سینیٹ کے انتخابات 3 مارچ کو ہونے والے ہیں ، لیکن یہ طریقہ ابھی تک حل طلب نہیں ہے: پاکستان

سینیٹ کے انتخابات 3 مارچ کو ہونے والے ہیں ، لیکن یہ طریقہ ابھی تک حل طلب نہیں ہے: پاکستان


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات 2021 کے لیے شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے تین مارچ کو پولنگ ہو گی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کے معاملے پر سماعت جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہو قانون سازی ہونا بہت مشکل ہے۔ حکومت کی واحد امید سپریم کورٹ ہی ہے جہاں سے فیصلہ حق میں آنے پر اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخاب ممکن ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ شیڈول کے مطابق امیدوار 12 اور 13 فروری تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے جس کے بعد امیدواروں کی ابتدائی فہرست 14 فروری کو جاری کی جائے گی۔

شیڈول کے تحت امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 15 اور 16 فروری کو ہو گی جب کہ امیدواروں کے کاغذات پر اعتراضات 19 اور 20 فروری کو نمٹائے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن نے الیکشن کے لیے ریٹرننگ افسران کے ناموں کا اعلان بھی کیا ہے۔ اسلام آباد کے لیے اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ ظفر اقبال حسین، پنجاب کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر غلام اسرار خان، سندھ کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز انور چوہان، خیبرپختونخوا کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر شریف اللہ جب کہ بلوچستان کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر محمد رازق ریٹرننگ افسر ہوں گے۔

الیکشن کمیشن امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 21 فروری کو جاری کرے گا جب کہ سینیٹ انتخابات سے دست بردار ہونے کے لیے امیدوار 22 فروری تک کاغذات واپس لے سکیں گے۔

رواں سال 11مارچ کو 52 سینیٹرز اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے۔ لہذٰارواں برس سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ پنجاب اور سندھ میں 11، 11، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 12، 12 اور اسلام آباد کی دو نشستوں پر پولنگ ہو گی۔


یہ انتخابات متناسب نمائندگی اور سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔

سینیٹ انتخاب کے لیے سیکرٹ یا اوپن ووٹنگ کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ریفرنس کے فیصلے کے بعد ہو گا۔

سیاسی جماعتوں کی تیاریاں

سینیٹ انتخاب کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں نے امیدواروں کے انتخاب کے لیے تیاریاں شروع کر رکھی ہیں اور جلد امیدواروں کے ناموں کا اعلان متوقع ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 11 رکنی پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا تھا جس میں شاہ محمود قریشی کا نام آخری لمحات میں شامل کیا گیا۔ اس بورڈ کی سربراہی وزیرِ اعظم عمران خان کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی نے امیدواروں سے درخواستیں طلب نہیں کیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان اس حوالے سے کمیٹی کی طرف سے دیے گئے ناموں پر خود فیصلہ کریں گے۔

حکومتی جماعت ہونے اور مختلف اسمبلیوں میں بہتر پوزیشن ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی امیدواروں کی ایک بڑی تعداد اپنی قیادت کی طرف ٹکٹ کے حصول کی امید لگائے بیٹھی ہے۔


دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی آٹھ فروری تک ایک لاکھ روپے کے بینک ڈرافٹ کے ساتھ امیدواروں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔

سینیٹ انتخابات کے شیڈول کے بعد پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان جمعے تک متوقع ہے۔

پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی حتمی طور پر بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔ تاہم ان ناموں کو حتمی شکل آصف علی زرداری دیں گے۔

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا ہے جس میں پارٹی صدر شہباز شریف امیدواروں کا فیصلہ کریں گے لیکن یہاں بھی امکان ہے کہ جن ناموں کی منظوری پارٹی کے بانی نواز شریف دیں گے انہیں ہی ٹکٹ جاری کیے جائیں گے۔

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن

حالیہ ایوان میں اس وقت ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں سب سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر شامل ہیں جن کی تعداد 17 ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے آٹھ، تحریک انصاف کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی کے تین، جے یوآئی (ف) کے دو اور ایم کیو ایم کے چار سینیٹر ہیں۔

نئے ایوان میں پی ٹی آئی کو 20 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کو چھ، مسلم لیگ (ن) کو پانچ اور بلوچستان عوامی پارٹی کو چھ نشستیں مل سکتی ہیں۔ تاہم اس بارے میں حتمی طور پر انتخاب کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا۔

ترقیاتی فنڈز کا معاملہ نمٹ گیا

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری ترقیاتی فنڈ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وزیرِاعظم عمران خان کی طرف سے بھجوائے جانے والے خط میں ترقیاتی فنڈ سے متعلق ان سے منسوب بیان کی تردید کو تسلیم کر لیا اور معاملہ نمٹا دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے وزیرِاعظم سے جواب مانگنے پر اعتراض کیا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ جو اعتراض آج کر رہے ہیں وہ کل کیوں نہیں کیا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئینی سوال کسی بھی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے، کسی رکن اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہیں دیے جا سکتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ کل مجھے واٹس ایپ پر کسی نے کچھ دستاویزات بھیجی ہیں۔ حلقہ این اے 65 میں حکومتی اتحادی کو بھاری بھرکم فنڈز جاری کیے گئے ہیں، کیا سڑک کی تعمیر کے لیے مخصوص حلقوں کو فنڈز دیے جا سکتے ہیں؟ کیا حلقے میں سڑک کے لیے فنڈز دینا قانون کے مطابق ہے۔ ہم دشمن نہیں عوام کے پیسے اور آئین کے محافظ ہیں۔ امید ہے آپ بھی چاہیں گے کہ کرپشن پر مبنی اقدامات نہ ہوں۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وٹس ایپ والی دستاویزات آپ کی شکایت ہے۔ جائزہ لیں گے۔ اس پر جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ مجھے شکایت کنندہ نہ کہیں میں صرف نشان دہی کر رہا ہوں۔ آپ نے شاید میری بات ہی نہیں سنی۔ کیا وزیرِاعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پانچ سال کی مدت کم ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ اس میں توسیع کے لیے اسمبلی سے رجوع کریں۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وزیرِاعظم کا جواب تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم کے خلاف اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کا کیس نمٹا دیا۔

صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری

ایک طرف سینیٹ انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے جب کہ دوسری جناب سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے حوالے سے صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران بلدیاتی اور دیگر انتخابات کروانے کے حوالے سے مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتحابات پر صوبائی قوانین اور الیکشن ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔ بلدیاتی انتحابات الیکشن ایکٹ پر کرائے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سینٹ کے گزشتہ انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہوئے تھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ خفیہ رائے شماری انتخابی قوانین کی شق 122 کے تحت ہوئی تھی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون سازی کرنے والوں نے خفیہ رائے شماری کی شق شامل کی تھی۔ قانون سازوں کی مرضی خفیہ ووٹنگ برقرار رکھیں یا نہ رکھیں۔

سینیٹ انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد اس حوالے سے قانون سازی کے امکانات ختم ہوتے جا رہے ہیں اور امکان ہے کہ اب سینیٹ انتخابات کے لیے نئی قانون سازی نہیں ہو سکے گی۔

حکومت کے پاس اوپن بیلٹ سے انتخاب کروانے کا صرف ایک آپشن سپریم کورٹ میں دائر ریفرنس ہے جہاں سے فیصلہ حق میں آنے کی صورت میں حکومت نے پہلے ہی آرڈیننس جاری کر رکھا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد حکومت اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخاب کروا سکے گی۔ بصورتِ دیگر ماضی کی طرح سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہی الیکشن ہو گا۔

Photo Credit : https://i.dawn.com/large/2014/10/5451a9f111eab.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: