سول بیوروکریسی میں اصلاحات: کیا پاکستان میں طرزِ حکمرانی بہتر ہو گی؟

وزیرِ اعظم عمران خان نے رواں ماہ 22 ستمبر کو ایک طرف تو تمام وفاقی وزرا کے ساتھ انہیں سونپی گئی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تو دوسری جانب یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ وفاقی حکومت نے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز درجنوں افسران کو کارکردگی بہتر نہ ہونے کی بنا پر شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ایسے افسران کو قابل اطمینان جواب نہ دینے پر جبری ریٹائرمنٹ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت یہ قدم ‘سول سرونٹس رولز’ میں کی گئی ترامیم کی روشنی میں اٹھا رہی ہے جو گزشتہ سال ہی منظور کی گئی ہیں۔

وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کی مشقیں اس سے قبل 2019 اور 2020 میں بھی محدود پیمانے پر آزمائشی بنیادوں پر کی جا چکی ہیں۔

اس معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کے تمام ڈویژنز کو دو سال کے اقدامات دیے گئے ہیں۔

ان میں سے 426 اقدامات جون 2022 تک، 488 اقدامات جون 2023 اور بقایا 176 اقدامات دو سال سے زائد کے عرصے میں مکمل کیے جانے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کو طے کرنے کے بعد ان کا سہہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کس وزارت کی کارکردگی بہتر اور کس کی خراب رہی ہے۔

اس کے علاوہ تمام وزارتوں میں 1300 سے زائد اصلاحات، پالیسی میں تبدیلیاں، ترقیاتی اور انتظامی اقدامات بھی شروع کیے جانے ہیں۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس پرفارمنس ایگرمینٹ سے حکومت کو اپنی کارکردگی کا ٹریک ریکارڈ رکھنے میں بھی آسانی ہوگی جب کہ یہ معاہدہ ملک میں سول سروسز میں کی جانے والی اصلاحات کا ایک حصہ ہے۔ جس کا مقصد وفاقی حکومت کے اداروں اور وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

پاکستان طرزِ حکمرانی میں نچلے نمبروں پر

پاکستان میں حکومتی اداروں میں اصلاحات نافذ کرنے اور اس کے لیے مختلف سطح پر پالیسی لانے کے لیے گزشتہ کئی برس سے کوشش کی جا رہی ہے۔

سابق سیکریٹری خزانہ اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے رکن عبد الواجد رانا نے 2019 میں پیش کیے گئے اپنے ریسرچ پیپر ’سول سروسز ریفارمز اِن پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ورلڈ بینک کے گورننس انڈیکٹرز میں دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی فہرست میں، جیسے ترکی، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، بھارت، چین اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں، سب سے نیچے رہا ہے اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے سب سے اہم چیز اہل اور پیشہ وارانہ بیور کریسی ہوتی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے برخلاف پاکستان میں بیوروکریسی میں اصلاحات کا عمل تاخیر کا شکار رہا ہے حالاں کہ یہاں 2006 میں قومی کمیشن برائے حکومتی اصلاحات قائم کیا جا چکا تھا۔

انہوں نے اپنے مقالے میں کہا ہے کہ طاقت کا عدم توازن، حد سے زیادہ مرکزیت رکھنے والے بیوروکریسی کے ادارے اور کمزور جمہوری ادارے اس کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے بعد بعض غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ریاستی فرائض انجام دیے جانے، ضرورت سے زیادہ اور غیر ہنرمند ملازمین کی بھرتی، نو آبادیاتی قوانین، سیاسی مداخلت، شفافیت کی کمی، احتساب کا کمزور نظام اور اصلاحات و تبدیلی کی مزاحمت اس کی بڑی وجہ قرار دی گئی ہیں۔

‘ضرورت صرف اصلاحات متعارف کرانا نہیں بلکہ ان کے نفاذ کی ہے’

سابق سیکریٹری داخلہ اور وفاقی سیکریٹری کامرس رہنے والے ملک کی سول سروس میں سب سے اعلیٰ گریڈ 22 میں ریٹائر ہونے والے تسنیم نورانی کے خیال میں حکومت کی جانب سے بیوروکریسی میں اصلاحات کا نظام متعارف کرانا تو ایک بہتر عمل ہے۔

ان کے خیال میں اگر ایک صاف اور قابل اعتماد نظام ہو جس میں سفارش کی گنجائش نہ ہو، اگر اس قسم کا کوئی نظام بن جائے تو بہتر ہے۔ لیکن ان کے بقول اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کا نظام اب تک بیوروکریسی میں بن نہیں پایا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح فوج میں ترقی کا دار و مدار مکمل طور پر ان کے بہتر ریکارڈ اور کارکردگی پر ہوتا ہے لیکن بیوروکریسی میں ایسی روایات اب تک نہیں بن سکی ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے نئے نظام کے تحت بیوروکریسی میں ایک بہتر نظام لایا جاسکے گا لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ اس پر کس قدر عمل درآمد ہوتا ہے۔

