کہا کہ اُنہیں یہ پریشانی ہے کہ صد ٹرمپ کے حامیوں کے احتجاج سے پہلے ایسا کرنے کو ایمرجنسی کے اعلان کے طور پر دیکھا جائے گا۔

اخبار ‘دی واشنگٹن پوسٹ’ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے سینیٹ کے سیکیورٹی افسر اسٹنگر نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ ایوانِ نمائندگان کے سیکیورٹی افسر ارونگ سے ان کا رابطہ نہیں ہو سکا۔

وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یو ایس کیپیٹل پولیس نے پینٹاگون سے کانگریس پر حملے سے قبل نیشنل گارڈ کی مدد کے لیے درخواست نہیں کی تھی۔

یاد رہے کہ بدھ کو صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے اور ہنگامہ آرائی میں ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔

ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتجاج سے پہلے یو ایس کیپیٹل پولیس نے صدر ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے اس ہنگامہ آرائی کے واقع سے قبل پولیس کی مزید نفری تعینات کرنے کی کوئی تیاری نہیں کی تھی۔

حمارا ہند نے بتایا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں نے آسانی سے کیپٹل پولیس اہلکاروں کی ایک محدود تعداد میں پابندیوں کو مات دے دی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس اس دن اس ضروری ساز و سامان سے لیس نہیں تھی جو کہ ہنگامہ آرائی کی صورتِ حال سے نمٹنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب احتجاج میں شامل لوگوں نے کیپٹل ہل کی عمارت پر ہلہ بولنا شروع کیا تو ایک پولیس لیفٹیننٹ نے گولی نہ چلانے کی ہدایت کی۔ یہ امر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ عمارت کے باہر تعینات پولیس افسروں نے حملہ آور ہجوم کے خلاف اسلحہ کیوں استعمال نہیں کیا۔

بعض اوقات پولیس کو ان کے افسروں کی طرف سے ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ حالات کے بگڑنے کے خطرے کے پیشِ نظر اسلحہ استعمال نہ کریں کیوں کہ ہو سکتا ہے اس سے بھگدڑ مچ جائے یا گولیاں برسنے لگیں۔

Photo Credit : https://d279m997dpfwgl.cloudfront.net/wp/2021/01/GettyImages-1230461227-1000×717.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: