سوڈان سے سعودی عرب 15 ہزار بھیڑیں لے جانے والا جہاز غرق

خبریں

سوڈان سے سعودی عرب بھیڑیں لے جانے والا بحری جہاز اوور لوڈنگ کے سبب بندرگاہ پر ڈوب گیا جس سے ہزاروں بھیڑیں ہلاک ہو گئیں البتہ جہاز کا عملہ محفوظ رہا۔

اتوار کی صبح بحیرہ احمر میں سوڈان کی ایک بندرگاہ سواکن پر بحری جہاز استعداد سے زیادہ وزن کے سبب پانی میں ایک جانب جھک گیا تھا۔ بعد ازاں وہ پورا پانی میں ڈوب گیا۔ جہاز پر لدی ہوئی بھیڑوں میں سے کچھ کو ہی بچایا جا سکا۔

ڈوبنے والے جہاز میں لادی گئی بھیڑیں سعودی عرب لے جائی جا رہی تھی جہاں آئندہ ماہ عید الاضحیٰ پر ان بھیڑوں کو ممکنہ طور پر قربانی کے لیے ذبح کیا جانا تھا۔ عید سے قبل متعدد افریقی ممالک قربانی کے جانوروں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب کو برآمد کرتے ہیں۔

سوڈان کی بندر گاہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بندرگاہ پر لنگر انداز ڈوبنے والا جہاز بدر۔ون تھا جسے مویشیوں کی تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس جہاز کے ڈوبنے کا واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا۔

جہاز پر لدے جانوروں کی تعداد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس پر لگ بھگ 15 ہزار 800 بھیڑیں لادی گئی تھیں۔

یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ جہاز پر موجود کتنی بھیڑوں کو بچایا جا سکا ہے۔

حکام کے مطابق جہاز کی استعداد نو ہزار بھیڑیوں کی تھی لیکن اس میں اس کی استعداد سے زیادہ جانور لاد دیے گئے تھے جس کے سبب جہاز کا توازن برقرار نہیں رہ سکا تھا۔

بندر گاہ کے ایک اور اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جہاز کا تمام عملہ اس واقعے میں محفوظ رہا ہے۔ عملے کو جہاز سے نکال لیا گیا تھا۔

انہوں نے اس واقعے سے معاشی مشکلات بڑھنے اور آب و ہوا پر منفی اثرات پڑنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بندرگاہ پر جہاز ڈوبنے سے اس پورٹ کے آپریشنز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاز میں موجود اتنی بڑی تعداد میں بھیڑوں کی ساحل پر ہلاکت سے ماحولیات پر اثر لازمی ہوگا۔

سوڈان کی نیشنل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عمر ال خلیفہ کا کہنا تھا کہ سواکن کی بندر گاہ پر جہاز کو ڈوبنے میں کئی گھنٹے لگے۔ اس دوران موقع موجود تھا کہ جہاز پر لدے جانوروں کو اتارا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے لائیو اسٹاک ڈویژن کے سربراہ صالح سلیم نے دعویٰ کیا کہ جہاز پر لگ بھگ 40 لاکھ ڈالرز مالیت کے جانور لدے ہوئے تھے۔

صالح سلیم نے جہاز کے ڈوبنے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیاہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایک اور واقعہ میں سوڈان کی سواکن بندرگاہ پر آگ لگ گئی تھی، جس نے بعد میں شدت اختیار کرلی تھی اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تھا۔ آتش زدگی کی وجوہات بھی اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔

اس آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کا بھی آغاز کیا گیا تھا لیکن اس حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات سامنے نہیں آ سکیں ہیں کہ تحقیقات میں کیا نتائج اخذ کیے گئے۔

سواکن کی قدیم بندرگاہ اب سوڈان کا مرکزی تجارتی مقام نہیں رہا اور اب یہ مقام اس ساحلی علاقے سے 60 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک اور ساحلی شہر پورٹ سوڈان کو حاصل ہو گیا ہے۔ بحیرہ احمر کے کنارے اس شہر کی بندرگاہ اب ملک کی مرکزی بندرگاہ ہے۔

سواکن کی بندرگاہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس حوالے سے ترکی نے سوڈان کی معاونت کے لیے 2017 میں حکومت سے معاہدہ کیا تھا تاہم 2019 میں حکومت کے خاتمے کے بعد اس منصوبے پر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

سوڈان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے جب کہ ان مشکلات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب آرمی چیف عبد الفتح البرہان کی سربراہی میں فوج نے بغاوت کرکے حکومت پر قبضہ کیا۔

فوج کے اقتدار پر قابض ہونے کے سبب مغربی ممالک نے سوڈان کو فراہم کی جانے والی مالی امداد معطل کر دی۔ مغربی ممالک نے سوڈان سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کے خاتمے کے بعد ایک عبوری حکومت قائم کرے جو بعد میں عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومت منتقل کر سکے۔

تصویر کریڈٹ : https://static.independent.co.uk/2022/06/12/20/SEI109384163.jpeg?width=1200