افسران کو دباؤ سے پاک بہتر ماحول کی ضرورت

تسنیم نورانی کا کہنا ہے کہ گورننس کی پیمائش کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کیوں کہ گورننس یا طرز حکمرانی کئی چیزوں کا مجموعہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے زمانے میں کسی افسر کے بارے میں اس کے سینئر افسران کا فیڈ بیک اور عوامی فیڈ بیک بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن اگر وزارتوں کو کوئی خاص اہداف بھی دیے جائیں تو اس میں مضائقہ نہیں ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے وزیرِ اعظم کے شکایات پورٹل کے نظام کی بھی تعریف کی کہ اس سے بہرحال کہیں نہ کہیں فائدہ ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس سے سرکاری افسر پر شکایت کو دور کرنے سے متعلق دباؤ ضرور پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس میں بھی بالآخر دیکھنا یہ ہوگا کہ بیوروکریسی کسی دھمکی پر کام نہ کریں بلکہ وہ ایک جذبے کے تحت کام کریں۔ اپنی کامیابی کے لیے کرے۔ اگر وہ ماحول نہیں دیا جائے گا تو ہوسکتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے بہتری تو آجائے مگر طویل مدت کے لیے بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

تسنیم نورانی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بعض اوقات ایسی اصلاحات کے نفاذ میں خود بیوروکریسی بھی رکاوٹ بنتی ہے اور مزاحمت کرتی ہے جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ان پر زیادہ بوجھ آئے گا یا ان پر سختی ہوسکے گی۔ لیکن اس میں پیمانہ یہی ہونا چاہیے کہ عام لوگوں کے کام نہ رُکیں۔ انہیں سہولت ہو اور شہریوں کو وہ سمت بتائی جائے کہ وہ اپنا کوئی مخصوص مسئلہ کیسے حل کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سرکاری افسر کے پاس مسئلے کے حل کے لیے اسے مطلوبہ طاقت دی بھی گئی ہے یا نہیں۔ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ مسائل کے حل کے لیے دی گئی وہ طاقت اس کے بجائے ایم این اے، ایم پی اے یا کسی اور نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی میں اصلاحات انتہائی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہے۔ اس کے سادہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ اخبارات کی شہہ سرخیاں تو بنا دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ اصلاحات تبھی ثمر آور ثابت ہوسکتی ہیں جب عام شہری کہیں کہ اس سے ان کا فائدہ ہورہا ہے۔

بیوروکریسی میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں

حال ہی میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا ہے کہ اداراہ جاتی اصلاحات میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ ان اداروں کو کس طرح فعال بنایا جائے، ان کی مالی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات لائی جارہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی بار ایسا اسٹرکچر بنایا گیا ہے کہ ہر وزارت کے مقاصد، اہداف، کیا ہوں گے، ان کے نمایاں پرفارمنس انڈیکٹرز کیا ہوں گے، پھر ان کا سہہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا۔ جب کہ سال کے آخر میں وزیرِ اعظم ہر وزیر کے ساتھ ان کی وزارت کے اہداف اور کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں کوئی اچھا کام کر رہا ہے اور کسی کی کارکردگی خراب ہے تو ان دونوں میں کوئی تفریق نہیں تھی لیکن اب اس نظام کو ختم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ترقی کے وقت صرف ان لوگوں کے کیسز پر غور کیا جائے گا جن کی کارکردگی بہت ہی اچھی رہی یا ان کی کارکردگی قابل اطمینان ہوگی۔ پرفارمنس کے 40 فی صد نمبر، ٹریننگ کے 30 فی صد اور سلیکشن بورڈ کے 30 نمبر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنیارٹی سول سرونٹ کا حق نہیں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اصلاحات کا یہ نظام بہت ہی انقلابی ہو گا جس سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

ان اصلاحات کے تحت وفاقی اداروں کی تعداد 441 سے کم کر کے 307 کردی گئی ہے۔ جس سے اخراجات پر کنٹرول کرنے کے ساتھ اداروں کی استعدادکار بڑھے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے نتائج چند ماہ یا چند برس میں نہیں بلکہ کئی برسوں کے بعد نظر آئیں گے۔

ادھر عبدالواجد رانا کے مطابق سول بیورو کریسی میں اصلاحات فوری تبدیلیوں کے بجائے مجموعی نوعیت کی مگر ٹائم فریم کے ساتھ نافذ کی جائیں۔ اس کا دائرہ کار وفاقی، صوبائی اور مقامی تینوں سطح تک کیا جائے۔

Photo Credit : https://dailytimes.com.pk/assets/uploads/2020/08/31/305354_4134984_updates-1280×720.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.