سوڈان کے بھی اسرائیل سے تعلقات بحال، معاہدۂ ابراہیم میں شامل

سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے پر اتفاق کرتے ہوئے معاہدۂ ابراہیم پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں۔



دستخطوں کی یہ تقریب بدھ کو خرطوم میں امریکی سفارت خانے میں ہوئی۔

امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسٹیون منچن نے واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے جب کہ سوڈان کے وزیرِ انصاف نصر الدین عبدالباری نے خرطوم کی طرف سے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

دستخطوں کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نصر الدین عبد الباری نے کہا کہ سوڈان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا خیر مقدم کرتا ہے اور ان تعلقات کو اپنے اور خطے کے مفاد میں پروان چڑھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خرطوم امریکی وزیرِ خزانہ کے اس تاریخی دورے کا بھی خیر مقدم کرتا ہے اور پُر امید ہے کہ یہ دورہ سوڈان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔

امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسٹیون منچن نے بھی اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ معاہدہ ابراہیم پر دستخط سے اسرائیل اور سوڈان کے عوام کی زندگیوں پر شاندار اثرات مرتب ہوں گے۔ جب کہ وہ ثقافتی اور اقتصادی مواقع کے لیے مل کر کام کریں گے۔

یاد رہے کہ معاہدۂ ابراہیم، امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بحرین اور اب سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ عشروں سے خراب تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا ہے۔

سوڈان اس معاہدے پر دستخط کے لیے اس لیے راضی ہوا۔ تاکہ امریکہ اس کے بدلے میں اسے دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے خارج کرے۔ سوڈان کی یہ حیثیت اسے بین الاقوامی قرضوں کے حصول سے دور رکھتی ہے۔

دسمبر 2020 کے اختتام پر امریکہ نے سوڈان کو اس فہرست سے نکال دیا تھا اور خرطوم کو ایک ارب ڈالر کا قرض دینے پر اتفاق کیا تھا تاکہ وہ عالمی بینک کے واجبات واپس کر سکے۔

سوڈان کے ماہر اقتصادیات ولید النور کہتے ہیں کہ سوڈان کو معیشت کو بہتر کرنے کے لیے اسی کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سوڈان کو معاہدۂ ابراہیم پر دستخطوں اور امریکہ کے قرض کا فائدہ ہو گا۔ کیوں کہ اس سے خرطوم کو بین الاقوامی بینکاری نظام میں شامل ہونے اور ریاستی قرضوں سے چھٹکارے کا موقع ملے گا۔

ان کے بقول اس معاہدے کے بعد سوڈان ہر سال عالمی بینک سے 1.5 ارب ڈالرز کا قرضہ بھی حاصل کر سکے گا۔ یہ رقم ان کے مطابق بوجھ تلے دبی سوڈان کی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔

سوڈان کو اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر رہنماؤں کو پناہ دینے کے الزام پر 1990 میں امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی مرتب کردہ دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

Photo Credit : https://9c998969b63acdb676d1-37595348221e1b716e1a6cfee3ed7891.ssl.cf1.rackcdn.com/almpics/2021/01/GettyImages-1229247749.jpg/GettyImages-1229247749-1600.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: